لگژری برانڈ 'گچی' کا کورونا ویکسین کی دنیا میں ترسیل کیلئے فنڈز کا اعلان

05 دسمبر 2020

ای میل

یونیسیف سمیت دیگر عالمی ادارے ویکسین کی ترسیل کے لیے فنڈز جمع کرنے میں مصروف ہیں—فوٹو: ٹیگ واک
یونیسیف سمیت دیگر عالمی ادارے ویکسین کی ترسیل کے لیے فنڈز جمع کرنے میں مصروف ہیں—فوٹو: ٹیگ واک

اسپورٹس و فیشن کے شہرہ آفاق اٹالین لگژری برانڈ 'گچی' یا 'گوچی' نے دنیا کے غریب افراد و ممالک میں کورونا ویکسین کی ترسیل اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کے لیے کم از کم 5 لاکھ امریکی ڈالرز کی امداد کا اعلان کردیا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق 'گچی' یا 'گوچی' نے تصدیق کی کہ وہ یونائٹڈ نیشنز چلڈرنز فنڈ (یونیسیف) کو 5 لاکھ امریکی ڈالر یعنی پاکستانی 8 کروڑ روپے سے زائد کی رقم عطیہ کرے گا۔

'گچی' یا 'گوچی' مذکورہ رقم کے علاوہ یونیسیف کو ایک لاکھ ڈالر کی امداد دینے سمیت اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یونیسیف سمیت کورونا کی ویکسین کی ترسیل کے لیے بنائے گئے اداروں کو رقم عطیہ کرنے کی مہم بھی چلائے گا۔

'گچی' یا 'گوچی' اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر 26 دسمبر تک کورونا کی ویکسین کی ترسیل کے لیے لوگوں کو فنڈز عطیہ کرنے کی اپیل کرتا رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا کی پہلی کورونا ویکسین آخرکار تیار ہوگئی

'گچی' یا 'گوچی' کی مذکورہ رقم دنیا کے غریب اور زیادہ متاثر ہونے والے کورونا افراد تک ویکسین سمیت دیگر آلات کی ترسیل کو یقینی بنانے پر خرچ کی جائے گی۔

غریب ممالک کے افراد تک کورونا کی ویکسین کی ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے پہلی ہی (گاوی) نامی ایک تنظیم بنائی گئی ہے، جو اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)، یونیسیف، عالمی بینک، بل اینڈ ملنڈا گیٹس سمیت دیگر عالمی تنظیموں کے اشتراک سے بنائی گئی ہے۔

گاوی نامی تنظیم اپنے ’کو ویکس‘ منصوبے کے تحت دنیا کے غریب ممالک میں کورونا کی ویکسین کی ترسیل کو یقینی بنائے گی۔

گاوی تنظیم اس وقت دنیا بھر کی ملٹی نیشنل کمپنیوں، ٹیکنالوجی، فیشن، اسپورٹس و دیگر طرح کے برانڈز و کمپنیوں سے فنڈز اکٹھے کرنے میں مصروف ہے اور 'گچی' یا 'گوچی' نے بھی مذکورہ مہم کے تحت ہی یونیسیف کو فنڈز فراہم کرنے کا اعلان کیا۔

مزید پڑھیں: برطانوی حکومت نے کورونا ویکسین کے استعمال کی اجازت دے دی

یونیسیف، عالمی ادارہ صحت اور دیگر ادارے ملنے والے فنڈز کو گاوی کو فراہم کریں گے جو کہ ’کو ویکس‘ منصوبے کے تحت کورونا ویکسین کی غریب ممالک تک ترسیل کو یقینی بنائے گی۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ نومبر میں امریکا کی فائزر اور جرمنی کی بائیو این ٹیک نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی کورونا ویکسین مرض پر 95 فیصد اثر انداز ہوتی ہے، جس کے بعد رواں ماہ 2 دسمبر کو برطانوی حکومت نے مذکورہ ویکسین کو استعمال کرنے کی منظوری بھی دی تھی۔

مذکورہ ویکسین کے علاوہ برطانیہ اور روس کی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی جانب سے بھی ویکسین تیار کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے اور دسمبر کے پہلے ہفتے تک دنیا میں کم از کم تین کورونا ویکسین تیار کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا، تاہم ایسی ویکسینز پر عالمی ادارہ صحت اور دیگر صحت کے عالمی اداروں نے تاحال کوئی رائے نہیں دی۔