مریم نواز کی دادی کے انتقال پر والد سے لندن سے واپس نہ آنے کی درخواست

22 نومبر 2020

ای میل

نواز شریف گزشتہ برس علاج کے لیے جیل سے لندن روانہ ہوگئے تھے—فائل/فوٹو: ڈان نیوز
نواز شریف گزشتہ برس علاج کے لیے جیل سے لندن روانہ ہوگئے تھے—فائل/فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے حکومت کو انتقام میں اندھے لوگ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دادی کے انتقال پر اپنے والد نواز شریف کو ملک واپس نہ آنے کی درخواست کی ہے۔

سماجی رابطےکی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مریم نواز نے کہا کہ ‘میاں صاحب کے سر سے ماں کا دعاؤں بھرا سایہ اٹھ گیا، دادی کے انتقال کی خبر مجھے فون سروسز معطل ہونے کی وجہ سے دو گھنٹے تاخیر سے ملی جس کے بعد میں فورا لاہور کی لیے روانہ ہو گئی’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘میرے والد اور گھر والے بار بار رابطے کی کوشش کرتے رہے مگر رابطہ نہ ہو سکا’۔

مزید پڑھیں: نواز اور شہباز شریف کی والدہ انتقال کرگئیں

پشاور میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے کے موقع پر حکومت کی جانب سے موبائل سروس کو بند کرنے پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘کسی حکومتی شخص میں اتنی انسانیت نہیں تھی کہ مجھ تک دادی کی وفات کی اطلاع پہنچا دیتے’۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ ‘میں نے میاں صاحب کو درخواست کی ہے کہ بالکل واپس نہ آئیں، یہ ظالم اور انتقام میں اندھے لوگ ہیں جن سے کسی قسم کی انسانیت کی توقع نہیں ہے’۔

خیال رہے کہ مریم نواز اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے جلسے میں شرکت کے لیے پشاور گئی تھیں جہاں انہیں اپنی دادی کے انتقال کی خبر دی گئی اور وہ جلسہ ادھورا چھوڑ کر واپس لاہور آگئیں۔

پی ڈی ایم کے جلسے میں مریم نواز کے علاوہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن، پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) سمیت دیگر جماعتوں کے قائدین شریک تھے اور خطاب کیا۔

جلسہ گاہ پہنچنے سے قبل پی ڈی ایم کے رہنما مولانا فضل الرحمٰن، بلاول بھٹو زرداری، مریم نواز اور دیگر بلور ہاؤس پہنچے تھے جہاں ان کے لیے ظہرانے کا انتظام کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: فوج سیاست میں مداخلت کرے گی تو نام بھی لیا جائے گا، مولانا فضل الرحمٰن

اس موقع پر چیئرمین پیپلزپارٹی اور نائب صدر مسلم لیگ (ن) مریم نواز نے بلور خاندان سے ملاقات بھی کی۔

مریم نواز دیگر رہنماؤں کے ہمراہ جلسے سےخطاب کرنے کے لیے موجود تھیں کہ انہیں لندن میں موجودی دادی کے انتقال کی خبر دی گئی اور اس وقت پی پی پی چیئرمین بلاول خطاب کررہے تھے تاہم اسی دوران انہوں نے مختصر خطاب کیا اور جلسہ گاہ واپس روانہ ہوگئیں۔

انہوں نے کہا کہ میں پشاور کے جلسے میں شرکت اور عوام سے بات کرنا چاہتی تھی لیکن دادی کا انتقال ہوا ہے جو لندن میں موجود تھیں اور شرکا سے دادی کے دعا کی درخواست کی۔

خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی والدہ شمیم اختر لندن میں انتقال کرگئیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل عطا اللہ تارڑ نے ٹوئٹ کے ذریعے تصدیق کی تھی کہ ’نواز شریف اور شہباز شریف کی والدہ انتقال کرگئیں‘۔

بعد ازاں مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی پرویز ملک نے بھی ڈان کو نواز اور شہباز شریف کی والدہ کے انتقال کی تصدیق کی تھی۔

دوسری جانب شمیم اختر کی موت کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکی تاہم مسلم لیگ (ن) کے پارٹی ذارائع نے بتایا کہ وہ کافی مہینوں سے علیل تھیں۔

یاد رہے کہ 15 فروری 2020 کو برطانیہ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی ہارٹ سرجری کے پیش نظر ان کی والدہ شمیم بی بی بیٹے سے ملاقات کے لیے لندن روانہ ہوئی تھیں۔

مزید پڑھیں: نہ پنڈی، نہ آبپارہ کی رائے چلے گی، فیصلے عوام کریں گے، بلاول

مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے مراز محمد جاوید نے تصدیق کی کہ نواز شریف کی ولدہ شمیم بیگم کو جاتی امرا میں شریف فیملی کے خاندانی قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ نوازشریف کی والدہ کی قبر کی نشاندہی اور تیاری بروز پیر (کل) صبح آٹھ بجے کی جائے گی۔

علاوہ ازیں لندن میں موجود قریبی ذرائع نے بتایا کہ شہبازشریف کی والدہ شمیم اختر کی پہلی نماز جنازہ لندن کی سینٹرل مسجدریجنٹ پارک بیکر اسٹریٹ میں ادا کی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ شریف فیملی لندن سے لاہور جانے والی کسی بھی بین الاقوامی فلائٹ کے ذریعے ڈیڈ باڈی پاکستان بھیجے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ شمیم بیگم کی گزشتہ رات طبیعت خراب ہونے پر شریف فیملی کے ایون فیلڈ میں موجود رہی۔