مشرف سنگین غداری کیس کے فیصلے پر 'توہین آمیز' بیانات دینے والے وزرا و معاونین عدالت طلب

اپ ڈیٹ 27 نومبر 2020

ای میل

سماعت جسٹس روح الامین اور جسٹس اعجاز انور پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس پر سماعت کی — فائل فوٹو
سماعت جسٹس روح الامین اور جسٹس اعجاز انور پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس پر سماعت کی — فائل فوٹو

پشاور ہائی کورٹ نے پرویز مشرف سنگین غداری کیس کے فیصلے سے متعلق مبینہ توہین آمیز بیانات پر وفاقی وزرا اور معاونین خصوصی کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

پرویز مشرف سنگین غداری کیس فیصلے کے بعد وفاقی وزرا کی جانب سے خصوصی عدالت کے سربراہ جج کے خلاف پریس کانفرنس کا معاملے پر توہین عدالت کیس کی پشاور ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔

سماعت جسٹس روح الامین اور جسٹس اعجاز انور پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس پر سماعت کی۔

جسٹس روح الامین نے ریمارکس دیے کہ جنہوں نے توہین عدالت کی ہے وہ آئندہ سماعت پر خود پیش ہوں۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل عامر جاوید نے عدالت سے استدعا کی کہ فریقین کی طرف سے ہم کیس میں پیش ہوں گے اور دلائل دیں گے۔

تاہم جسٹس روح الامین نے کہا کہ توہین عدالت جس نے کی وہ پیش ہوجائے پھر آپ کو بھی سنیں گے۔

عدالت کا آئندہ سماعت پر وفاقی وزرا کو خود پیش ہونے کا حکم دیا۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت کا جسٹس وقار سیٹھ کےخلاف سپریم جوڈیشل کونسل جانے کا اعلان

یاد رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں خصوصی عدالت کے 3 رکنی بینچ نے 17 دسمبر 2019 کو پرویز مشرف سنگین غداری کیس کے مختصر فیصلے میں انہیں آرٹیکل 6 کے تحت سزائے موت سنائی تھی۔

پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار سیٹھ، لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم اور سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نذر اکبر پر مشتمل بینچ نے اس کیس کا فیصلہ 2 ایک کی اکثریت سے سنایا تھا۔

بعد ازاں 20 دسمبر کو کیس کا 167 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا، جس میں جسٹس نذر اکبر کا 44 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ بھی شامل تھا۔

تفصیلی فیصلے میں جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس شاہد کریم نے پرویز مشرف کو سزائے موت سنائی تھی جبکہ جسٹس نذر اکبر نے انہیں بری کردیا تھا۔

تاہم اس تفصیلی فیصلے میں جسٹس شاہد کریم نے جسٹس وقار احمد سیٹھ کی اس رائے سے اختلاف کیا تھا جس میں انہوں نے پیرا گراف 66 میں یہ لکھا تھا کہ ’اگر پرویز مشرف سزا سے پہلے فوت ہوجاتے ہیں تو ان کی لاش کو گھسیٹ کر اسلام آباد میں ڈی چوک پر لایا جائے اور 3 دن کے لیے لٹکایا جائے'۔

مزید پڑھیں: 'پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ تہذیب اور اقدار سے بالاتر ہے'

اس پیرا پر جسٹس شاہد نے اختلاف کیا اور کہا تھا کہ یہ بنیادی قانون کے خلاف ہے اور مجرم کے لیے موت کی سزا کافی ہے۔

تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد وفاقی وزرا فروغ نسیم، فواد چوہدری، معاونین خصوصی فردوس عاشق اعوان اور شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس کی تھی جس میں انہوں نے خصوصی عدالت کے سربراہ کے خلاف مبینہ توہین آمیز ریماکس دیے تھے۔

ان بیانات کے خلاف خیبر پختونخوا بارکونسل نے ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی۔