چین کی تیار کردہ ویکسین کے حتمی ٹرائلز میں پاکستان کی بھی شرکت

اپ ڈیٹ 27 نومبر 2020

ای میل

ویکسین کین سائنو بائیو اور بیجنگ کے انسٹیٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی چائنا نے مشترکہ طور پر تیار کی ہے —فائل فوٹو: رائٹرز
ویکسین کین سائنو بائیو اور بیجنگ کے انسٹیٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی چائنا نے مشترکہ طور پر تیار کی ہے —فائل فوٹو: رائٹرز

اسلام آباد: کورونا وائرس کے خلاف چین کی تیار کردہ ویکسین کے حتمی مرحلے کے ٹرائل میں شمولیت کے لیے ہزاروں رضاکاروں نے ریسرچ ہسپتالوں کا رخ کرلیا۔

ڈان اخبار میں شائع ہونے والی فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پاکستانی اس قسم کے ٹرائل میں شرکت کررہے ہیں جو مغربی ممالک کی ادویہ ساز کمپنیوں کی جانب سے ویکسین کامیابی کے متواتر اعلانات کے دوران ہورہے ہیں۔

مذکورہ ویکسین کین سائنو بائیو اور بیجنگ کے انسٹیٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی چائنا نے مشترکہ طور پر تیار کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آکسفورڈ یونیورسٹی کا ویکسین کے ٹرائل میں ایک غلطی کا اعتراف

اسلام آباد کے شفا ہسپتال میں سیکڑوں شرکا پہنچے جنہیں ان کی مشکلات کے لیے 50 ڈالر بھی ادا کیے جارہے ہیں، ان میں سے ایک رضاکار نے کہا کہ 'میں نے اپنے آپ کو اس عظیم مقصد کے لیے رضاکارانہ طور پر پیش کیا ہے جو انسانیت کی مدد کرے گا'۔

ان کا کہنا تھا کہ دوسروں کو بھی آگے آنا چاہیے اور اس عظیم مقصد میں حصہ لینا چاہیے جو زندگیاں بچائے گا۔

کئی برسوں سے چین کی توجہ پاکستان می ترقیاتی کاموں مثلاً سڑکوں کی تعمیر، بجلی گھروں اور اسٹریٹجک پورٹ پر ہے لیک اب بیجنگ نے ویکسین ٹرائلز کے لیے سب سے قریبی اتحادی سے رجوع کیا ہے۔

پاکستان میں ٹرائلز کی نگرانی کرنے والے پرنسپل ریسرچر اعجاز احمد خان نے کہا کہ 'ہمیں اُمید ہے کہ 2 سے 3 ماہ میں ہم ویکسین کی افادیت اور اثرات کے حوالے سے کچھ نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گے'۔

مزید پڑھیں: وہ ملک جہاں 10 لاکھ افراد کو تجرباتی کورونا ویکسین استعمال کرائی گئی

حکام کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ویکسین کے ٹرائلز میں شرکت کرنے والے 10 ہزار شرکا میں سے 7 ہزار کو ٹیکے لگائے جاچکے ہیں۔

یہ ٹرائل ایسے وقت میں ہورہے ہیں کہ جب ملک بھر میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے سبب انتہائی نگہداشت کے وارڈز تقریباً بھر چکے ہیں اور حکام وبا کے حوالے سے عوام کی بے حسی پر جدوجہد کررہے ہیں۔

دنیا بھر میں 14 لاکھ جانیں لینے کے تقریباً ایک سال کے عرصے کے بعد کووِڈ 19 کے خلاف متعدد اچھے نتائج کے دعوؤں والی ویکسینز جاری کیے جانے کو تیار ہیں۔

4 ادویہ ساز کمپنیوں نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ ان کی ویکسین زیادہ تر افراد کے لیے مؤثر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا ویکسین کے جلد حصول کیلئے حکومت کے عالمی اداروں سے مذاکرات

چین کی بنائی گئی ویکسین بھی ٹرائل کے تیسرے مرحلے میں ہے، متعدد ممالک بشمول چین، روس، چلی، ارجنٹینا اور سعودی عرب میں بڑے پیمانے پر انسانوں پر اس کی آزمائش جاری ہے۔