کرنسی نوٹوں سے کووڈ 19 کا خطرہ کم ہوتا ہے، تحقیق

25 نومبر 2020

ای میل

یہ بات ایک تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

کرنسی نوٹوں سے کسی فرد میں کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کی منتقلی کا خطرہ بہت کم ہوتا ہے۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آئی، جس میں دیکھا گیا تھا کہ یہ وائرس کرنسی نوٹوں پر کتنی دیر تک زندہ رہ سکتا ہے۔

بینک آف انگلینڈ کی تحقیق میں بتایا گیا کہ وبا کے آغاز سے کرنسی نوٹوں استعمال میں ڈرامائی کمی آئی اور اس کی وجہ یہ خوف تھا کہ ان سے وائرس لوگوں میں منتقل ہوسکتا ہے۔

تاہم تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کرنسی نوٹوں سے کورونا وائرس کا خطرہ کسی دکان میں وائرل ذرات والی ہوا میں سانس لینے، کسی آلودہ چیز کو چھونے کے مقابلے میں بہت کم ہوتا ہے۔

تحقیق کے دوران کورونا وائرس کی اتنی زیادہ مقدار کو استعمال کیا گیا جو کسی مریض کی جانب سے براہ راست کھانسی یا چھینکنےسے نوٹوں پر ہوسکتی ہے۔

تحقیق کے لیے 10 پاؤنڈ کے کاغذی اور پولیمر نوٹوں کو استعمال کیا گیا تھا اور وائرس سے آلودہ کرنے کے بعد انہیں کمرے کے درجہ حرارت میں رکھ کر لگاتار ٹیسٹ کیے گئے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پہلے گھنٹے میں تو وائرس کی سطح مستحکم رہی مگر اگلے 5 گھنٹوں میں وہ بہت تیزی سے تنزلی کا شکار ہوا اور 24 گھنٹے بعد دونوں طرح کے نوٹوں پر یہ مقدار ایک فیصد سے بھی کم رہ گئی۔

بینک کا کہنا تھا کہ اگرچہ وائرس کی کم مقدار کا مشاہدہ کیا گیا مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ سطح بیماری کا باعث بن سکتی ہے۔

تحقیق کے مطابق نوٹوں کے مقابلے میں دیگر اشیا کی سطح لوگوں کے لیے کووڈ کا خطرہ زیادہ بڑھاتی ہے۔

بینک آف برطانیہ کے نتائج اکتوبر میں آسٹریلیا میں ہونے والی تحقیق سے کافی مختلف ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ نیا کورونا وائرس کرنسی نوٹوں، گلاس اور دیگر عام اشیا کی سطح پر ہفتوں تک متعدی رہ سکتا ہے۔

تحقیق کے نتائج میں کاغذی نوٹوں، ٹچ اسکرین ڈیوائسز اور دیگر عام اشیا سے لوگوں کو لاحق خطرات پر روشنی ڈالی گئی۔

آسٹریلین سینٹر فار ڈیزی پری پریڈنیس کے ماہرین نے ثابت کیا کہ نوول کورونا وائرس ہموار سطح جیسے موبائل فونز کی اسکرین اور پلاسٹک کی اشیا پر کمرے کے درجہ حرارت یا 2 سینٹی گریڈ پر 28 دن تک زندہ رہ سکتا ہے، جبکہ فلو وائرس 17 دن تک ان اشیا پر خود کو بچائے رکھتا ہے۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ کچھ اشیا کی سطح پر 40 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر وائرس ایک دن بھی زندہ نہیں رہ پاتا۔

طبی جریدے وائرلوجی جرنل میں شائع تحقیق کے نتائج سے ان شواہد میں اضافہ ہوا ہے کہ نیا کورونا وائرس سرد موسم میں زیادہ دیر تک زندہ رہ پاتا ہے اور اس وجہ سے موسم گرما کے مقابلے میں سردیوں میں اسے کنٹرول رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ تحقیق زیادہ مستند طریقے سے وبا کے پھیلاؤ اور اس کی روک تھام کی پیشگوئی کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ نیا کورونا وائرس طویل عرصے تک مختلف اشیا کی سطح پر متعدی رہتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہاتھ دھونے اور اشیا کی صفائی جیسی تدابیر پر دوبارہ زور دینے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ وائرس مسام دار اشیا جیسے کاٹن کے مقابلے میں غیر مسام دار یا ہموار سطح پر زیادہ عرصے تک خود کو بچا کر رکھ سکتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران کورونا وائرس کو مختلف اشیا کی سطح پر اتنی مقدار میں آزمایا گیا جتنا متاثرہ مریضوں کے نمونوں میں دریافت کیا گیا اور پھر اس وائرس کو ایک ماہ کے لیے الگ تھلگ رکھ دیا گیا۔

اس تحقیق میں اشیا کو تاریکی میں رککھا گیا تاکہ الٹرا وائلٹ روشنی کے اثرات کے بغیر وائرس کی زندگی کا تعین کیا جاسکے کیونکہ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ سورج کی براہ راست روشنی فوری طور پر وائرس کو ناکارہ بنادیتی ہے۔

اس کے بعد اشیا کی سطح پر مختلف درجہ حرارت کے ذریعے دیکھا گیا کہ وائرس کب تک ان پر موجود رہتا ہے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ اسٹین لیس اسٹیل پر 20 ڈگری درجہ حرارت پر یہ وائرس 5.96 دن، 30 ڈگری پر 1.74 دن اور 40 ڈگری پر 4.86 گھنٹے تک زندہ رہتا ہے۔

کاغذی نوٹ پر یہ وائرس 20 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر 9.13 دن، 30 ڈگری پر 4.32 دن اور 40 ڈگری پر 5.39 گھنٹے تک زندہ رہتا ہے۔

اس کے مقابلے میں گلاس پر 20 ڈگری سینٹی گریڈ پر یہ وائرس 6.32 دن، 30 ڈگری پر 1.45 دن اور 6.55 گھنٹے تک موجود رہتا ہے۔

کاٹن پر 20 سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر یہ وائرس 5.57 دن، 30 سینٹی گریڈ پر 1.65 دن اور 40 ڈگری پر فوری طور پر ختم ہوجاتا ہے۔

پلاسٹک کے نوٹوں پر وائرس کی زندگی بالترتیب 9.13 دن، 4.32 دن اور 5.39 گھنٹے تک ہوتی ہے۔