اہل افغانستان کے بعد امن میں سب سے بڑا حصہ پاکستان کا ہے، وزیر اعظم

20 نومبر 2020

ای میل

عمران خان نے 2018 میں وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد گزشتہ روز افغانستان کا پہلا دورہ کیا تھا — فوٹو: اے ایف پی
عمران خان نے 2018 میں وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد گزشتہ روز افغانستان کا پہلا دورہ کیا تھا — فوٹو: اے ایف پی

وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ کبھی بھی تنازعات کے عسکری حل کے قائل نہیں رہے جبکہ اہل افغانستان کے بعد وہاں امن میں سب سے بڑا حصہ پاکستان کا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں عمران خان نے کہا کہ میرا دورہ افغانستان امن کے حوالے سے پاکستان کے عزمِ صمیم کے اظہار کی جانب ایک اور قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں کبھی بھی تنازعات کے عسکری حل کا قائل نہیں رہا چنانچہ ہمیشہ سے میرا ایمان رہا ہے کہ افغانستان میں امن سیاسی گفت و شنید ہی سے حاصل ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ اہل افغانستان کے بعد اس امن میں سب سے بڑا حصہ ہمارا ہے کیونکہ اس سے باہمی روابط و تجارت کے دروازے کھلیں گے اور خوشحالی دونوں ممالک کا رخ کرے گی، امن و تجارت کے ثمرات بطور خاص ہمارے قبائلی عوام تک پہنچیں گے جنہوں نے افغان جنگ کی تباہ کاریوں کا بارِگراں اٹھایا۔

واضح رہے کہ عمران خان نے 2018 میں وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد گزشتہ روز افغانستان کا پہلا دورہ کیا تھا۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد اور کابل کا افغانستان میں تشدد کے خاتمے کیلئے مشترکہ کوششوں کو تیز کرنے پر اتفاق

ان کے اس دورے میں پاکستان اور افغانستان نے قریبی تعاون اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے ذریعے افغانستان میں دہشت گردی کے واقعات کے حالیہ سلسلے کو کم کرنے کے لیے اپنی مشترکہ کوششوں کو تیز کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

افغان صدارتی محل میں وزیراعظم عمران خان اور افغان صدر اشرف غنی نے مشترکہ پریس کانفرنس کی، جس میں افغانستان میں امن اور استحکام کی بحالی کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے تاریخی تعلقات ہیں، میں نے ایسے وقت میں جب افغانستان میں تشدد بڑھ رہا ہے، دورے کا خیال اس لیے کیا کیونکہ پاکستانی حکومت اور پاکستان کے لوگ افغانستان میں امن چاہتے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان کے لوگ 4 دہائیوں سے ان حالات کا سامنا کر رہے ہیں اور اگر کسی انسانی برادری کو امن کی ضرورت ہے تو وہ افغانستان ہے اور یہاں امن کے لیے پاکستان نے اپنا کردار ادا کیا۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات ہوئے جس کے بعد اب بین الافغان مذاکرات کا آغاز ہوا ہے تاہم ہم نے یہ نوٹس کیا ہے کہ قطر میں مذاکرات کے باوجود تشدد میں اضافہ ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لہٰذا ایسے وقت میں میرا افغانستان آنے کا مقصد یہ تھا کہ ہم یقین دلا سکیں کہ جو ممکن ہوا پاکستان وہ کرے گا اور ہم اس تشدد کو کم کرنے اور جنگ بندی کی طرف لانے میں مدد کریں گے، ہم نے کمیٹیاں تشکیل دی ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان کمیٹیوں کے قیام کا مقصد ہمارے اور ہماری سیکیورٹی ایجنسیز کے درمیان روابط کو یقینی بنانا ہے، مزید یہ کہ آپ کو جب بھی یہ محسوس ہو کہ پاکستان، تشدد کو کم کرنے میں مدد کرسکتا ہے تو ہمیں بتائیں، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جو بھی ہمارے دائرہ کار میں ہوا اور جو ہم کرسکے وہ کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم عمران خان ایک روزہ دورے پر کابل پہنچ گئے

پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ افغانستان کے بعد پاکستان وہ ملک ہے جو وہاں امن کا سب سے زیادہ خواہاں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ افغانستان سے جڑے پاکستان کے قبائلی علاقے سابق فاٹا، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تباہ ہوا، نصف آبادی نے نقل مکانی کی، اربوں ڈالر کا نقصان ہوا، لہٰذا امن سے ہم ان افراد کی مدد کرسکتے ہیں اور دونوں اطراف کے لوگوں کے درمیان تجارت کے مواقع بڑھا سکتے ہیں۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ اس پورے دورے کا مقصد اعتماد بحال کرنا، روابط بڑھانا اور اس بات کا یقین دلانا کہ ہم آپ کی توقعات سے بڑھ کر مدد کریں گے۔

وزیر اعظم عمران خان کے دورے کے دوران دونوں ممالک نے 'دونوں ممالک اور خطے میں امن اور استحکام کے لیے پاکستان اور افغانستان کے مشترکہ ویژن' کے عنوان سے دستاویز بھی جاری کی۔

دستاویز کے مطابق پاکستان اور افغانستان کی اعلیٰ قیادت نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کو اعتماد پر مبنی مستقبل کے تعلقات کی طرف دیکھنا چاہیے جس کا مقصد ان تعلقات سے ٹھوس نتائج حاصل کرنا ہو۔