پی ایس ایل 6 کیلئے ٹیموں میں تبدیلی شروع، فخر زمان نے قلندرز سے راہیں جدا کرلیں

اپ ڈیٹ 31 دسمبر 2020

ای میل

فخر زمان پاکستان سپر لیگ کے چھٹے ایڈیشن میں لاہور قلندرز کی نمائندگی نہیں کریں گے— فائل فوٹو بشکریہ پی ایس ایل
فخر زمان پاکستان سپر لیگ کے چھٹے ایڈیشن میں لاہور قلندرز کی نمائندگی نہیں کریں گے— فائل فوٹو بشکریہ پی ایس ایل

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے چھٹے ایڈیشن کے لیے ڈرافٹنگ سے پہلے مختلف فرنچائزوں میں تبدیلی اور فیصلہ سازی کا عمل شروع ہوگیا۔

پاکستان سپر لیگ کا اگلا سیزن آئندہ سال 20 فروری سے شروع ہونے کا امکان ہے اور اس مرتبہ ٹیموں کی جانب سے چند اہم تبدیلیوں کا امکان ہے۔

مزید پڑھیں: پی ایس ایل 2021 کیلئے کھلاڑیوں کی کیٹیگریز کی تجدید کردی گئی

لاہور قلندرز کے اہم اوپننگ بلے باز فخر زمان نے آئندہ ایڈیشن میں کسی اور فرنچائز کی نمائندگی کا فیصلہ کیا ہے اور اس بات کا باضابطہ اعلان کردیا گیا ہے۔

فخر زمان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ چار یادگار سیزنز کے لیے لاہور قلندرز کا شکریہ، آپ نے میرے کیریئر میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے مجھے صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پلیٹ فارم مہیا کیا، میری نظریں اب نئے چیلنج پر مرکوز ہیں۔

‏لاہور قلندرز نے فخر زمان کو پی ایس ایل 6 کے لیے ریلیز کردیا جس کے بعد اب اوپننگ بلے باز پی ایس ایل کے چھٹے ایڈیشن کے لیے ڈرافٹ کا حصہ ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق فخر زمان بھی لاہور قلندر کی پلاٹینم کیٹیگری میں کھیلنے کے خواہاں تھے لیکن ممکنہ انکار کے پیش نظر انہوں نے کسی اور لیگ ٹیم کی نمائندگی کا فیصلہ کیا جس پر فرنچائز نے بھی اتفاق کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل 2021: کھلاڑیوں کے چناؤ کیلئے ٹیموں کی ترتیب طے پاگئی

واضح رہے کہ رواں سال پی ایس ایل میں فخر زمان نے لاہور قلندرز کی جانب سے سب سے زیادہ رنز اسکور کیے تھے۔

فخر زمان کے جانے کے باوجود لاہور قلندرز کے پاس شاہین شاہ آفریدی اور محمد حفیظ پلاٹینم کیٹیگری میں موجود ہیں۔

پی ایس ایل کے ڈرافٹ سے پہلے تمام فرنچائز کو 8 کھلاڑی برقرار رکھنے کی اجازت ہوگی جبکہ باقی تمام کھلاڑیوں کو ریلیز کرنا ہو گا۔

اگر ٹیموں کی بات کی جائے تو لاہور قلندرز میں کپتان سہیل اختر، حارث رؤف، محمد حفیظ اور بین ڈنگ کو برقرار رکھنے جانے کا امکان ہے۔

مزید پڑھیں: پی ایس ایل کے انٹرنیشنل میڈیا رائٹس پارٹنر سے معاہدہ ختم

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز میں کپتان سرفراز احمد، بین کٹنگ، محمد حسنین اور اعظم خان کو برقرار رکھے جانے کا امکان ہے۔

اسی طرح 2017 کی چیمپیئن پشاور زلمی میں کامران اکمل، وہاب ریاض اور حسن علی ممکنہ طور پر اپنی جگہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں گے۔

دو مرتبہ کی چیمپیئن اسلام آباد یونائیٹڈ کی جانب سے کپتان شاداب خان، حسین طلعت، فہیم اشرف اور ڈیون ملان کو برقرار رکھے جانے کا امکان ہے۔

ٹیموں میں بین الاقوامی کھلاڑیوں کی بات کی جائے تو اگلے ایڈیشن میں عالمی شہرت یافتہ جنوبی افریقی کھلاڑیوں اے بی ڈی ویلیئرز اور فاف ڈیوپلیسی کی شرکت کا امکان ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ دہائی کے بہترین ٹی20 کھلاڑی کا ایوارڈ اپنے نام کرنے والے افغانستان کے لیگ اسپنر راشد خان کی بھی لیگ میں شرکت کے امکانات روشن ہیں۔

البتہ کورونا وائرس کی وبا کے دوبارہ سے پھیلاؤ کی وجہ سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے زیادہ سے زیادہ غیر ملکی کھلاڑیوں کی شرکت یقینی بنانا بڑا چیلنج ہو گا کیونکہ سفری پابندیوں اور ایس او پیز کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے انتظامات کرنے ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: معاہدے کی خلاف ورزی، پی سی بی نے خلیف ٹیکنالوجیز سے راہیں جدا کر لیں

خیال رہے کہ لیگ کے اگلے سیزن کے لیے کھلاڑیوں کی کیٹیگری میں تجدید کردی گئی تھی جبکہ لیگ کی انتظامیہ نے ڈرافٹ کے عمل کے لیے پک آرڈر کا بھی اعلان کردیا ہے۔

کھلاڑیوں کے انتخاب کی ترتیب کی بات کی جائے تو اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم کی پہلی پِک ہوگی جس کے بعد ملتان سلطانز دوسرے نمبر پر کھلاڑی منتخب کر سکے گی۔

تیسرے پر لاہور قلندرز، چوتھے پر پشاور زلمی، پانچویں پر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور آخری میں موجودہ چیمپیئن کراچی کنگز کی ٹیم ڈرافٹ میں کھلاڑی منتخب کرے گی۔