خواتین دنیا میں ہر جگہ خود کو غیرمحفوظ تصور کرتی ہیں، صنم سعید

اپ ڈیٹ 19 نومبر 2020

ای میل

’اب بس‘ فلم میں محض تین کرداروں کو دکھایا گیا،
— فوٹو:انسٹاگرام
’اب بس‘ فلم میں محض تین کرداروں کو دکھایا گیا، — فوٹو:انسٹاگرام

موٹروے پر سفر کرنے کے خیال پر مبنی اداکارہ صنم سعید اور محسن طلعت کی مختصر فلم ’اب بس‘ حال ہی میں ریلیز کی گئی تھی۔

اس فلم کے مرکزی خیال سے متعلق اداکارہ صنم سعید کا کہنا ہے کہ خواتین دنیا میں کہیں بھی خود کو غیرمحفوظ تصور کرتی ہیں۔

خیال رہے کہ ’اب بس‘ فلم میں محض تین کرداروں کو دکھایا گیا، جس میں صنم سعید کو مرکزی کردار میں دکھایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: موٹروے پر رات گئے تنہا سفر کرنے کے خیال پر مبنی فلم ’اب بس‘

فلم میں دکھایا گیا کہ صنم سعید اپنے گھر میں کمسن بچی کے ساتھ بیٹھی ہوتی ہیں کہ انہیں اپنے والدین کے گھر سے فون آتا ہے کہ ان کے والد کو دل کا دورہ پڑنے کے باعث ہسپتال داخل کرایا گیا ہے۔

—اسکرین شاٹ
—اسکرین شاٹ

وہ والدین کے گھر سے 380 کلو میٹر دور ہوتی ہیں اور ان کے شوہر بھی گھر پر نہیں ہوتے اور وہ رات دیر گئے مجبوری کی حالت میں والد کے ہاں نکلنے کے لیے تیار ہوتی ہیں۔

فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح ایک تنہا خاتون کمسن بچی کے ساتھ رات دیر گئے موٹروے پر سفر کرنے سے قبل اپنی حفاظت کے لیے ہتھیار ساتھ لے جانے سمیت اپنا لباس اور حلیہ بھی تبدیل کرتی ہیں۔

اگرچہ فلم میں ریپ اور موٹروے پر کسی طرح کا کوئی حادثہ نہیں دکھایا گیا تاہم فلم کے آخر میں رواں برس 9 ستمبر کو سیالکوٹ موٹروے پر رات دیر گئے خاتون کو کمسن بچوں کے سامنے ریپ کا نشانہ بنائے جانے کے واقعے کی نیوز رپورٹس دکھائی گئیں۔

فلم کے آخر میں پیغام دیا گیا کہ 'تنہا خاتون موقع نہیں بلکہ ذمہ داری ہوتی ہے'۔

A photo posted by Instagram (@instagram) on

اس مختصر فلم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صنم سعید نے کہا کہ 'یہ ایک بہت ہی سمجھداری سے لکھی گئی فلم ہے، سادہ اور متاثر کن ہے جس کے بالکل آخر میں ایک پنچ لائن ہے'۔

صنم سعید نے کہا کہ درحقیقت، کبھی کبھار جب کوئی مختصر فلم بہت اچھے طریقے سے چلتی ہے تو آپ کی خواہش ہوتی ہے کہ تھوڑی طویل ہوسکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ 'یہی مختصر فلموں کی خوبصورتی ہے، ان کی طاقت تخلیقی اور سادہ طریقے سے پیغام پہنچانے میں مضمر ہے'۔

اداکارہ نے مزید کہا کہ اس شارٹ فلم کی شوٹنگ میں صرف آدھا دن لگا۔

بطور آرٹسٹ شائقین کو اپنا اچھا پروجیکٹ ٹی وی کے بجائے صرف انٹرنیٹ پر میسر ہونے سے متعلق سوال پر صنم سعید نے کہا کہ یہ بہت مایوس کن ہے کیونکہ میں سوچتی ہوں کہ ایسے مواد کو بڑے پیمانے پر ناظرین کے لیے میسر ہونا چاہیے کہ لوگ جو کچھ روزانہ ٹی وی پر دیکھتے ہیں انہیں ایک وسیع نقطہ نظر پیش کیا جائے۔

—اسکرین شاٹ
—اسکرین شاٹ

انہوں نے مزید کہا کہ انٹرنیٹ نے فلم کو وسیع، بین الاقوامی شائقین کی جانب سے دیکھے جانے کی اجازت دی ہے۔

ویب کے لیے کام سے متعلق صنم سعید کا کہنا تھا کہ یہ زیادہ فنکارانہ اجازت دیتا ہے، اس میں کوئی تاخیری حربے نہیں، کوئی سیاست نہیں اور کام کرنے کے لیے موضوعات کی وسیع تعداد موجود ہے۔

تنہا سفر کرتے وقت بطورِ خاتون غیر محفوظ محسوس کرنے سے متعلق صنم سعید کا کہنا تھا کہ 'میں سمجھتی ہوں کہ عدم تحفظ کا احساس موجود ہے لیکن مجھ سمیت اکثر خواتین کے لیے، احتیاطی تدابیر لینا عادت بن گیا ہے'۔

صنم سعید کا کہنا تھا کہ میں خوش قسمت ہوں، مجھے کبھی فالو یا ہراساں نہیں کیا گیا اور میں رات میں تنہا ڈرائیو کرتی ہوں لیکن میں ہمیشہ نادانستہ طور پر کسی ایسے راستے کا انتخاب کرتی ہوں جہاں زیادہ ٹریفک ہو یا اس کے آس پاس میں پولیس یا رینجرز تعینات ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: موٹروے زیادتی کیس: شریک ملزم شفقت عرف بگا کا اعتراف جرم

انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت ہو تو میں طویل راستہ اختیار کروں گی اور میں تنہا سڑک پر نہیں جاتی، میری کار کی چابی اور گھر کی چابیاں آسان دسترس میں ہوں۔

صنم سعید نے کہا کہ 'یہ احتیاطی تدابیر صرف پاکستان تک محدود نہیں، میں امریکا میں رات گئے 'سب' نہیں لینا چاہوں گی یا برطانیہ میں رات گئے نہیں ٹہلوں گی'۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ خواتین دنیا میں ہر جگہ ہی خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں جہاں وہ درندوں کا نشانہ بن سکتی ہیں۔