پشاور: مزار حملہ کیس میں نامزد ملزم بری

اپ ڈیٹ 29 نومبر 2020

ای میل

عدالت نے ملزم کو بری کردیا—فائل فوٹو: شٹر اسٹاک
عدالت نے ملزم کو بری کردیا—فائل فوٹو: شٹر اسٹاک

پشاور: انسداد دہشت گردی عدالت نے ایک دہائی قبل پشاور کے مضافات میں ایک مزار پر حملے کے الزام کا سامنا کرنے والے مبینہ عسکریت پسند کمانڈر کو بری کردیا۔

خیال رہے کہ اس حملے میں 15 افراد جان سے گئے تھے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ٹرائل کو مکمل کرتے ہوئے عدالت نے فیصلہ سنایا کہ استغاثہ ملزم گلبت ملک دین خیل کے خلاف الزام ثابت نہیں کرسکا جبکہ ریکارڈ پر موجود ثبوت جرم سے نہیں جڑتے۔

ساتھ ہی عدالت نے کیس میں مفرور ملزم کالعدم لشکر اسلام کے سربراہ منگل باغ اور ان کے ساتھی طیب آفریدی کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔

مزید پڑھیں: پشاور بم دھماکا: داعش کو مشتبہ ’حملہ آور‘ قرار دے دیا گیا

واضح رہے کہ 3 مارچ 2008 کو متعدد عسکریت پسندوں نے گاؤں شیخاں میں واقع ایک مزار پر راکٹ لانچرز، دستی بموں اور سیمی مشینز گنز سمیت بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا تھا۔

انہوں نے مزار کو منہدم کرتے ہوئے 15 لوگوں کو قتل اور 10 کو زخمی کردیا تھا۔

بعدازاں تھانہ بڈھ بیر میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 302، 324، 427 اور 436، انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 اور دھماکا خیز مواد ایکٹ کی دفعات 3 اور 4 کے تحت واقعہ کی ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔

ادھر ملزم کے وکیل شبیر حسین گیگیانی نے کہا کہ پولیس نے رواں سال جنوری میں ان کے موکل کو گرفتار کیا اور الزام لگایا کہ وہ منگل باغ کے بعد کمانڈر تھا۔

انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی ٹيم حملے کی جگہ پر ایک روز بعد پہنچی تھیں حالانکہ یہ جگہ پشاور کے اندر واقع تھی۔

وکیل کا کہنا تھا کہ استغاثہ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ ان کے موکل وہی گلبت ملک دین خیل ہے جس پر ایف آئی آر میں الزام ہے، کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکا۔

انہوں نے کہا کہ پولیس نے ایف آئی آر اور تفتیش کے دوران ملزم گلبت کے والدین کا ذکر نہیں کیا۔

وکیل کے مطابق قبائلی ضلع خیبر کے علاقے باڑا میں گلبت ایک عام نام ہے اور ملزم کے والدین کا پتا لگائے بغیر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ وہی گلبت تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور: مدرسہ دھماکے میں ملوث ہونے کا شبہ، 55 افراد گرفتار

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کیس کا مدعی ارشاد جس کا بھائی حملے میں مارا گیا تھا وہ اور ایک زخمی شخص جو استغاثہ کے گواہ کے طور پر پیش ہوا تھا انہوں نے نہ تو ان کے موکل کو پہنچانا اور نہ یہ کہا کہ انہوں نے حملے کے مقام پر اسے دیکھا تھا۔

وکیل کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگرچہ حملے میں بھاری ہتھیار استعمال ہوئے تھے لیکن تحقیقاتی ٹیم کو مزار سے کوئی خول نہیں ملے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کیس میں ناقص تفتیش کی گئی اور الزامات کی بنیاد پر ایک شخص کو سزا نہیں دی جاسکتی۔

اس موقع پر سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ ملزم پر ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا تھا اور وہ ایک دہائی سے مفرور ہے۔