پنجاب کے 6 شہروں کے مختلف علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ

اپ ڈیٹ 19 نومبر 2020

ای میل

انہوں نے بتایا کہ بھکر میں گلشن مدینہ اور محلہ خورشید شاہ کے علاقوں کو بند کیا گیا 
— فائل فوٹو: اے ایف پی
انہوں نے بتایا کہ بھکر میں گلشن مدینہ اور محلہ خورشید شاہ کے علاقوں کو بند کیا گیا — فائل فوٹو: اے ایف پی

کورونا وائرس کی دوسری لہر کے پیش نظر پنجاب کے 6 شہروں کے مختلف علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن لگا دیا گیا ہے۔

اس ضمن میں پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے سیکریٹری کیپٹن (ر) محمد عثمان نے بتایا کہ زیادہ کورونا ٹیسٹ مثبت آنے والوں علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن لگایا جارہا ہے۔

مزید پڑھیں: صوبوں کو 24 نومبر سے 31 جنوری تک تعلیمی ادارے بند رکھنے کی تجویز

انہوں نے بتایا کہ لاہور میں بلاک F1 ویلنشیا ٹاؤن، پیراگون سٹی، بلاک جی 2، 4، 5، ایف 1، 2، 3 جوہر ٹاؤن، بوائز ہوسٹل نمبر11، سپرنٹنڈنٹ ہاؤس پنجاب یونیورسٹی میں اسمارٹ لاک ڈاؤن لگا دیا گیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ڈی ایج اے فیز 4 سیکٹر AA،BB،CC،FF، فیز 3 سیکٹر XX، فیز 1سیکٹر N، بلاک اے بی، ایف سی سی گلبرگ 4 کے علاقوں کو بھی بند کردیا گیا ہے۔

کیپٹن (ر) محمد عثمان نے بتایا کہ ملتان میں جلیل آباد، ریلوے روڈ، گلگشت کالونی، خان ویلج ہاؤسنگ سوسائٹی، گارڈن ٹاؤن میں اسمارٹ لاک ڈاؤن لگایا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ بھکر میں گلشن مدینہ اور محلہ خورشید شاہ کے علاقوں کو بند کیا گیا ہے۔

سیکریٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر نے بتایا کہ راولپنڈی میں سیکٹر C، فیز 1ڈے ایج اے، گلشن آباد، اسٹریٹ 10 ہالی روڈ، بلاک B4 علامہ اقبال اسٹریٹ، مسلم ٹاؤن اور فیز 3 بحریہ ٹاؤن کے علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن لگایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بہاولپور میں گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج بغداد روڈ، ہاشمی گارڈن، ٹاؤن اے ماڈل ٹاؤن، سیٹلائٹ ٹاؤن، نیو صادق کالونی کو بند کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: اسکولوں کو بند کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ آئندہ ہفتے کریں گے، وزیراعظم

کیپٹن (ر)محمد عثمان نے کہا کہ گلی نمبر1،2محلہ قاسم پارک، گورنمنٹ ایم سی بوائز اسکول کے گرد و نواح کا علاقہ، بلاک اے سیٹلائٹ ٹاؤن میں اسمارٹ لاک ڈاؤن لگا دیا گیا۔

سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر نے کہا کہ لاک ڈاؤن والے علاقوں میں تمام شاپنگ مالز، ریسٹورانٹ، نجی و سرکاری دفاتر بند رہیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ علاقہ مکینوں کی نقل و حمل محدود ہو گی اور انتہائی ضرورت کے پیش نظر ایک فرد ایک سواری استعمال کر سکے گا۔

کیپٹن (ر) محمد عثمان نے کہا کہ ہر قسم کے اجتماعات پر مکمل پابندی ہو گی۔

کیپٹن(ر)محمد عثمان نے کہا کہ تمام میڈیکل سروسز، فارمیسی، میڈیکل اسٹور، لیبارٹریاں، کولیکشن پوائنٹس، ہہسپتال اور کلینکس 24 گھنٹے کھلے رہے گے۔

علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ ملک شاپ، چکن اور گوشت/مچھلی کی دکانیں اور بیکریاں صبح 7 سے شام 7 بجے تک کھلی رہیں گی۔

مزیدپڑھیں: آزاد کشمیر میں 22 نومبر سے لاک ڈاؤن کا فیصلہ

کیپٹن(ر) محمد عثمان نے کہا کہ سبزی کی دکانیں، جنرل اسٹورز، آٹا چکیاں، فروٹ، سبزی کی دکانیں، تندور اور پیڑول پمپس 9 بجے سے شام 7 بجے تک کھلے رہیں گے۔

سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر نے کہا کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کا مقصد کورونا سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں سے لوگوں کی آمد و رفت کو محدود کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن سے ہی کورونا سے زیادہ لوگوں کو متاثر ہونے کے خطرے سے بچایا جاسکتا ہے۔

سیکریٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر نے کہا کہ احتیاط نہ کرنے سے کورونا وائرس دوبارہ تیزی سے پھیل سکتا ہے۔

خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے پیش نظر حکومت نے ایس او پیز پر عمل در آمد پر سختی کرنے پر زور دیا ہے۔

وفاقی وزارت تعلیم نے تعلیمی سیشن کو 31 مئی تک توسیع دینے کی تجویز دیتے ہوئے صوبوں سے کہا ہے کہ 24 نومبر سے 31 جنوری تک تعلیمی ادارے بند کردیے جائیں۔

مزید پڑھیں: ملک میں کورونا وائرس مزید 19 زندگیاں لے گیا، فعال کیسز کی تعداد 28 ہزار سے زائد

ذرائع کے مطابق وفاقی وزارت تعلیم نے کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے پر تعلیمی اداروں سے متعلق تجاویز صوبوں کو بھجوا دی ہی۔

علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے 16 نومبر کو اسلام آباد میں کووڈ-19 سے متعلق قومی رابطہ کمیٹی (این سی او سی) کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کیسز میں اضافے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ گزشتہ 14 دنوں کے دوران کیسز میں 4 گنا اضافہ ہو گیا ہے لیکن اسکولوں کو بند کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ آئندہ ہفتے کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک دن میں جہاں 6 سے 7 اموات ہورہی تھیں اب بڑھ کر 25 ہوگئی ہیں، اگر ایس او پیز پر عمل نہیں کیا گیا تو نتائج سنگین ہوسکتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ہم نے رواں ہفتے ہونے والے جلسے کو منسوخ کردیا اور دیگر سیاسی جماعتوں کو تاکید کریں گے کہ وہ بھی جلسے کے انعقاد سے گریز کریں۔

اسکولوں سے متعلق انہوں نے کہا تھا کہ اس ضمن میں آئندہ ہفتے تک فیصلہ کر لیں گے تاہم 'ابھی جائرہ لے رہے ہیں کہ اسکولوں سے کیسز کی تعداد خطرناک حد تک تو نہیں بڑھ رہی'۔