خاتون کے سنگین الزامات: بابر اعظم کی لیگل ٹیم نے وکالت نامہ عدالت میں جمع کروادیا

04 دسمبر 2020

ای میل

بابر اعظم کی لیگل ٹیم نے وکالت نامہ سیشن کورٹ میں جمع کرا دیا— فائل فوٹو: اے ایف پی
بابر اعظم کی لیگل ٹیم نے وکالت نامہ سیشن کورٹ میں جمع کرا دیا— فائل فوٹو: اے ایف پی

قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے خاتون کی جانب سے عائد کیے گئے جنسی تعلقات سمیت دیگر سنگین الزام پر مقدمے کے اندراج سے متعلق عدالت میں جمع کروائی گئی درخواست پر جواب دینے کا کام اپنی لیگل ٹیم کو سونپ دیا۔

قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کے خلاف اندارج مقدمہ کی درخواست پر لاہور کی سیشن کورٹ میں سماعت ہوئی جہاں بیرسٹر حارث عظمت کی زیر سربراہی بابر اعظم کی لیگل ٹیم نے وکالت نامہ سیشن کورٹ میں جمع کرا دیا۔

مزید پڑھیں: بابراعظم کے خلاف سنگین الزامات، خاتون کا مقدمے کے اندراج کیلئے عدالت سے رجوع

بابر اعظم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وہ گزشتہ روز پولیس اسٹیشن میں پیش ہوئے لیکن نہ خاتون آئیں اور نہ ہی ان کی جانب سے کوئی وکیل پیش ہوا۔

بابر اعظم پر الزامات عائد کرنے والی حامزہ مختار نامی خاتون کی جانب سے ان کے وکیل ایڈووکیٹ توقیر چوہدری عدالت میں پیش ہوئے۔

ایڈووکیٹ توقیر چوہدری نے بتایا کہ فاضل جج کی رخصت کے باعث سماعت ملتوی کی گئی تھی جبکہ پولیس نے گزشتہ روز رات گئے رابطہ کیا جس کے باعث ان کی موکلہ پیش نہ ہو سکیں۔

پولیس نے اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جس میں کہا گیا کہ درخواست گزار سے کہا جائے کہ وہ حاضر ہو کر اپنا مؤقف پیش کرے تاکہ فریقین کی بالمشافہ گفتگو کرا کر حقائق پر مبنی رپورٹ پیش کی جا سکے۔

نیوزی لینڈ میں سیریز کے لیے موجود بابر اعظم نے مقدمہ لڑنے کے لیے اپنے بھائی سفیر اعظم کو اختیار دے دیا ہے اور اب وہ اس سلسلے میں پاور آف اٹارنی کے منتظر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: خاتون کے قومی ٹیم کے کپتان بابراعظم پر جنسی تعلق سمیت دیگر سنگین الزامات

بابر اعظم کی وکلا ٹیم کی جانب سے وکالت نامہ جمع کروائے جانے کے بعد عدالت نے سماعت 14 دسمبر تک ملتوی کرتے ہوئے پولیس کو مکمل رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کردی۔

یاد رہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کے خلاف سنگین نوعیت کے الزامات عائد کرنے والی خاتون حامزہ مختار نے اندراج مقدمہ کے لیے سیشن کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

حامزہ مختار نامی خاتون نے سی سی پی او لاہور کو درخواست میں فریق بناتے ہوئے کہا تھا کہ ملزم بابر نے انہیں شادی کے بہانے 2012 سے مستقل جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس دوران وہ حاملہ بھی ہوئیں اور بعدازاں انہوں نے ملزم کی ایما پر اسقاط حمل بھی کروایا۔

انہوں نے کہا تھا کہ ملزمان کے خلاف پولیس میں ایف آئی آر کے اندراج کی کوشش کی گئی لیکن پولیس نے اس سلسلے میں کوئی شکایت درج نہ کی۔

درخواست میں تھانہ نصیر آباد پولیس کو بابر اعظم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: ٹریننگ کی اجازت نہ ملنے کے باوجود پاکستان کا دورہ نیوزی لینڈ جاری رکھنے کا فیصلہ

اس درخواست سے قبل انہوں نے گزشتہ ہفتے پریس کانفرنس کے دوران پہلی مرتبہ سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے تھے۔

خاتون نے مؤقف اپنایا تھا کہ 2010 میں بابر اعظم نے انہیں پروپوز کیا جسے انہوں نے قبول کر لیا، ہم شادی کا فیصلہ کرچکے تھے لہٰذا ہم نے اپنے خاندانوں کو آگاہ کیا لیکن دونوں کے خاندانوں نے صاف انکار کیا جس کے بعد بابر اعظم اور میں نے کورٹ میرج کا فیصلہ کیا۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2011 میں بابر اعظم مجھے کورٹ میرج کا کہہ کر میرے گھر سے بھگا کر لے گیا اور ہم مختلف مقامات پر کرائے کے مکانوں میں قیام پذیر رہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایک کھلاڑی کورونا کا شکار، انگلینڈ جنوبی افریقہ ون ڈے میچ ملتوی

خاتون کا کہنا تھا کہ اصرار کے باوجود بابر اعظم نے ان سے نکاح نہیں کیا اور دعویٰ کیا کہ 2014 سے پہلے نوکری کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنا سیلون کھولا جس سے وہ کرکترز کے اخراجات برداشت کرتی رہیں۔

حامزہ نے دعویٰ کیا کہ 2014 میں جب بابر اعظم کا نام پاکستانی کرکٹ ٹیم میں آیا تو ان کا رویہ آہستہ آہستہ تبدیل ہونا شروع ہوگیا تھا، میں 2016 میں حاملہ ہوگئی تھی جب میں نے بابر اعظم کو بتایا تو سن کر ان کا رویہ بہت عجیب ہوگیا، مجھے مارا پیٹا اور میں ان کے اصرار پر اسقاط حمل پر مجبور ہو گئی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'بالآخر تنگ آکر 2017 میں، میں نے بابر اعظم کے خلاف پولیس رپورٹ کی اور شکایت دیکھنے والے افسر نے بابر اعظم کو پیش کرنے کا کہا تھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے تھے لیکن اسی رات بابر اعظم نے اس افسر کے سامنے ہمارے مشروط صلح نامے پر دستخط کروائے تھے، جس میں شرط یہ طے کی گئی تھی کہ بابر مجھ سے شادی کرلیں گے'۔

یہ بھی پڑھیں: مجھ پر کوئی دباؤ نہیں، بورڈ کے لانگ ٹرم پلان کا حصہ ہوں، بابر اعظم

انہوں نے کہا کہ '10 روز قبل میں نے ان کے خلاف دوبارہ شکایت درج کروائی، 20 نومبر کو بابراعظم نے بیرون ملک جانے سے قبل مجھے فون کرکے کہا تھا کہ اگر تم پولیس کے پاس گئی یا اب شادی کا مطالبہ کیا تو تم جان سے جاؤ گی اور تمہیں یہ بھی نہیں پتا کہ میں تمہارے ساتھ کیا کروں گا'۔

حامزہ کا کہنا تھا کہ '10 سال تک حد سے زیادہ زیادتی کے بعد اب میں یہاں انصاف کے لیے آئی ہوں'۔