نایاب علی 'ہیرو ایوارڈ' جیتنے والی پہلی پاکستانی مخنث

اپ ڈیٹ 28 نومبر 2020

ای میل

نایاب علی نے رواں برس فروری میں یورپی ایوارڈ بھی جیتا تھا—فوٹو: فیس بک
نایاب علی نے رواں برس فروری میں یورپی ایوارڈ بھی جیتا تھا—فوٹو: فیس بک

پاکستان میں خواجہ سرا کے حقوق کی کارکن، سیاستدان اور سماجی رہنما نایاب علی نے تھائی لینڈ میں ہر سال ہونے والے 'ہیرو ایوارڈز' میں ایوارڈ جیت کر نیا اعزاز حاصل کرلیا۔

'ہیرو ایوارڈز' تھائی لینڈ کی خواجہ سرا افراد کے لیے کام کرنے والی تنظیم کی جانب سے ہر سال دیا جاتا ہے۔

'ہیرو ایوارڈز' کا آغاز 2017 میں کیا گیا تھا اور یہ ایوارڈ ایسے خواجہ سرا افراد کو دیا جاتا ہے جو کہ معاشرے سے ایچ آئی وی جیسے مہلک وائرس کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرتے ہیں۔

تاہم یہ ایوارڈ ایسے مخنث افراد کو بھی دیا جاتا ہے جو دیگر سماجی مسائل کو حل کرنے کے لیے کردار ادا کرتے ہیں۔

'ہیرو ایوارڈز' کو صرف ایشیائی ممالک کے خواجہ سرا افراد کو دیا جاتا ہے اور مذکورہ ایوارڈ مختلف کیٹیگریز میں دیا جاتا ہے۔

ہیرو ایوارڈز صرف خواجہ سرا افراد کو مختلف کیٹیگریز میں دیا جاتا ہے—فائل فوٹو: ہیرو ایوارڈز
ہیرو ایوارڈز صرف خواجہ سرا افراد کو مختلف کیٹیگریز میں دیا جاتا ہے—فائل فوٹو: ہیرو ایوارڈز

رواں سال بھی اس ایوارڈ کے لیے ایشیا و پیسفک ممالک سے تنظیم کو درجنوں مخنث افراد کی جانب سے نامزدگی درخواستیں موصول ہوئی تھیں، جن میں پاکستانی خواجہ سرا بھی شامل تھے۔

اس سال 'ہیرو ایوارڈز' کی 'ٹرانس جیںڈر ہیرو' کیٹیگری کا ایوارڈ پاکستانی خواجہ سرا نایاب علی نے جیت کر نیا اعزاز حاصل کیا۔

یہ بھی پڑھیں: نایاب علی عالمی ایوارڈ جیتنے والی پہلی پاکستانی مخنث

نایاب علی نے اپنے فیس بک پر بینکاک میں ہونے والی ایوارڈ تقریب کی ویڈیو شیئر کی، جس میں انہیں 'ٹرانس جینڈر ہیرو ایوارڈز' دیا گیا۔

کورونا کے باعث ایوارڈز تقریب آن لائن منعقد کی گئی تھی اور نایاب علی بھی ایوارڈ تقریب میں ویڈیو لنک کے ذریعے شامل ہوئیں۔

'ٹرانس جینڈر ہیرو ایوارڈز' کے لیے تین خواجہ سرا شارٹ لسٹ ہوئے تھے، جن میں نایاب علی کے ساتھ پاکستانی مخنث جنت علی بھی شامل تھی جب کہ ایک خواجہ سرا انڈونیشیا سے شارٹ لسٹ ہوا تھا۔

تاہم 'ٹرانس جینڈر ہیرو ایوارڈ' نایاب علی لے اڑیں۔

انہوں نے ایوارڈ تقریب سے آن لائن خطاب میں خوشی کا اظہار کرتےہوئے بتایا کہ مذکورہ ایوارڈ ان کی خدمات کا اعتراف ہے اور اس سے انہیں خواجہ سرا کمیونٹی کے لیے مزید کام کرنے کا حوصلہ ملے گا۔

انہوں نے خواجہ سرا افراد کے لیے کام کرنے کے دوران پیش آنے والی مشکلات کا ذکر بھی کیا۔

'ٹرانس جینڈر ہیرو ایوارڈ' جیتنے سے قبل رواں برس فروری میں ہی نایاب علی نے یورپی ملک آئرلینڈ میں ہر سال ہونے والا ’گالا ایوارڈ‘ بھی جیتا تھا۔

نایاب علی ’گالا ایوارڈ‘ جیتنے والی پہلی پاکستانی مخنث بنی تھیں جب کہ وہ ٹرانس جینڈر ہیرو ایوارڈ جیتنے والی بھی پہلی پاکستانی خواجہ سرا بن گئیں۔

نایاب علی گزشتہ ایک دہائی سے زائد وقت سے خواجہ سرا کمیونٹی کے لیے کام کر رہی ہیں—فائل فوٹو: ٹوئٹر
نایاب علی گزشتہ ایک دہائی سے زائد وقت سے خواجہ سرا کمیونٹی کے لیے کام کر رہی ہیں—فائل فوٹو: ٹوئٹر