ایک سال میں 300 کتابیں پڑھنے والا 11 سالہ بچہ

اپ ڈیٹ 30 اکتوبر 2020

ای میل

دبئی کے بچے نے عرب ریڈنگ کا مقابلہ بھی جیت رکھا ہے—فائل فوٹو: شٹر اسٹاک
دبئی کے بچے نے عرب ریڈنگ کا مقابلہ بھی جیت رکھا ہے—فائل فوٹو: شٹر اسٹاک

عین ممکن ہے کہ کتابوں کے شوقین افراد اپنی پسند کی کسی کتاب کو نصف یا ایک دن یا زیادہ سے زیادہ دو دن میں مکمل کر لیتے ہوں۔

لیکن متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی ریاست دبئی کا 11 سالہ بچہ ایسا بھی ہے جو بعض کتابوں کو محض 4 گھنٹوں میں پڑھ کر مکمل کرلیتا ہے اور وہ ایک ہی دن میں 2 یا کبھی کبھار تین کتابیں پڑھ کر مکمل کر لیتا ہے۔

جی ہاں، دبئی کا 11 سالہ طالب علم سلطان علی مزروئی یومیہ کم از کم ایک اور سال بھر میں 300 کتابیں پڑھنے والا ہونہار کم عمر بچہ ہے۔

عرب اخبار گلف نیوز کے مطابق سلطان علی مزروئی نے حال ہی میں متحدہ عرب امارات میں ہونے والے کتابیں پڑھنے کے مقابلے عرب ریڈنگ چیلنج میں شرکت کرکے مقامی مقابلہ بھی جیتا۔

سلطان علی مزروئی کی عمر محض 11 سال ہے اور وہ ابھی مڈل اسکول کے طالب علم ہیں مگر گھر میں انتہائی بڑی لائبریری کی سہولت موجود ہونے اور والدین کی جانب سے مطالعے کی حوصلہ افزائی کرنے کے باعث وہ حیران کن رفتار کے ساتھ کتابیں پڑھ کر پوری کرتے ہیں۔

سلطان علی مزروئی کے دیگر اہل خانہ بھی مطالعے کے شوقین ہیں—فوٹو: گلف نیوز
سلطان علی مزروئی کے دیگر اہل خانہ بھی مطالعے کے شوقین ہیں—فوٹو: گلف نیوز

سلطان علی مزروئی نے گزشتہ ایک سال میں سیاست، فلسفے، تاریخ، طب، ٹیکنالوجی اور مذہب سمیت دیگر مشکل موضوعات پر 300 کتابیں پڑھ کر پوری کیں۔

یہ بھی پڑھیں: شیکسپیئر کی پہلی کتاب ایک کروڑ ڈالر میں نیلام

سلطان علی مزروئی نے جہاں سال کے 365 دنوں میں 300 کتابیں پڑھ کر پوری کیں، وہیں انہوں نے کچھ کتابوں میں مشکل جملے آنے پر موبائل اور کمپیوٹر کا استعمال کرکے ان کی تشریح بھی سمجھی۔

11 سالہ بچے کے مطابق وہ یومیہ 8 سے 12 گھنٹے تک مطالعہ کرتے ہیں، ساتھ ہی وہ دوسری سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سلطان علی مزروئی گھر کے واحد فرد نہیں ہیں جو زیادہ تر وقت مطالعے میں صرف کرتے ہیں بلکہ ان کی دو جڑواں بہنیں اور والدین بھی زیادہ تر وقت کتابیں پڑھنے میں ہی گزارتے ہیں۔

سلطان علی مزروئی کے والدین نے گھر میں بہت بڑی لائبریری بنا رکھی ہے، جس میں ہر طرح کے موضوعات پر بہت ساری کتابیں موجود ہیں۔

سلطان علی مزروئی کے مطابق ان کا خاندان بعض اوقات ایک جیسی ہی کتابیں پڑھ کر ان کے مواد پر بحث بھی کرتا ہے۔