اسلام آباد: کورونا وائرس کے ٹیسٹ کیلئے روبوٹ لائبریری کا افتتاح

اپ ڈیٹ 13 نومبر 2020

ای میل

برطانوی ہائی کمشنر کرسچین ٹرنر—فوٹو: برطانوی ہائی کمیشن ٹوئٹر
برطانوی ہائی کمشنر کرسچین ٹرنر—فوٹو: برطانوی ہائی کمیشن ٹوئٹر

پاکستان میں کورونا وائرس کے ٹیسٹ کی تعداد میں اضافے کے لیے برطانیہ کی کمپنی فیوچر ٹرسٹ اینڈ اوپینسل کے تعاون سے روبوٹ کے ذریعے کووڈ-19 ٹیسٹ کی پہلی لیبارٹری کا افتتاح کردیا گیا۔

پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر کرسچین ٹرنر نے اسلام آباد میں فیوچر لیبارٹری کا افتتاح کیا جہاں روزانہ 2 ہزار ٹیسٹ کیے جاسکتے ہیں۔

غیر منافع بخش تنظیم (این پی او) فیوچر ٹرسٹ نے جے ایس گروپ کے ساتھ مل کر پاکستان میں لیبارٹری قائم کی جس کے لیے برطانیہ کی اوپینسل کی تیار کردہ ٹیکنالوجی استعمال کی گئی۔

مزید پڑھیں: برطانیہ کا کورونا سے لڑنے کیلئے پاکستان کو 26 لاکھ پاؤنڈ فراہم کرنے کا اعلان

رپورٹ کے مطابق این پی او غربت کے باعث پیدا ہونے والے مسائل کی داد رسی کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنا چاہتی ہے۔

موبائل کووڈ-19 بائیو سیفٹی کے لیول ٹو پلس سہولت سے آراستہ ہے اور آئی ایس او 15189 کے اسٹینڈرڈ کے مطابق تعمیر کی گئی ہے اور کووڈ-19 آر ٹی-کیو پی سی آر ٹیسٹ کی صلاحیت رکھتی ہے۔

جدید ٹیکنالوجی سے لیس لیبارٹری میں 5 روبوٹ کام کریں گے اور ان کو آپریٹ کرنے کے لیے مختلف اوقات میں 6 افراد کی خدمات لی جائیں گی۔

کرسچین ٹرنر نے افتتاحی تقریب سے خطاب میں اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ لیبارٹری ‘برطانیہ اور پاکستان کے عوام کے درمیان قائم رشتے کی واضح مثال ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘برطانیہ کو کووڈ-19 سے نمٹنے کی خاطر ویکسین کی تیاری اور عالمی سطح پر تقسیم جیسے اقدامات کے لیے صف اول میں کام کرنے پر فخر ہے’۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ ‘یو کے ایڈ کے ذریعے پاکستان کو وسیع پیمانے پر کووڈ ریلیف فراہم کرنے پر’ خوش ہے۔

برطانوی ہائی کمشنر نے بیرونی سرمایہ کاری کے اعزازی سفیر علی جہانگیر صدیقی کا ‘منصوبے کے حوالے سے فعال کردار ادا کرنے’ پر شکریہ ادا کیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں انہوں نے وزیراعظم کےمعاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان، اوپنسل یوکے اور جے ایس گروپ کو ‘پاکستان میں بہترین خود کار لیبارٹری’ قائم کرنے پر مبارک باد دی۔

تقریب میں موجود علی جہانگیر صدیقی نے منصوبے کے لیے تعاون پر ٹرنر کا شکریہ ادار کیا اور کہا کہ ‘پاکستان اور برطانیہ کی کمپنیوں کی شراکت داری کی اہمیت صرف اس لیے نہیں کہ دونوں ممالک قریب ہیں بلکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لائف سائنسز میں شراکت داری ہے جس کی اس وقت دنیا کو ضرورت ہے’۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس، برطانیہ میں معمولات زندگی کیسے ہیں؟

فیوچر لیبارٹری کے شعبہ مالیکیولر بیالوجی کے سربراہ ڈاکٹر عظیم بٹ نے بھی دونوں کمپنیوں کی شراکت داری کا خیر مقدم کیا۔

ڈاکٹر عظیم بٹ کا کہنا تھا کہ ‘کووڈ-19 سے جنگ میں سائنس کے میدان میں جدت پر کام کے لیے جے ایس بینک اور فیوچر ٹرسٹ جیسی تنظیموں کا تعاون باعث اطمینان ہے’۔

جے ایس بینک نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ ‘فیوچر لیبارٹری کے افتتاح میں شراکت داری پر ہمیں خوشی ہے’ اور اس سے ملک میں ٹیسٹ کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔

پاکستانی حکام ملک میں کورونا کے کیسز میں اضافے پر دوسری لہر کے حوالے سے خبردار کرچکے ہیں اور ٹیسٹ کی شرح میں اضافہ کرنے پر بھی توجہ دے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان میں 26 فروری کو پہلا کیس سامنے آیا تھا جس کے بعد اپریل میں برطانیہ سے کورونا سے متعلق اقدامات کے لیے پاکستان 26 لاکھ پاؤنڈ فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

پاکستان میں اس وقت کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 3 لاکھ 49 ہزار 992 ہے جبکہ کورونا سے 7 ہزار 55 اموات ہوئی تاہم 3 لاکھ 20 ہزار 849 افراد صحت یاب ہوئے۔