ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو پورا کرنے کیلئے این جی اوز کو حکومتی دباؤ کا سامنا

30 نومبر 2020

ای میل

رجسٹریشن منسوخ کی گئی زیادہ تر تنظیمیں گاؤں اور ٹاؤن کی سطح پر کام کررہی تھیں فائل فوٹو: اے ایف پی
رجسٹریشن منسوخ کی گئی زیادہ تر تنظیمیں گاؤں اور ٹاؤن کی سطح پر کام کررہی تھیں فائل فوٹو: اے ایف پی

پشاور: بین الاقوامی سطح پر غیر قانونی مالی اعانت پر نظر رکھنے والے ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کے امور کو منظم انداز میں چلانے کے لیے حکومت کی جانب سے کوششیں جاری ہیں۔

اس حوالے سے حکومت کی جانب سے چلائی گئی مہم کے نتیجے میں ہزاروں چھوٹی اور درمیانے درجے کی این جی اوز کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے مئی 2019 میں غیر سرکاری تنظیموں کی رجسٹریشن شروع کی گئی تھی۔

رواں سال کے ابتدا میں صوبہ خیبرپختونخوا میں مجموعی طور پر 4 ہزار 935 غیر سرکاری تنظیموں میں سے تقریباً 3 ہزار 851 تنظیموں کی رجسٹریشن ختم کردی گئی تھی جو مختلف شعبوں میں کام کررہی تھیں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ مہم شروع کرنے سے قبل 3 ہزار 838 غیر سرکاری تنظیمیں صوبائی سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ میں جبکہ ایک ہزار 97 صوبائی صنعت کے ڈپارٹمنٹ میں رجسٹرڈ تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا: 65 فیصد این جی اوز کی رجسٹریشن منسوخ، بینک اکاؤنٹس منجمد

ان کا کہنا تھا کہ نقشہ سازی یا میپنگ کے لیے درکار معیار کو پورا نہ کرنے کی وجہ سے سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ نے 3 ہزار 30 غیر سرکاری تنظیموں کو جبکہ محکمہ صنعت نے 821 این جی اوز کی رجسٹریشن ختم کردی تھی۔

دونوں محمکوں کے ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ تاہم مطلوبہ دستاویزات فراہم کرنے کے بعد سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ نے 3 ہزار 30 این جی اوز میں سے 12 کو دوبارہ رجسٹر کرلیا جبکہ محکمہ صنعت نے 20 این جی اوز کی دوبارہ رجسٹریشن مکمل کرلی۔

حکومت نے ان تمام این جی اوز کے بینک اکاؤنٹس منجمد کردیے تھے جن کی رجسٹریشن ختم کی گئی تھی، حکومت نے این جی اوز سے جن بنیادی معلومات کی دستاویزات طلب کیں ان میں رجسٹریشن سرٹیفیکٹ سمیت دستور یا آئین، قواعد و ضوابط، سالانہ عملی منصوبہ بندی، 5 سال کی حکمت عملی، سالانہ تخمینے یا اخراجات کی تفصیلات، ٹیکس رجسٹریشن سرٹیفیکٹ، ٹیکس سے مستثنی ہونے کا سرٹیفیکٹ اور ٹیکس کی دستاویزات شامل تھیں۔

مزید پڑھیں: سندھ میں 7ہزار سے زائد این جی اوز کی رجسٹریشن منسوخ

اس میں گزشتہ 3 سال کے ود ہولڈنگ ٹیکسز کے ثبوت اور سالانہ کارکردگی رپورٹ بھی طلب کی گئی تھی۔

مزید یہ کہ 3 سال کے اکاؤنٹ آڈٹ کی تفصیلات، پاکستان کے انسٹیٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کی رکنیت کا آڈیٹر کا سرٹیفیکٹ، عطیہ دہندہ یا ڈونر کی وابستگی سے متعلق عطیے کا ضمانت نامہ، مقامی رہائش کا ثبوت، پبلیکیشنز یا جریدے میگزینز اور نیوز لیٹرز، غیرملکی ہونے کی صورت میں پاسپورٹ اور ویزا، پروجیکٹ رپورٹس اور بورڈ اجلاس کے منٹوں کی تفصیلات بھی شامل تھیں۔

مردان میں موجود ایک غیرسرکاری تنظیم کے عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ این جی اوز کی نقشہ سازی سے متعلق مطلوبہ معلومات کے بارے میں انہیں کچھ بھی بتائے بغیر محکمہ سوشل ویلفیئر کی جانب سے ان کی تنظیم کی رجسٹریشن کو ختم کردیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم اپنی تنظیم کی رجسٹریشن کے ختم ہونے سے لاعلم تھے جبکہ اپنے گاؤں میں سوشل ویلفیئر کی سرگرمیاں کو جاری رکھا ہوا تھا'۔

