پاکستانی خواتین میں بریسٹ کینسر کی خطرناک قسم کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، تحقیق

26 اکتوبر 2020

ای میل

یہ بات ایک تحقیق میں سامنے آئی — فوٹو بشکریہ رٹگیورز یونیورسٹی ویب سائٹ
یہ بات ایک تحقیق میں سامنے آئی — فوٹو بشکریہ رٹگیورز یونیورسٹی ویب سائٹ

پاکستانی خواتین میں کم عمری میں چھاتی کے سرطان کی زیادہ خطرناک اقسام کی تشخیص ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

رٹگیورز اسکول آف پبلک ہیلتھ اور رٹگیورز کینسر انسٹیوٹ کی اس تحقیق کے دوران 1990 سے 2014 کے دوران پاکستانی اور بھارتی خواتین کے ساتھ سفید فام خواتین میں بریسٹ کینسر کی شرح کا جائزہ لیا گیا۔

طبی جریدے انٹرنیشنل جرنل آف کینسر میں شائع تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پاکستانی اور بھارتی خواتین میں بریسٹ کینسر کی زیادہ سنگین اقسام کی تشخیص جوانی میں ہونے کا امکان دیگر کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے پاکستانی اور بھارتی خواتین میں بریسٹ کینسر کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں اور یہ عندیہ ملتا ہے کہ ان میں اس جان لیوا بیماری کا باعث بننے والے عناصر کو بہتر طریقے سے مجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

تحقیق کے مطابق امریکا میں جنوبی ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والی خواتین میں بریسٹ کینسر کی شرح بہت زیادہ ہے مگر اب تک سماجی و ثقافتی طور پر منفرد اقوام میں اس بیماری کے بارے میں زیادہ تفصیلات موجود نہیں تھیں۔

تحقیق میں 2000 سے 2016 کے دوران لگ بھگ 5 ہزار پاکستانی و بھارتی خواتین اور 4 لاکھ 82 ہزار سے زائد سفید فام خواتین میں اس جان لیوا بیماری کی خصوصیات، علاج اور بچنے کے ڈیٹا کو دیکھا گیا جن میں بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔

محققین نے دریافت کیا کہ ماضی میں پاکستانی اور بھارتی خواتین میں بریسٹ کینسر میں مبتلا ہونے کی شرح سفید فام خواتین سے کم تھیں مگر حالیہ برسوں میں ان میں اس بیماری کی تشخیص کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ پاکستانی اور بھارتی خواتین میں بریسٹ کینسر کی تشخیص کا امکان کم عمری میں زیادہ ہوتا ہے اور وہ بھی زیادہ ایڈوانس اسٹیج پر۔

گزشتہ ہفتے ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق ہرسال 50 ہزار خواتین بریسٹ کینسر کی وجہ سے موت کا شکار ہوجاتی ہیں، جو ایشیا میں بریسٹ کینسر کا شکار ہونے والی خواتین کی سب سے زیادہ شرح ہے جبکہ سالانہ اس بیماری کے 90 ہزار نئے کیسز رپورٹ ہورہے ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ بات ماہرین نے جامعہ کراچی میں منعقدہ ایک سیمنار میں بتائیں، جو پنک پاکستان ٹرسٹ (پی پی ٹی) کے تعاون سے منعقد کیا گیا تھا۔

اس موقع پر پنک پاکستان ٹرسٹ کی بانی اور صدر ڈاکٹر زبیدہ قاضی کا کہنا تھا کہ بریسٹ کینسر کی ابتدائی تشخیص اور عوامی آگاہی مہم کے بعد سے پوری دنیا میں اس کے کیسز میں 30 فیصد تک کمی آئی ہے تاہم پاکستان اور ایشیا کے دیگر ممالک میں یہ بیماری بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے جس کہ بنیادی وجہ آگاہی اور کینسر کی تشخیص کے لیے سہولیات کی کمی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر ہر 9 میں سے ایک خاتون بریسٹ کینسر کا شکار ہوجاتی ہے۔

پنک پاکستان ٹرسٹ کی صدر کے بقول ملک میں 49 فیصد آبادی خواتین پر مشتمل ہے، جن میں 40 سے 45 سال کی عمر کی 30 لاکھ خواتین ہیں جنہیں اس مرض سے زیادہ خطرہ ہے۔

ڈاکٹر زبیدہ قاضی کا پاکستان میں بریسٹ کینسر کے کیسز کی تعداد کے بارے میں ڈبلیو ایچ او اور دیگر تنظیموں کے اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا کہ ’پاکستانی خواتین میں بریسٹ کینسر جلد کے کینسر کے بعد دوسرا عام کینسر ہے، یہاں تک کہ اب ہم نوجوان لڑکیوں میں بریسٹ کینسر کی ایڈوانس اسٹیجز بھی دیکھ رہے ہیں جس کے باعث تشخیص پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں‘۔

ڈاکٹر زبیدہ کا کہنا تھا کہ بریسٹ کینسر کے لیے بڑا خطرہ خاندان میں اس بیماری کا پایا جانا ہے۔