کراچی سرکلر ریلوے جزوی بحال، شیخ رشید نے افتتاح کردیا

اپ ڈیٹ 19 نومبر 2020

ای میل

کراچی سرکلر ریلوے کو جزوی طور پر بحال کیا گیا ہے—فوٹو: ڈان نیوز
کراچی سرکلر ریلوے کو جزوی طور پر بحال کیا گیا ہے—فوٹو: ڈان نیوز

کراچی میں 20سال سے زائد عرصے سے بند کراچی سرکلر ریلوے (کے سی آر) کو جزوی طور پر بحال کردیا گیا اور وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے اس کا افتتاح کیا۔

اس موقع پر منعقدہ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کل (20 نومبر) کو کے سی آر میں مفت سفر کا اعلان کیا اور منصوبے سے متعلق بات چیت کی۔

شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ کے سی آر کے 50 روپے کرائے کا فیصلہ ہوا تھا لیکن میں اسے 30 روپے کرنے کا اعلان کرتا ہوں جبکہ مزدور اور محنت کش لوگ جو پاس بنوانا چاہیں وہ 750 روپے ماہانہ پر پاس بنوا سکتے ہیں۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مجھے اُمید ہے کہ حکومت سندھ کام کر رہی ہے اور انہوں نے ایف ڈبلیو او کو ٹھیکے دے دیے ہیں جبکہ ہم نے ٹریک کا سارا سامان کراچی پہنچا دیا ہے اور 15 دن بعد 14 کلومیٹر کا مزید افتتاح کریں گے اور اس عرصے میں ہم 12 پھاٹک بھی لگا لیں گے۔

مزید پڑھیں: کراچی پہنچنے والی کے سی آر کی کوچز میں کیا سہولیات موجود ہیں؟

تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ کل (20 نومبر) کو ہم اس ٹرین کو پہلے 2 دفعہ چلائیں گے، پھر 4 دفعہ اور بعد ازاں 10 دفعہ چلائیں گے، ہم 40 کوچز بنا رہے ہیں جس کی 15 کوچز آج لگائی جارہی ہیں، یہ تمام کوچز پاکستان ریلوے کے مزدوروں اور افسران نے بنائی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہاں بہت بڑا قبضہ مافیا ہے اور 25 برس میں کے سی آر کے ٹریک پر قبضہ مافیا چھا گیا ہے، ہم اسے خالی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ہم حکومت سندھ کے ساتھ مکمل رابطے میں ہیں اور جس طرح اس کے پل آتے جائیں گے ہم کے سی آر کو بڑھاتے جائیں گے۔

وزیر ریلوے شیخ رشید احمد—فوٹو: ڈان نیوز
وزیر ریلوے شیخ رشید احمد—فوٹو: ڈان نیوز

انہوں نے کہا کہ کراچی ایک مسائل زدہ شہر ہے اور ہم اس کوشش کریں گے کہ اس کے مسائل میں کمی آسکے جبکہ ہم ایک سال کے اندر کے سی آر کو ماڈرن کردیں گے۔

اس موقع پر ٹریک کو قبضہ مافیا سے خالی کرانے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا حکم حکومت سندھ کے لیے ہے، ہمیں کسی جماعت کی طرف سے سیاسی تعاون نہیں مل رہا، یہ حکومت سندھ کا کام ہے، گیلانی اسٹیشن اور دیگر پر قبضہ مافیا موجود ہے، تجوری ہائٹس تک ہم جارہے ہیں یہ سب ہماری زمینیں ہیں جس پر قبضے کیے ہوئے ہیں اور انشااللہ سال سے ڈیڑھ سال میں قبضہ خالی کرائیں گے۔

شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے جو حکم دیا ہے ہم اس پر عمل کرنے کی صدق دل سے کوشش کر رہے ہیں، 25 سال میں قبضے سے جگہ کا نقشہ ہی تبدیل ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی وجہ سے یہ کام چلا ہے، اس کا کریڈٹ عمران خان کو بھی جانا چاہیے اور جب ٹرین چلے تو اس کا کریڈٹ سندھ حکومت بھی لے سکتی ہے جبکہ کل (20 نومبر) کو اس کی سواری مفت ہوگی’۔

