اسلام آباد: ڈرائیورز نہ ہونے پر پارکنگ میں کھڑی اسکولز، کالجز کی بسیں زنگ آلود ہونے لگیں

اپ ڈیٹ 16 نومبر 2020
یہ بسیں 2 سال قبل خریدی گئی تھیں—فائل فوٹو
یہ بسیں 2 سال قبل خریدی گئی تھیں—فائل فوٹو

اسلام آباد: فیڈرل ڈائریکٹریٹ آف ایجوکیشن (ایف ڈی ای) اور وزارت تعلیم نے سال 2018 میں وزیراعظم کے تعلیمی اصلاحات پروگرام کے تحت خریدی گئیں 200 بسوں کو چلانے کے لیے اب تک ڈرائیورز کی خدمات حاصل نہیں کیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ بسیں ڈرائیورز اور دیگر عملے کے منظور شدہ عہدوں اور ایندھن (فیول) کی سہولت کے لیے منظوری حاصل کیے بغیر جلد بازی میں خریدی گئی تھیں۔

اس حوالے سے حال ہی میں تعینات ہونے والے ایف ڈی ای کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر اکرام علی ملک کو ایک بریفنگ میں آگاہ کیا گیا کہ بہت سی بسیں بغیر استعمال ہوئے مختلف تعلیمی اداروں میں کھڑی ہیں کیونکہ اسکولز اور کالجز کے پاس ڈرائیورز اور انہیں چلانے کے لیے فیول نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: تعلیمی اداروں کا کھلنا اور والدین کی بڑھتی پریشانی!

انہوں نے ڈان کو بتایا کہ مجھے بتایا گیا کہ ’وزارت تعلیم نے اس معاملے کو دیکھنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، جس نے بسوں کو چلانے کے لیے مختلف آپشن تجویز دیے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ایف ڈی ای اور وزارت طلبہ کے بہتر مفاد میں اس مسئلے کو جلد حل کرے گی۔

دوسری جانب ذرائع کا کہنا تھا کہ بسوں کو عہدوں اور ایندھن کے لیے بجٹ کی منظوری حاصل کرنے کے بعد خریدا جانا چاہیے تھی لیکن اس وقت کی مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے صرف بسوں کی خریداری کی۔

علاوہ ازیں وزیر تعلیم شفقت محمود نے ڈان کو بتایا کہ اس معاملے پر تشکیل دی گئی کمیٹی نے کچھ آپشنز تجویز کیے تھے جو زیر غور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے اپنے ابتدائی مسودے میں حکومت سے نئے عہدوں کی منظوری کی تجویز دی تھی تاکہ وہ آپریشن شروع کرے یا اپنے آپریشن کو آؤٹ سورس (بیرونی ذرائع) کو دے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ حتمی فیصلہ ابھی نہیں لیا گیا کیونکہ کمیٹی دیگر آپشنز پر بھی غور کررہی ہے لیکن ذاتی طور پر میں بسوں کو بیرونی ذرائع سے چلانے کے حق میں نہیں۔

وزیر تعلیم نے کہا کہ جلد ہی یہ معاملہ حل ہوجائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ملک بھر کے پرائمری اسکولز میں 7 ماہ بعد تعلیمی سرگرمیاں بحال

دوسری جانب زیادہ تر تعلیمی اداروں نے یومیہ اجرت والے ڈرائیورز اور کلینئرز کے ذریعے عارضی انتظامات کے تحت بسوں کو چلانا شروع کیا تھا۔

تاہم بعد ازاں زیادہ تر نے اس سروس کو بند کردیا، جن اداروں میں بس سروس موجود ہے وہاں بچے 500 سے 1000 روپے ماہانہ فیس ادا کرتے ہیں جس کے باعث اسکولز اور کالجز کے لیے عارضی ڈرائیوروں کی تنخواہیں اور ایندھن کا خرچ قابل برداشت ہے۔

ایف ڈی ای میں موجود ذرائع کا کہنا تھا کہ وزارت کے پاس سب سے بہتر آپشن یہ موجود ہے کہ وہ مستقل ڈرائیوروں اور کلینرز کی منظوری دے اور طلبہ سے سبسیڈائزڈ ریٹ لیے جائیں اور اس رقم کو ایندھن کے خرچ پر استعمال کیا جائے۔


یہ خبر 16 نومبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی

تبصرے (0) بند ہیں