کورونا کا ایک مریض کس وقت زیادہ تیزی سے وائرس کو دیگر تک منتقل کرتا ہے؟

26 نومبر 2020

ای میل

یہ بات ایک تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 سے متاثر مریض علامات نظر آنے کے بعد اولین 5 دنوں تک سب سے زیادہ متعدی ہوتے ہیں۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

طبی جریدے دی لانسیٹ میں شائع تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ کورونا کے بغیر علامات والے مریضوں کے جسم میں یہ وائرس ممکنہ طور پر زیادہ تیزی سے کلیئر ہوتا ہے اور وہ کم مدت کے لیے متعدی ہوتے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ دیگر افراد کو اس بیماری کا شکار بناسکتے ہیں۔

یہ اپنی طرز کی پہلی تحقیق ہے جس میں ماہرین نے کورونا وائرس کی منتقلی کے حوالے سے ہونے والی 98 تحقیقی رپورٹس کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا۔

ان تحقیقی رپورٹس میں 3 بنیادی عناصر کو دیکھا گیا تھا، وائرل لوڈ (بیماری کے مختلف مراحل کے دوران جسم میں وائرس کی مقدار)، وائرس کے آر این اے کا جھڑنا (مریض کی جانب سے وائرل جینیاتی مواد کو جسم سے خارج کرنا) اور زندہ وائرس کو الگ کرنا۔

محققین نے ان تحقیقی رپورٹس کے نتاج کا موازنہ کورونا وائرس کی دیگر 2 اقسام کے ساتھ کیا، تاکہ سمجھ سکیں کہ کووڈ 19 اتنی تیزی سے کیسے پھیل رہا ہے۔

انہوں نے دریافت کیا کہ نئے کورونا وائرس کا وائرل لوڈ بیماری کے آغاز پر نظام تنفس کی اوپری نالی میں علامات کے نمودار ہونے کے بعد اولین 5 دن تک عروج پر ہوتا ہے۔

یہ اس لیے اہم ہے کیونکہ نظام تنفس کی اوپری نالی میں وائرس کو اس کے پھیلاؤ کا بنیادی ذریعہ تصور کیا جاتا ہے۔

اس کے مقابلے میں دیگر 2 کورونا وائرسز سارس اور مرس میں وائرل لوڈ بالترتیب 10 سے 14 دن اور 7 سے 10 دن کے بعد عروج پر ہوتا ہے، جس سے علامات اور قرنطینہ کو شناخت کرنے کے لیے زیادہ وقت ملتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ نتائج سابقہ رپورٹس سے میل کھاتے ہیں جن میں عندیہ دیا گیا تھا کہ وائرس کی ایک سے دوسرے میں منتقلی کے اکثر واقعات بیماری کے آغاز میں ہی ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ علامات ظاہر ہوتے ہی خود ساختہ آئسولیشن اختیار کرلینی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں عوامی شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے خاص طور پر اس بیماری سے جڑی علامات کے حوالے سے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق کووڈ کی سب سے عام علامات بخار، خشک کھانسی اور تھکاوٹ ہیں جبکہ کم نمایاں علامات میں درد اور تکلیف، گلے میں سوجن، ہیضہ، سردرد، سونگھنے یا چکھنے کی حس سے محرومی اور جلد پر خارش یا انگلیوں کی رنگت ختم ہونا ہے۔

زیادہ سنگین علامات میں سانس لینے میں مشکلات، سینے میں تکلیف یا دباؤ اور چلنے پھرنے یا بولنے میں مشکلات قابل ذکر ہیں۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ علامات اور بغیر علامات والے مریضوں میں وائرل لوڈ کی مقدار لگ بھگ یکساں ہوتی ہے مگر بغیر علامات والے افراد کے جسموں میں وارل مواد تیزی سے صاف ہوتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ بغیر علامات والے مریض بھی آغاز سے ہی بیماری کو دیگر تک منتقل کرسکتے ہیں، مگر وہ شاید کم وقت کے لیے متعدی ہوتے ہیں۔

مگر ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ تعین کیا جاسکے کہ بغیر علامات والے مریض کب تک وائرس کو جسم سے خارج کرتے ہیں۔