سستی ترین کووڈ ویکسین بیماری سے بچاؤ کیلئے بہت زیادہ مؤثر قرار

اپ ڈیٹ 23 نومبر 2020

ای میل

— فوٹو بشکریہ آکسفورڈ یونیورسٹی
— فوٹو بشکریہ آکسفورڈ یونیورسٹی

اس وقت درجنوں کورونا وائرس ویکسینز کی تیاری پر کام ہورہا ہے مگر ان میں سے ایک ایسی ہے جس نے سب سے پہلے عالمی ادارہ صحت اور مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس کی توجہ حاصل کی۔

برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی اور سوئیڈن کی دواساز کمپنی آسترازینیکا کی کووڈ 19 ویکسین بیماری سے تحفظ کے لیے بہت زیادہ مؤثر قرار دی گئی ہے۔

برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کے تحت تیار ہونے والے کووڈ 19 ویکسین کی انسانوں پر آزمائش اپریل میں شروع ہوئی تھی۔

اب 7 ماہ بعد اس کے آخری مرحلے کے ٹرائل کے ابتدائی نتائج جاری کیے گئے ہیں جن کے مطابق یہ ویکسین لوگوں کو بیمار ہونے سے بچانے میں 70.4 فیصد تک تحفظ فراہم کرسکتی ہے بلکہ محققین کے مطابق ڈوز کی مقدار میں کمی سے یہ شرح 90 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔

امریکا کی فائزر/جرمنی کی بائیو این ٹیک، امریکی کمپنی موڈرینا اور روس کے بعد یہ چوتھی ویکسین ہے جس کے آخری مرحلے کے ٹرال کے نتائج جاری ہوئے ہیں۔

فائزر اور موڈرینا کی ویکسینز میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی آکسفورڈ کی تجرباتی ویکسین سے مختلف ہے اور دونوں کے مطابق ان کی ویکسینز 95 فیصد حد تک موثر ہیں، جبکہ فائزر نے امریکا اور برطانیہ میں لائسنس کے لیے درخواست بھی جمع کرادی ہے۔

آکسفورڈ کے نتائج بظاہر امریکی ویکسینز جتنے اچھے نظر نہیں آتے، مگر اسے بنانے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ویکسینز کا موازنہ نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ ان کے ٹرائل میں معتدل حد تک بیمار افراد کے ساتھ سنگین حد تک بیمار افراد کو بھی شامل کیا گیا تھا، جبکہ امریکی ویکسینز میں ایسا نہیں ہوا۔

امریکی ویکسینز کے مقابلے میں آکسفورڈ کی ویکسین زیادہ سستی ہے اور دنیا کے کونے میں آسانی سے پہنچا کر اسٹور کی جاسکتی ہے۔

اس ویکسین کی تیاری کی معمار پروفیسر سارہ گلبرٹ نے بتایا 'آج کا اعلان ہمیں اس وقت کے مزید قریب لے گیا ہے جب ہم ویکسین کو استعمال کرکے اس وائرس سے ہونے والی تباہی کا خاتمہ کرسکیں گے'۔

ان کا کہنا تھا 'ہم اپنا کام جاری رکھیں گے تاکہ ریگولیٹرز کو تفصیلی معلومات فراہم کرسکیں'۔

برطانوی حکومت پہلے ہی اس ویکسین کے 10 کروڑ ڈوز کو خرید چکی ہے جبکہ آسترا زینیکا کا کہنا ہے کہ وہ اگلے سال 3 ارب ڈوز تیار کرے گی۔

اس ویکسین کو 10 ماہ کے اندر تیار کیا گیا ہے اور یہ ابتدائی نتائج برطانیہ اور برازیل میں 20 ہزار سے زائد رضاکاروں پر ہونے والے ٹرائل کے ہیں۔

مجموعی طور پر ان رضاکاروں میں 131 کووڈ کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں ویکسین کے 2 ڈوز لینے والے 30 جبکہ ڈمی انجیکشن لینے والے رضاکاروں کی تعداد 101 ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ویکسین بیماری سے بچانے کے لیے 70 فیصد تک تحفظ فراہم کرتی ہے۔

ویکسین والے کسی بھی رضاکار میں کووڈ 19 کی شدت زیادہ نہیں تھی اور نہ ہی انہیں ہسپتال جانے کی ضرورت پڑی۔

ٹرائل کرنے والی ٹیم کے قائد پروفیسر اینڈریو پولارڈ نے بتایا کہ وہ نتائج سے مطمئن ہیں کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ ہمارے پاس اب اس وبا پر قابو پانے کے لیے ایک ویکسین موجود ہے۔

تاہم 90 فیصد تحفظ کی بنیاد 3 ہزار افراد پر ہونے والا ایک ٹرائل ہے جس میں انہیں دیگر افراد کے مقابلے میں پہلا ڈوز 50 فیصد کم مقدار میں دیا گیا جبکہ دوسرا ڈوز معمول کی مقدار میں دیا گیا۔

