جے پی ایم سی سمیت چار ہسپتالوں کا انتظام سنبھالنے کیلئے وفاق کا اہم قدم

اپ ڈیٹ 12 جنوری 2021

ای میل

جے پی ایم سی سمیت چار ہسپتالوں کو فیڈرل میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوٹ آرڈیننس 2020 کے شیڈول میں شامل کیا گیا ہے— فائل فوٹو: ڈان/ شامین خان
جے پی ایم سی سمیت چار ہسپتالوں کو فیڈرل میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوٹ آرڈیننس 2020 کے شیڈول میں شامل کیا گیا ہے— فائل فوٹو: ڈان/ شامین خان

کراچی: وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز ضوابط اور کوآرڈینیشن نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس کے تحت کراچی کے تین اور لاہور میں واقع ایک ہسپتال سمیت صحت کی چار سہولیات کو فیڈرل میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوٹ آرڈیننس 2020 کے شیڈول میں شامل کیا گیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ان اداروں میں کراچی کا جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی)، قومی ادارہ برائے امراض قلب (این آئی سی وی ڈی) اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چلڈرن ہیلتھ (این آئی سی ایچ) ہیں اور لاہور کا شیخ زید پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ (ایس زیڈ پی ایم آئی) شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل نہ کرنے پر وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت کی درخواست

دلچسپ بات یہ ہے کہ 7 جنوری 2021 کے نوٹیفکیشن میں محکمہ صحت سندھ کو مارک نہیں کیا گیا ہے جو ایک اہم اسٹیک ہولڈر ہے اور ایک دہائی سے کراچی کے ہسپتالوں کا انتظامی کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے۔

جے پی ایم سی کے ایک سینئر ڈاکٹر نے کہا کہ جے پی ایم سی، این آئی سی ایچ اور این آئی سی وی ڈی کو سنبھالنے کے لیے وفاقی حکومت کا یہ پہلا قدم ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ وفاقی حکومت نے ان اداروں کو پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین کے ذریعے چلانے کا ارادہ کیا ہے، انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہا کہ اس نوٹیفکیشن میں پمز بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین کو بھی مارک کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ جے پی ایم سی، این آئی سی ایچ اور این آئی سی وی ڈی کو 2011 سے انتظامی غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے جہاں ان اداروں کے ملازمین نے 18 ویں آئینی ترمیم کے تحت اداروں کی صوبے میں ممکنہ منتقلی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ سے مداخلت کا مطالبہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ: شیخ زاید ہسپتال کا انتظام وفاقی حکومت کے حوالے کرنے کا حکم

یہ معاملہ 2016 میں اس وقت تک زیر التوا رہا جب عدالت نے حکم دیا کہ ان ہسپتالوں کا کنٹرول وفاقی حکومت کے پاس رہے گا تاہم اس فیصلے کو اسی سال سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کی طرف سے دائر اپیل پر معطل کردیا تھا۔

جنوری 2019 میں سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کی اپیل مسترد کردی اور وفاقی حکومت کو کراچی میں جے پی ایم سی، این آئی سی ایچ نیز ایس زیڈ پی ایم آئی کو بھی کنٹرول کرنے کا حکم دیا، مزید یہ کہ عدالت نے منتقلی کے لیے 90 دن کی میعاد طے کردی۔

گزشتہ سال جے پی ایم سی اور این آئی سی وی ڈی ملازمین نے مذکورہ حکم پر عمل درآمد نہ کرنے پر وفاق کے خلاف سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی، وفاقی حکومت نے بالآخر چھ ہفتوں میں فیصلے پر عمل درآمد کرنے کا وعدہ کیا تھا۔