کووِڈ 19 کے باعث پاکستان میں تعلیمی بدحالی 79 فیصد تک بڑھ جانے کا امکان

اپ ڈیٹ 26 اکتوبر 2020

ای میل

رپورٹ میں تجویز دی گئی کہ مواصلات کو توسیع دے کر فاصلاتی تعلیم تک رسائی بہتر بنائی جائے—فائل فوٹو: اے ایف پی
رپورٹ میں تجویز دی گئی کہ مواصلات کو توسیع دے کر فاصلاتی تعلیم تک رسائی بہتر بنائی جائے—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: عالمی بینک کی نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کی وجہ سے اسکولوں کی بندش کے نتیجے میں پاکستان میں تعلیمی بدحالی 79 فیصد بڑھ جائے گی۔

تعلیمی بدحالی کے معنی ہیں کہ 10 سال کی عمر تک سادہ سی تحریر کو پڑھ اور سمجھ نہیں پانا، کم اور متوسط آمدن والے ممالک میں 53 فیصد بچے اپنی پرائمری اسکول کی تعلیم ختم ہونے تک سادہ سی کہانی پڑھ اور سمجھ نہیں پاتے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس شرح میں وہ بچے بھی شامل ہیں جو اسکولوں سے باہر ہیں اور وہ بھی جو اسکول کی تعلیم حاصل کرنے کے باوجود 10 سال کی عمر تک پڑھنا نہیں سیکھ پاتے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے نظام تعلیم پر وائرس کے اثرات، ورلڈ بینک کا 20 کروڑ ڈالر قرض دینے کا امکان

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تعلیمی بدحالی کی شرح پہلے ہی خاصی بلند یعنی 75 فیصد ہے۔

’کووِڈ 19 کے باعث اسکولوں کی بندش سے پاکستان میں تعلیمی نقصان‘ کے عنوان سے عالمی بینک کی رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ تخمینے پر پتھر پر لکیر نہیں اور حکومت کے تعاون کے ساتھ ڈیولپمنٹ پارٹنرز مناسب اقدامات اٹھا کر ان اعداد و شمار پر اثر ڈال سکتے ہیں بالخصوص اب جبکہ اسکول دوبارہ کھل گئے ہیں۔

ان اقدامات میں یہ یقینی بنانا کہ اسکول نہ چھوڑنے دیا جائے، اسکولوں میں داخلے کی ایک منظم مہم چلائی جائے اور داخلوں اور دوبارہ داخلوں پر رقم دی جائے، مسئلے کی اصل نوعیت جاننے کے لیے طلبہ کے ٹیسٹ کا استعمال کیا جائے اور اساتذہ کو طلبہ کی سطح پر تعلیم بہتر بنانے اور اس کی منصوبہ بندی میں سہولت فراہم کی جائے۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس سے جنوبی ایشیا کے لاکھوں لوگ غربت کا شکار

رپورٹ میں تجویز دی گئی کہ مواصلات کو توسیع دے کر فاصلاتی تعلیم تک رسائی بہتر بنائی جائے، ڈیوائس کی ملکیت اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ جب پروگرام دستیاب ہو تو بچوں کے اہل خانہ اس بات سے واقف ہوں۔

اس کے علاوہ مواد کو مزید ترقی دے کر فاصلاتی تعلیم کا معیار بہتر بنایا جائے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ کووِڈ 19 کے آغاز سے پاکستان نے فاصلاتی تعلیم میں معاونت کے لیے ایک بہترین انفرا اسٹرکچر قائم کیا تاہم عالمگیر اپیل کے باوجود فاصلاتی تعلیم ہر ایک کے لیے قابل رسائی نہیں ہے۔

پاکستان میں اکثر گھروں میں ٹیلی ویژن دستیاب ہے لیکن عالمی سطح پر قابل رسائی سے کوسوں دور ہے حتیٰ کہ ٹیکنالوجی کے سادہ سے آلات مثلاً ریڈیو بھی باقاعدگی سے استعمال نہیں ہوتے۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: 6 کروڑ افراد کے انتہائی غریب ہونے کا خطرہ ہے، عالمی بینک کا انتباہ

رپورٹ میں کہا گیا کہ ایک اندازے کے مطابق مزید 9 لاکھ 30 ہزار بچوں کی پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں سے نکلنے کا اندیشہ ہے جبکہ 2 کروڑ 20 لاکھ بچے پہلے ہی اسکولوں سے باہر ہیں اور اس کے بعد اس میں 4.2 فیصد اضافہ ہوجائے گا۔

عالمی سطح پر پاکستان وہ ملک ہے جہاں کووِڈ 19 سے پیدا ہونے والے بحران کے سبب اسکولوں کو چھوڑنے سے شرح سب سے زیادہ ہے۔