ایک گھر کے اندر کووڈ 19 کتنی تیزی سے پھیل سکتا ہے؟

21 نومبر 2020

ای میل

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

کورونا وائرس کی روک تھام میں مددگار ویکسینز کی تیاری میں حالیہ ہفتوں کے دوران مثبت پیشرفت ہوئی ہے اور کئی کمپنیوں نے نتائج جاری کیے ہیں۔

مگر اب بھی یہ واضح نہیں کہ کورونا وائرس کی بیماری کووڈ 19 کی وبا کا خاتمہ کب ہوگا، درحقیقت اس کی شدت میں ایک بار پھر تیزی آئی ہے۔

ایک حالیہ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ نیا کورونا وائرس درحقیقت سابقہ توقعات سے بھی زیادہ تیزرفتاری اور بڑے پیمانے پر ایک سے دوسرے میں منتقل ہوتا ہے۔

امریکا کی وینڈربیلٹ یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کی اس تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 53 فیصد سے زیادہ مریض ایسے ہیں جو کووڈ 19 کا شکار اس وقت ہوئے جب ان کے ساتھ رہنے والا اس وائرس سے متاثر ہوا۔

ایسے افراد و اپنے گھر کے کسی فرد کے باعث کووڈ 19 کا شکار ہوئے، ایسے 75 فیصد لوگوں میں یہ بیماری پہلے فرد کے بیمار ہونے کے 5 دن کے اندر منتقل ہوئی۔

محققین کا کہنا تھا کہ وائرس متحرک انداز سے متعدد برادریوں میں پھیل رہا ہے اور ہم غیردانستہ طور پر اسے اپنے گھر میں پھیلنے کا موقع دے رہے ہیں

انہوں نے کہا کہ اب ہم انتے ہیں کہ اگر گھر میں کسی کو کورونا وائرس کا سامنا ہوتا ہے تو وہ اپنے گھر کے کم از کم 50 فیصد لوگوں کو اس کا شکار بنادیتا ہے اور وائرس کی منتقلی کا یہ عمل بہت تیزی سے ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کئی مہینوں کے دوران ہم اپنے خاندانوں کو تحفظ فراہم کرنے کے بعد ذہنی طور پر تھک چکے ہیں اور اپنے خاندان کے لوگوں سے ملنا چاہتے ہیں، مگر بدقسمتی سے وائرس نہیں تھکا اور بلاتکان متحرک ہے اور خاندان سے ملاقاتوں کو پھیلاؤ کا ذریعہ بناسکتا ہے۔

خیال رہے کہ ایک سے دوسرے تک وائرس کی منتقلی اس کے پھیلاؤ کا سب سے عام ذریعہ ہے۔

تحقیق میں کہا گیا کہ ہمیں اپنے خاندان کو تحفظ فراہم کرنے کو اولین ترجیح بنانا چاہیے خاص طور پر سب سے کمزور یعنی بزرگوں کو یا جو پہلے ہی کسی بیماری کے شکار ہوں۔

تحقیق کے مطابق گھر سے باہر تو لوگ کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے فیس ماسک کا استعمال اور سماجی دوری پر عمل کرتے ہیں، مگر گھروالوں کے ساتھ اس طرح کی احتیاط نہیں کی جاتی۔

یہ تو ویسے بھی فطری ہے اور یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی فرد کووڈ کا شکار ہوجائے تو دیگر گھروالے میں بھی اس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

سی ڈی سی کے جریدے Morbidity and Mortality میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ اگر کسی فرد میں کورونا کی علامات نظر آئے (چاہے وہ فلو یا عام نزلہ زکام کا نتیجہ ہی ہو)، تو بھی اسے فوری طور پر خود کو الگ تھلگ کرلینا چاہیے اور ٹیسٹ تک احتیاط کرنا چاہیے، تاکہ گھر میں دیگر اس کا شکار نہ ہوسکے۔

اسی طرح گھر کے دیگر افراد کو ہر وقت فیس ماسک کا استعمال کرنا چاہیے۔

اس تحقیق میں 101 افراد کا جائزہ لیا گیا جو اپریل سے ستمبر کے دوران امریکا کے مختلف علاقوں میں کووڈ 19 سے متاثر ہوئے تھے۔

ان افراد کے ساتھ رہنے والے دیگر 191 افراد کو بھی تحقیق کا حصہ بناکر ان کے تھوک اور ناک کے مواد کے نمونے 14 دن تک روزانہ جمع کیے گئے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ ان مریضوں کے ساتھ رہنے والے 53 فیصد میں ایک ہفتے اندر کووڈ کی تشخیص ہوئی، ان میں سے لگ بھگ 75 فیصد میں پہلے مریض کی ابتدائی علامات کے 5 دن بعد اس وبائی بیماری کا شکار ہوئے۔

محققین نے بتایا کہ پہلے فرد سے بالغ اور بجے سب میں وائرس منتقل ہوا۔

تحقیق کے مطابق گھروں میں بیماری کی شرح 53 فیصد ہونا توقعات سے زیادہ ہے، کیونکہ پہلے خیال کیا جارہا تھا کہ یہ شرح 20 سے 40 فیصد تک ہوسکتی ہے۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ کسی بیمار کے ساتھ رہنے والے بہت کم افراد میں کووڈ 19 کی علامات ظاہر ہوئیں، جبکہ زیادہ تر میں 7 دن تک علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔

محققین نے بتایا کہ بدقسمتی سے کسی ایک فرد کے بیمار ہونے پر پورے گھر کو آئسولیشن اختیار کرنا چاہیے کیونکہ کووڈ کے پھیلنے کے رجحان سے عندیہ ملتا ہے کہ قریب رہنے والے لوگوں میں یہ بیماری ایک سے دوسرے میں بہت تیزی سے پھیل سکتی ہے۔