ہندوستان خطے میں ریاستی دہشت گردی کا مرکز ہے، دفتر خارجہ

اپ ڈیٹ 29 اکتوبر 2020

ای میل

پاکستان نے امریکا اور بھارت کی جانب سے دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کے مطالبے کے بیان کی مذمت کی— فائل فوٹو بشکریہ ریڈیو پاکستان
پاکستان نے امریکا اور بھارت کی جانب سے دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کے مطالبے کے بیان کی مذمت کی— فائل فوٹو بشکریہ ریڈیو پاکستان

اسلام آباد: امریکا اور بھارت کی جانب سے مشترکہ طور پر پاکستان سے دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کے مطالبے پر دفتر خارجہ نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے دہلی کے اتحادیوں سے کہا ہے کہ وہ خطے میں سیکیورٹی کے معاملات پر بھارتی پروپیگنڈے میں نہ آئیں اور ہندوستان خطے میں ریاستی دہشت گردی کا مرکز ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق دفتر خارجہ نے امریکا اور بھارت کے بیان کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ اہم ہے کہ شراکت دار ممالک جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کے امور پر ایک معقول نظر رکھیں اور یک طرفہ اور زمینی حقائق سے ماورا معاملات کی توثیق سے باز رہیں۔

مزید پڑھیں: بھارت: ’نفرت انگیز مواد’ کے الزام پر دباؤ کے باعث فیس بک لابنگ ایگزیکٹو نے عہدہ چھوڑ دیا

امریکا اور بھارت نے سالانہ وزارتی سطح کے مذاکرات کی تیسری نشست کے بعد جاری کردہ اپنے مشترکہ بیان میں پاکستان سے دہشت گردی کے انسداد کے لیے 'ٹھوس کارروائی' کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

امریکا اور بھارت کے بیان میں کہا گیا تھا کہ وزرا نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری، مستقل اور ناقابل واپسی کارروائی کرے تاکہ اس بات کا یقین کیا جاسکے کہ اس کے زیر اقتدار کوئی بھی علاقہ دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال نہ ہو۔

مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکا اور ہندوستان کے وزرائے خارجہ اور دفاع نے دہشت گردوں کی جانب سے دوسروں کی سرزمین استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کی ہر شکل میں شدید مذمت کی۔

امریکا اور بھارت نے اپنے بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک تعاون کے ایک حصے کے طور پر دوطرفہ انسداد دہشت گردی مشترکہ ورکنگ گروپ اور عہدہ طے کرنے والے مذاکرات کے ذریعے سلامتی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

یہ بھی پڑھیں: کاروباری مفادات کے سبب فیس بک بی جے پی کے نفرت آمیز مواد کے خلاف کارروائی سے گریزاں

دفتر خارجہ نے کہا کہ اس نے امریکا اور بھارت کی جانب سے جاری کیے گئے مشترکہ بیان میں پاکستان کے حوالے سے 'غیر ضروری اور گمراہ کن' بیان کو مسترد کردیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مشترکہ بیان 'انتخابی اور یکطرفہ' تھا اور اس میں پاکستان کے بارے میں کیے گئے دعوے 'اعتراضات کے معیار' پر پورا نہیں اترتے ہیں۔

دفتر خارجہ نے امریکا پر عالمی ذمے داریوں سے پہلو تہی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اگست 2019 کے بعد بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں مقبوضہ علاقے کے الحاق کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی صورتحال پر توجہ دینے میں ناکام رہا۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں بھارت کا ایک اور متنازع قانون، غیر کشمیریوں کو زمین خریدنے کی اجازت

اس سلسلے میں کہا کہ مشترکہ بیانات میں نہایت خوشگوار انداز اپنانے سے یہ حقیقت چھپ نہیں سکتی کہ ہندوستان ہی غیرقانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر سمیت خطے میں ریاستی دہشت گردی کا اعصابی مرکز ہے، اس کے علاوہ مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز رویہ اپنانے والوں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ ہے۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں سے دنیا کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے، قابض فوجیوں کے ذریعے وہ خود کو دہشت گردی کا ایک 'شکار' بنا کر پیش کر رہا ہے لیکن ہندوستان ایسی تدبیروں سے دنیا کو دھوکا نہیں دے سکتا۔