مجھ پر کوئی دباؤ نہیں، بورڈ کے لانگ ٹرم پلان کا حصہ ہوں، بابر اعظم

اپ ڈیٹ 20 نومبر 2020

ای میل

بابر اعظم نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے مجھے قیادت سونپتے ہوئے مکمل اعتماد دیا ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی
بابر اعظم نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے مجھے قیادت سونپتے ہوئے مکمل اعتماد دیا ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی

قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے کہا ہے کہ مجھ پر کسی قسم کا پریشر نہیں ہے، پاکستان کرکٹ بورڈ کے لانگ ٹرم پلان کا حصہ ہوں، دورہ نیوزی لینڈ کے دوران سینئر کھلاڑیوں سے ضرور رائے اور مشورہ لوں گا لیکن حتمی فیصلہ خود کروں گا۔

دورہ نیوزی لینڈ کے لیے قومی ٹیم کی روانگی سے قبل لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بابر اعظم نے کہا کہ نیوزی لینڈ کے خلاف ہمارے اعدادوشمار بہت اچھے ہیں، ہم نے نیوزی لینڈ اور نیوزی لینڈ سے باہر دونوں جگہ ان کے خلاف اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، کوشش یہی ہے کہ اچھی کارکردگی دکھائیں۔

مزید پڑھیں: ‘میں زندہ ہوں’ چاچا کرکٹ کی اپنی موت کی افواہوں کی تردید

ان کا کہنا تھا کہ چیلنجز زندگی میں آتے رہتے اور ان کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ابھی نیا چیلنج اور ذمے داری ملی ہے لیکن مجھ پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں اپنی کرکٹ سے لطف اندوز ہوتا ہوں، میری وائٹ بال کرکٹ میں بہتری آئی ہے، کوشش یہی ہے کہ جو سیکھا ہے اس کا استعمال کروں۔

انہوں نے کہا کہ سرفراز بھائی کی زیر قیادت کافی کچھ سیکھا، انہوں نے کافی کچھ سکھایا، اظہر بھائی کے ساتھ بھی کافی مزہ آیا، جب ہم سینئرز کے ساتھ کھیلتے ہیں تو کافی کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے اور ہم میدان میں آنے والے معاملات پر ان سے گفتگو کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جو کچھ بھی سیکھا ہے اس پر عمل کرنے کی کوشش کررہا ہوں اور جب بھی سینئرز کی ضرورت پڑی تو ان سے سیکھوں گا اور رائے لوں گا البتہ آخر میں فیصلہ جو مجھے سمجھ آئے گا وہ میں ہی کروں گا۔

بابر نے کہا کہ میری بیٹنگ پر کوئی دباؤ نہیں ہے، کوشش یہ ہوتی ہے کہ آگے آ کر کارکردگی دکھاؤں اور چیلنج لیتے ہوئے ذمے داری لے کر کھیلوں، پریشر میں کھیلنے کا مزہ بھی آتا ہے اور لطف اندوز ہوتے ہوئے 100فیصد کارکردگی دکھانے کی کوشش کرتا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: 16سال بعد انگلش ٹیم کے دورہ پاکستان کا اعلان

ٹیم میں گروپنگ کے خوف کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر قومی ٹیم کے کپتان نے کہا کہ ایسا کچھ نہیں، یہ ٹیم نوجوان ہے اور ان میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم بحیثیت ٹیم ایک گروپ ہیں، یہ نہیں کہ دو گروپ کہیں بیٹھے ہیں اور دو گروپ کہیں، اس ٹیم میں ایسا کوئی بھی لڑکا نہں ہے، سب دل سے ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں اور کارکردگی سے خوش ہوتے ہیں، یہ نوجوان اور سینئرز پر مشتمل ایک بہترین ٹیم ہے اور کوشش ہوتی ہے کہ ایک طرح ہی رہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں بابر نے کہا کہ جب بھی ہم باہر جاتے ہیں تو چیلنج تو ہوتا ہی ہے، نیوزی لینڈ کی ٹیم اچھی ہے لیکن ہماری ٹیم کے حوصلے بلند ہیں، ہم انگلینڈ میں اچھی کارکردگی دکھا کر آرہے ہیں، بدقسمتی سے ہم وہاں ایک میچ ہار گئے لیکن انفرادی کارکردگی بیٹنگ اور باؤلنگ دونوں میں اچھی رہی۔

بابر اعظم نے کہا کہ سب سے اہم چیز کھلاڑی کو اعتماد دینا ہوتا ہے جس کی مثال میں ہوں کیونکہ میں ٹیسٹ کرکٹ میں جدوجہد کررہا تھا لیکن ٹیم کی سپورٹ تھی خصوصاً میں مکی آرتھر کا شکرگزار ہوں جنہوں نے مجھے سپورٹ کیا اور انہوں نے کہا کہ تھا کہ بابر کو جتنا کھلاؤ گے اتنا اچھا کرے گا اور دیکھیں وقت کے ساتھ بہتری آتی رہی۔

مزید پڑھیں: کراچی کنگز پی ایس ایل 2020 کی چمپیئن

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کسی بھی چیز کو آسان نہیں لے سکتے، چیلنج لینا پڑتا ہے اور کوئی بھی چیز آسان نہیں ہوتی، دونوں ٹیموں کا موازنہ کیا جائے تو ہماری ٹیم بھی اچھی ہے اور ہم پر کوئی دباؤ نہیں ہے لہٰذا اچھی کارکردگی دکھائیں گے۔

بابر اعظم نے کہا کہ ہمارا ہدف یہی ہوتا ہے کہ ہر ملک میں اسکور کریں، آسٹریلیا انگلینڈ سب جگہ اسکور کرنا ٹارگٹ ہوتا ہے اور نیوزی لینڈ کے لیے بھی یہی تیاری کی ہے اور اسی سوچ کے ساتھ میدان میں اتروں گا۔

ایک اور سوال کے جواب میں قومی ٹیم کے کپتان نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے مجھے مکمل اعتماد دیا ہے کہ میں ان کے ‘لانگ ٹرم پلان’ کا حصہ ہوں، مجھ پر پی سی بی کی طرف سے کوئی دباؤ نہیں ہے کہ سیریز ہار گئے تو کیا ہو گا، انہوں نے مجھے مکمل آزادی دی ہے۔

بابر اعظم نے مزید کہا کہ ہم سب بہتری کے خواہاں ہیں اور کبھی بھی یہ نہیں ہوتا کہ پوری ٹیم پرفارم کرے بلکہ کبھی کچھ کھلاڑی نہیں کرتے اور کبھی کچھ کر جاتے ہیں، سب سے اہم چیز یہ ہے کہ ہم کھلاڑیوں کو سپورٹ کرے۔

انہوں نے کہا کہ جو پرفارم کررہا ہوتا ہے اسے تو سپورٹ کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن جو پرفارم نہیں کرتے تو اسے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، اس کو سپورٹ کرنا اس لیے ضروری ہوتا ہے تاکہ اگلے میچ سے قبل اس میں اعتماد آ جائے۔

یہ بھی پڑھیں: حارث! اگلی دفعہ مجھے گیند آرام سے کرنا، شاہد آفریدی

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ہدف ہر جگہ جیتنا ہوتا ہے، نتائج ہمارے ہاتھ میں نہیں ہیں، ہمارے ہاتھ میں محنت ہے، وہ ہم دل لگا کر کرتے ہیں اور نتائج اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان کی ٹیم 23 نومبر کو نیوزی لینڈ روانہ ہو گی جہاں 14 دن قرنطینہ میں رہنے کے بعد قومی ٹیم تین ٹی20 اور دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلے گی۔