مالی سال21 میں جی ڈی پی میں 2.5 فیصد اضافہ ہوگا، اسٹیٹ بینک

اپ ڈیٹ 19 نومبر 2020

ای میل

رپورٹ کے مطابق مالی سال 21 میں 23ارب 40 کروڑ –23 ارب 80 کروڑ ڈالر کی برآمد ہوگی جو مالی سال 20 میں 22 ارب 50 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی - فائل فوٹو:رائٹرز
رپورٹ کے مطابق مالی سال 21 میں 23ارب 40 کروڑ –23 ارب 80 کروڑ ڈالر کی برآمد ہوگی جو مالی سال 20 میں 22 ارب 50 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی - فائل فوٹو:رائٹرز

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جاری کردہ معاشی کیفیت پر سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی طرف سے طے شدہ 2.1 فیصد کے ہدف کے مقابلے میں جی ڈی پی کی نمو مالی سال 21 میں 1.5-2.5 فیصد کی حدود میں رہے گی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس سالانہ بہتری کی توقع زراعت کی مستحکم کارکردگی اور خدمات کے شعبے خصوصاً فنانس اور انشورنس کی بحالی اور ٹرانسپورٹیشن اور کمیونکیشن کی وجہ سے ہے۔

تاہم رپورٹ میں کہا گیا کہ اس نمو کو خطرات کا سامنا ہے جن میں کورونا وائرس کے دوبارہ پھیلاؤ، انتہائی موسمی حالات، بیرونی طلب اور اصلاحات کے محاذ پر پیشرفت شامل ہے۔

مزید پڑھیں: اکتوبر میں بینک ڈپازٹ میں 20 فیصد اضافہ ہوا، اسٹیٹ بینک

رپورٹ میں کہا گیا کہ 'اس کے نتیجے میں جہاں 2021 میں تقریباً تمام شعبوں میں نمو کی توقع کی جارہی ہے وہیں خطرہ بھی زیادہ ہے'۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چند ممالک میں انفیکشن کی اعلیٰ شرح، امریکا میں بے روزگاری کے حوالے سے معاون اقدامات کی میعاد ختم ہونے اور چین کے ساتھ امریکی تجارتی تنازع کے تسلسل کی وجہ سے مجموعی طور پر عالمی معاشی نقطہ نظر بھی غیر یقینی ہے۔

پورے سال کے لیے اسٹیٹ بینک کو توقع ہے کہ مالی سال 21 میں 23 ارب 40 کروڑ –23 ارب 80 کروڑ ڈالر کی برآمدات ہوگی جو مالی سال 20 میں 22 ارب 50 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی۔

اسی طرح اسٹیٹ بینک کو توقع ہے کہ لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد معاشی سرگرمیوں میں متوقع اضافہ اور انوینٹریز کو بھرنے کے لیے اداروں کی کوششوں کو دیکھتے ہوئے پورے سال کی درآمدات گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ رہیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: گورنر اسٹیٹ بینک نے کراچی میں پہلے ‘شہری جنگل’ منصوبے کا افتتاح کردیا

رپورٹ میں کہا گیا کہ خاص طور پر تعمیراتی صنعت کے لیے مراعات اور ہاؤسنگ فنانس میں پیشرفت اسٹیل کی درآمد کو بحال کرے گی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس میں چند بہتری کی اُمیدیں بھی ہیں جن میں لاک ڈاؤن میں نرمی اور کورونا کے گرتے ہوئے کیسز کے بعد ملک میں کاروباری اعتماد میں اضافہ شامل ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 'جی 20 کے ڈیبٹ سروسنگ معطلی اقدام کے تحت پاکستان کو فراہم کی جانے والی 2 ارب 70 کروڑ ڈالر (جی ڈی پی کا فیصد کے برابر) کی قرض سے متعلق امداد سے کورونا سے متعلق اخراجات کے لیے جگہ پیدا کرنے میں مدد ملے گی'۔