یہ بھی پڑھیں: ’آئی این جی اوز کی رجسٹریشن قومی ضروریات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کی گئی‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ کچھ دن قبل پولیس اور سوشل ویلفیئر محکمے کے حکام آئے اور انہوں نے ان کے دفتر کو تنظیم کی رجسٹریشن ختم ہونے کے باوجود سوشل ویلفیئر کی سرگرمیاں جاری رکھنے پر سیل کردیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ 'ہمیں بعد میں معلوم ہوا کہ تنظیم کے کچھ اراکین کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کروادی گئی جو ہمارے لیے حیران کن تھا، عہدیدار نے سوال کیا کہ کیسے پولیس اور سوشل ویلفیئر کا محکمہ ہمارے خلاف ایف آئی آر درج کراسکتا ہے جبکہ یہ ایک گاؤں کی سطح پر کام کرنے والی تنظیم ہے اور ہم رجسٹرشن ختم ہونے سے متعلق آگاہ بھی نہیں تھے؟

این جی او کے عہدیدار نے کہا کہ ہماری تنظیم گاؤں میں منشیات کے استعمال، معاشرتی برائیوں اور شادی کی تقریبات کے دوران فائرنگ کے خلاف کام کرنے کے علاوہ بجلی کے ٹرانسفارمرز کی مرمت اور میڈیکل کیمپ لگانے کا کام بھی کررہی تھی۔

مزید پڑھیں: غیر ملکی سفیروں کا این جی اوز کی رجسٹریشن میں نرمی کرنے کا مطالبہ

ان کا کہنا تھا کہ انہیں نہ تو غیر ملکی ڈونرز سے اور نہ ہی حکومت سے فنڈز ملتے ہیں بلکہ تنظیم کی بنیادی ذرائع آمدن وہ فنڈز ہیں جو گاؤں میں امن قائم کرنے کے لیے بنائے گئے بنیادی قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر جرمانوں کی صورت میں گاؤں والوں سے جمع کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب خیبر پختونخوا میں عسکریت پسندی اپنے عروج پر تھی تو ان کی تنظیم کے اراکین لڑکیوں کے سرکاری اسکولوں کے باہر پہرہ دینے کے لیے گارڈ کا کردار ادا کرتے تھے۔

تنظیم کے نمائندے نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ 'ہم غیرسرکاری تنظیموں کو ریگولیٹ کرنے کی حمایت کرتے ہیں لیکن ضابطہ کے نام پر انہیں تنظیموں کا گلا نہیں گھونٹنا چاہیے'، ان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے تو حکومت کو تنظیموں کو ان کی شرائط سے متعلق معلومات فراہم کرنی چاہیے اور پھر انہیں ریگولیٹ سے متعلق سہولت فراہم کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: 300 سے زائد غیر منافع بخش ’اداروں‘ کے لائسنس منسوخ

ان کا کہنا تھا کہ جن تنظیموں کی رجسٹریشن ختم کی گئی ہے ان میں سے زیادہ تر ٹاؤن اور گاؤں کی سطح پر کام کرنے والی تنظیمیں تھیں جن کا غیر ملکی فنڈنگ سے کوئی لینا دینا نہیں تھا، انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایسی ریگولیشن نہیں کرنی چاہیے جو مقامی غیر سرکاری تنظیموں کے خاتمے کی وجہ بن جائے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کے پاس آن لائن سہولیات، دفاتر اور اعلیٰ تعلیم یافتہ عملہ موجود ہوتا ہے جو حکومت کی شرائط سے بخوبی واقف ہوتا ہے لیکن مقامی غیر سرکاری تنظیموں کو ایسی سہولیات میسر نہیں ہوتیں جس کی وجہ سے وہ نقشہ سازی کے اقدام کے دوران متاثر ہورہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مقامی غیر سرکاری تنظیمیں ابھی بھی ریکارڈ رکھنے کے لیے رجسٹر جبکہ حجرے (مہمانوں کے کمرے) کو اپنے دفتر کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔

مزید پڑھیں: 'تمام این جی اوز کی نگرانی کرنا ایس ای سی پی کیلئے مشکل عمل'

جب محکمہ سوشل ویلفیئر کے ڈائریکٹر حبیب آفریدی سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ان این جی اوز کی رجسٹریشن ختم کی گئی ہے جو مطلوبہ معیار کو پورا نہیں کررہی تھیں، انہوں نے مزید کہا کہ 'ہم نے مطلوبہ دستاویزات فراہم کرنے اور باقاعدہ رجسٹریشن کے لیے درخواست دینے پر 12 غیر سرکاری تنظیموں کو دوبارہ رجسٹرڈ کیا ہے'۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ رجسٹریشن منسوخ کی جانے والی تنظیموں میں زیادہ تر وہ تنظیمیں ہیں جو کافی عرصے سے غیر فعال تھیں۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ محکمہ سوشل ویلفیئر نے رجسٹریشن ختم کرنے سے پہلے تنظیموں کو اس حوالے سے خطوط کیوں نہیں بھیجے، جس پر ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ ہزاروں غیرسرکاری تنظیموں کو خط بھیجنا ناممکن تھا ایسے میں جب ان کے دفاتر کے ایڈریسز مسلسل تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ محکمے نے تمام غیر سرکاری تنظیموں کو اخبارات میں اشتہارات کے ذریعے مطلوبہ معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔


یہ خبر 30 نومبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی تھی۔