پروفیسر اینڈریو پولارڈ نے بتایا کہ وہ ابھی درست طور پر نہیں بتاسکتے کہ آخر کم مقدار میں ڈوز زیادہ تحفظ فراہم کیوں کرتا ہے 'ہمارے خیال میں کم مقدار میں پہلا ڈوز دینے سے مدافعتی نظام مختلف انداز سے کام کرتا ہے'۔

ان کا کہنا تھا 'اس وقت ہمیں معلوم نہیں یہ مدافعتی نظام کے معیار کا ہے یا اس کی مقدار کا، اس پر آنے والے ہفتوں میں ہم مزید کام کریں گے'۔

پروفیسر سارہ گلبرٹ نے اس حوالے سے بتایا 'ممکنہ طور پر کم مقدار میں ویکسین دیکر آغاز اور پھر زیادہ مقدار میں دوسرا ڈوز میں دینے سے مدافعتی نظام کو زیادہ بہتر انداز سے متحرک ہونے میں مدد ملتی ہے'۔

خیال رہے کہ آکسفورڈ کی ویکسین کے 2 ڈوز 4 ہفتوں کے اندر استعمال کرائے جاتے ہیں اور نتائج کے حوالے سے آسترازینیکا کا کہنا ہے کہ وہ ڈیٹا اکٹھا کررہی ہے مگر شواہد کو دنیا بھر میں ویکسین کو ایمرجنسی استعمال کی منظوری کے لیے جمع کرائے گی۔

آسترازییکا کے چیف ایگزیکٹیو پاسل سوریوٹ نے بتایا 'ویکسین کی افادیت اور محفوظ ہونے سے یہ تصدیق ہوتی ہے کہ یہ کووڈ 19 کے خلاف بہت زیادہ موثر ہے اور یہ وبا کی صورتحال پر فوری اثرات مرتب کرے گی'۔

انہوں نے مزید بتایا 'اس ویکسین کی سپلائی چین بہت سادہ ہے اور ہم نے اس کی تقسیم کے لیے کوئی منافع نہ لینے کا وعدہ کیا ہے، بلکہ مساوی بنیاد پر بروقت رسائئی یقینی بنائے گی، یعنی یہ سستی ہونے کے ساتھ دنیا بھر میں دستیاب ہوگی، منظوری ملنے پر کروڑوں ڈوز سپلائی کیے جائیں گے'۔

ٹرائل سے یہ بھی عندیہ ملا کہ ویکسین کے استعمال سے ایسے افراد کی تعداد میں کمی آئی جن میں کووڈ 19 کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں، جو اس وبا کو پھیلانے کا بہت بڑا ذریعہ ہیں۔

اس سے پہلے گزشتہ ہفتے ایک ٹرائل میں دریافت کیا گیا تھا کہ یہ ویکسین جوان افراد کے ساتھ معمر افراد کے لیے بھی کارآمد اور محفوظ ہے جبکہ ایسے ابتدائی اشاریے بھی ملے ہیں جن سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

مائیکرو سافٹ کے بانی کے فلاحی ادارے بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کے زیرتحت تیار ہونے والی کووڈ 19 ویکسین کے لیے 75 کروڑ ڈالرز دینے کا اعلان کیا ہے۔

بل گیٹس کی جانب سے فراہم کیے جانے والے کروڑوں ڈالرز ویکسین کی 30 کروڑ ڈوز کی فراہمی کے لیے استعمال کیے جائیں گے اور توقع ہے کہ پہلی کھیپ 2020 کے آخر تک مختلف ممالک میں بھیجنے کے لیے تیار ہوگی۔

ایس آئی آئی کے ساتھ ایک الگ معاہدے کے تحت ایک ارب ڈوز غریب اور متوسط ممالک کو فراہم کیے جائیں گے جن میں سے 40 کروڑ ڈوز 2021 سے پہلے سپلائی ہوں گے۔

آکسفورڈ کی یہ ویکسین اس وقت سامنے آنے والی دیگر ویکسینز کے مقابلے میں زیادہ سستی ہے۔

موڈرینا کی ویکسین 2 ڈوز میں استعمال کرائی جائے گی اور قیمت 25 سے 37 ڈالرز ہوگی۔

آسترازینیکا اور آکسفورڈ یونیورسٹی کی ویکسین کا ایک ڈوز لگ بھگ 4 ڈالرز کا ہوگا جبکہ جانسن اینڈ جانسن اور سنوفی کی ویکسینز کی لاگت 10 ڈالرز فی ڈوز ہونے کا امکان ہے۔

فائزر کی جانب سے 2 ڈوز کے لیے امریکا سے لگ بھگ 40 ڈالرز لیے جائیں گے۔