اسٹیشنز کی حالت سے متعلق شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ مجھے صرف 15 دن دے دیں، ہم نے 8 ماہ میں ان کوچز کو تیار کیا ہے۔

شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ 25 سال سے اس پر قبضہ ہے اور یہ قبضہ اتنا زیادہ ہے کہ ایک پلاٹ اگر فروخت کریں تو پاکستان ریلوے کا سارا خسارہ ختم ہوسکتا ہے۔

دوران گفتگو انہوں نے کہا کہ میں کے سی آر کی ساری کوچز تبدیل کرنا چاہتا تھا لیکن 3 مرتبہ ٹینڈر لگانے کے باوجود ایک پارٹی آئی، میں عمر کے اس حصے میں جیل جانا نہیں چاہتا، اگر 3 پارٹیاں آتی تو میں یہ ساری ٹرینیں تبدیل کردیتا۔

پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی 4 پارٹیوں کو اپنی فریٹ ویگنز کی نجکاری کردی ہے اور ہم 8 مسافر ٹرینوں کی نجکاری کرنے جارہےہیں اور جب کے سی آر مکمل تیار ہوگئی تو کوئی اسے لینا چاہے تو ہم کھلے دل سے اس کی نجکاری کریں گے۔

گلگت بلتستان کے انتخابات سے متعلق انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن گلگت بلتستان کے انتخابات نہیں مان سکتی تو پھر اس پاکستان میں کوئی الیکشن نہیں مانا جاسکتا، گلگت بلتستان میں تحریک انصاف 2 تہائی سے حکومت بنائے گی۔

وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ اس کے بعد کشمیر اور مارچ میں سینیٹ کے انتخابات ہیں، وزیراعظم چاہتے ہیں کہ اس انتخابات میں ہاتھ دکھا کر فیصلہ ہو تاکہ جو ٹکٹیں فروخت ہوتی ہیں وہ نہ ہوں۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اگر جلسوں سے حکومتیں بدلتیں تو ہم نے 126 دن تک جلسہ کیا تھا لیکن تب نہیں بدل سکی، جو بھی فوج کے خلاف بات کرتا ہے وہ عمران خان کی خدمت کر رہا ہے۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ابھی ہمارے پاس کے سی آر کو سی پیک میں شامل کیے جانے کی اطلاع نہیں ہے جبکہ 14 تاریخ تک اس ٹریک پر پھاٹکیں لگ چکی ہوں گے۔

کراچی سرکلر ریلوے کی ایک کوچ کی لاگت بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک، ایک کوچ 90 لاکھ روپے کی بنی ہے جبکہ اب تک 17 ملین (ایک کروڑ 70 لاکھ) لگ چکے ہیں جبکہ عمران خان نے ہمیں کے سی آر کے لیے ایک ارب 80 کروڑ روپے دیے ہیں۔

کراچی سرکلر ریلوے روٹ

ابتدائی طور پر کراچی سرکلر ریلوے کے 14 کلومیٹر کے صاف ٹریک پر کراچی سٹی ریلوے اسٹیشن سے مارشلنگ یارڈ پپری ریلوے اسٹیشن تک اپ اور ڈاؤن میں 2، 2 ٹرین چلائی جائے گی۔

