حکومت کا عوامی شعبوں کو مختلف اداروں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ

21 نومبر 2020

ای میل

پاکستان ریلویز کے تنظیم نو کے منصوبے کو وفاقی کابینہ نے منظور کرلیا ہے اور اسے 5 اداروں میں تقسیم کیا جائے گا، ڈاکٹر عشرت حسین - فائل فوٹو:وائٹ اسٹار
پاکستان ریلویز کے تنظیم نو کے منصوبے کو وفاقی کابینہ نے منظور کرلیا ہے اور اسے 5 اداروں میں تقسیم کیا جائے گا، ڈاکٹر عشرت حسین - فائل فوٹو:وائٹ اسٹار

اسلام آباد: وزیر اعظم کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین نے متعدد سرکاری کاروباری اداروں بشمول پاکستان ریلوے، پی آئی اے اور پاکستان اسٹیل ملز کو متعدد چھوٹے اداروں میں بدلنے اور نجی اداروں کو ان اداروں کو چلانے کے لیے شامل کرنے کا اعلان کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیر اطلاعات شبلی فراز کے ساتھ ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عشرت حسین نے وفاقی ٹیکس جمع کرنے والی تنظیم میں کی جانے والی اصلاحات پر بھی روشنی ڈالی۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں بدانتظامی اور بدعنوانی کا اعتراف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس طرح کی بدانتظامیوں کو ختم کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسانی باہمی روابط کو کم سے کم کیا جاسکے۔

مزید پڑھیں: 'عوام قومی سلامتی کے اداروں کو متنازع بنانے کا بیانیہ مسترد کر چکے ہیں'

انہوں نے کہا کہ 'اگر ہم ٹیکس وصولی کی حقیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے قابل ہو جاتے ہیں تو حکومت کو قرض لینے کی ضرورت نہیں ہوگی اور قومی قرض میں کمی آئے گی، نئے نظام کے تحت سیلز ٹیکس ریٹرن کی ادائیگی آسانی سے جاری کی جارہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اب دعویداروں کو ریفنڈ کے لیے چیک وصول کرنے کے لیے کسی عہدیدار سے ملاقات کرنے کی ضرورت نہیں ہے، رقم براہ راست کمپنی کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کردی جاتی ہے، ہم نے 250 ارب روپے تک کے ریفنڈ کو کلیئر کردیا ہے اور جلد ہی انکم ٹیکس ریٹرن کے لیے بھی یہ نظام نافذ کیا جائے گا'۔

ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا کہ تقریباً 27 لاکھ فائلرز میں سے 10 لاکھ افراد نے نہ ہونے کے برابر آمدنی ظاہر کی اور ایف بی آر نے ان لوگوں کے بارے میں نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی، سول ایوی ایشن وغیرہ سے معلومات جمع کرنا شروع کردی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ڈیٹا بیس کے انضمام کی وجہ سے ایف بی آر کو ایسے افراد کا طرز زندگی معلوم ہوگا، یہ ٹیکس بیسز کو بڑھائے گا اور آخر کار ٹیکس کی شرح کو کم کرنے کا باعث بنے گا، اس طرح کے تمام اقدامات سے ایف بی آر کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی'۔

وزیر اعظم کے مشیر نے کہا کہ پاکستان ریلویز کے تنظیم نو کے منصوبے کو وفاقی کابینہ نے منظور کرلیا ہے اور اسے 5 اداروں میں تقسیم کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ملک کے 10 فیصد شکست خوردہ لوگ پاک فوج اور اداروں پر تنقیدکرتے ہیں، شیخ رشید

انہوں نے بتایا کہ کراچی سے پشاور تک فاسٹ ٹریک ٹرین ایم ایل ون کے لیے ایک الگ کمپنی، ایک سرکاری کمپنی جو موجودہ پٹریوں اور دیگر بنیادی اسٹرکچر کا انتظام کرے گی، ایک مال بردار کمپنی اور ایک مسافر کمپنی جہاں نجی شعبے کو ٹریک اور انفراسٹرکچر کو چارج دے کر ٹرینوں کو چلانے کی اجازت ہوگی۔

ڈاکٹر عشرت حسین نے پاکستان اسٹیل ملز (پی ایس ایم) اراضی کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے موجودہ ملازمین کو 2 سے 3 سال کی تنخواہوں کی پیش کش سے فارغ کرنے کی اسکیم کا بھی اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ 'پی ایس ایم 2015 سے غیر فعال ہے تاہم حکومت کی طرف سے تنخواہوں اور دیگر پیکیج کی ادائیگی کی جارہی ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم اسٹیل ملز کو نجی شعبے کے ساتھ چلانے کے لیے ایک کمپنی قائم کریں گے اور اس کی 1200 ایکڑ اراضی پی ایس ایم کے انتظامی کنٹرول میں رہے گی، ہمیں توقع ہے کہ اسٹیل ملز کی آپریٹنگ گنجائش 10 لاکھ ٹن کے مقابلے میں سالانہ 30 لاکھ ٹن تک بڑھے گی'۔

انہوں نے کہا کہ پی ایس ایم کی دیگر 19 ہزار ایکڑ اراضی حکومت کے کنٹرول میں ہی رہے گی۔

وزیر اعظم کے مشیر نے پی آئی اے کو بھی مختلف اداروں میں تقسیم کرنے منصوبے کا اعلان کیا کیونکہ گزشتہ 10 سالوں میں قومی ایئرلائنز کے جمع شدہ نقصان 450 ارب روپے سے زائد ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک بہت زیادہ مقروض ادارہ تھا جس کی ترقی کا راستہ حاصل کرنا ناممکن ہے۔