گزشتہ دنوں پاکستان ریلوے نے ایک اعلامیہ میں بتایا تھا کہ پہلے فیز میں کراچی سٹی اور مارشلنگ یارڈ پپری کے درمیان چلائی جانے والی کراچی سرکلر ریلوے ٹرین کے اوقات کار میں تبدیلی کی گئی ہے اور اب کراچی سرکلر ریلوے ٹرین صبح 7بجے کراچی سٹی ریلوے اسٹیشن سے روانہ ہو کر کراچی کینٹ ،ڈیپارچر یارڈ، ، ڈرگ روڈ، ڈرگ کالونی، ایئرپورٹ ہالٹ، ملیر کالونی، ملیر، لانڈھی، جمعہ گوٹھ، بن قاسم اوربادل نالہ سے ہوتی ہوئی صبح 8بجکر 30منٹ پر مارشلنگ یارڈ پپری ریلوے اسٹیشن پہنچے گی۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی سرکلر ریلوے 3 مراحل میں بحال کی جائے گی، وفاقی وزیر

ریلوے کے مطابق دوسری دفعہ یہ ٹرین کراچی سٹی ریلوے اسٹیشن سے شام 5بجے روانہ ہو کر اسی روٹ سے ہوتی ہوئی شام 6 بج کر30 منٹ پر مارشلنگ یارڈ پپری ریلوے اسٹیشن پہنچے گی۔

اعلامیہ میں بتایا گیا تھا کہ اسی طرح کراچی سرکلر ریلوے ٹرین مارشلنگ یارڈ پپری ریلوے اسٹیشن سے صبح 7بجے روانہ ہو کر اسی روٹ سے ہوتی ہوئی صبح 8بجکر 30منٹ پر کراچی سٹی ریلوے اسٹیشن پہنچے گی جبکہ دوسری دفعہ مارشلنگ یارڈ پپری ریلوے اسٹیشن سے یہ ٹرین شام 4بج کر 30منٹ پر روانہ ہوکر شام 6 بجے کراچی سٹی ریلوے اسٹیشن پہنچے گی ۔

کے سی آر کوچز

واضح رہے کہ سفید اور نیلے رنگ کی کوچز پر سبز اور لال رنگ کی دھاریاں بنائی گئی ہیں جو اسے پاکستان ریلویز کی انٹرسٹی سبز ٹرینوں سے مکمل طور پر مختلف بناتی ہیں۔

تمام کوچز کا اندرونی حصہ سفید رنگ کا ہے جس میں مسافروں کے بیٹھنے کے لیے سنگل کے ساتھ ساتھ تین سیٹوں کا آپشن بھی موجود ہے جبکہ کوچز کے دروازے اور نشستیں نیلے رنگ کے ہیں۔

کے سی آر کوچ کا اندرونی منظر—فائل فوٹو: فہیم صدیقی/ وائٹ اسٹار
کے سی آر کوچ کا اندرونی منظر—فائل فوٹو: فہیم صدیقی/ وائٹ اسٹار

کوچز میں دونوں طرف بڑی ہوا دار کھڑکیاں موجود ہیں جبکہ اس میں ایئر-کنڈیشنڈ کی سہولت موجود نہیں ہے۔

ہر کوچ میں 100 مسافروں کے لیے گنجائش موجود ہے جن میں سے 64 مسافر بیٹھ کر جبکہ 36 مسافر کھڑے ہوکر سفر کرسکیں گے اور ان مسافروں کے پکڑنے کے لیے ہینڈل بھی موجود ہیں۔

خیال رہے کہ 1964 میں کھولا گیا کراچی سرکلر ریلوے ڈرگ روڈ سے شروع ہوتا تھا اور شہر کے وسط میں اختتام پذیر ہوتا تھا تاہم بڑے نقصانات اٹھانے کے بعد 1999 میں کراچی سرکلر ریلوے نے آپریشن بند کردیا تھا۔

بعد ازاں مذکورہ معاملے پر حالیہ برسوں میں سپریم کورٹ نے نوٹس لیا تھا اور فروری 2020 میں حکومت کو 3 ماہ میں منصوبہ بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔

تاہم عدالتی حکم پر عملدرآمد نہیں ہوسکا تھا، جس کے بعد 10 نومبر 2020 کو سپریم کورٹ نے کراچی سرکلر ریلوے منصوبے کی تکمیل میں واضح تاخیر پر سیکریٹری ریلوے حبیب الرحمٰن گیلانی اور چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کر دیا تھا۔