امریکا میں 7 دہائیوں بعد پہلی مرتبہ خاتون کی سزائے موت پر عمل درآمد

اپ ڈیٹ 13 جنوری 2021

ای میل

امریکا کی ایک وفاقی عدالت نے موٹنمگری کی ذہنی حالت درست قرار نہیں دی تھی —فوٹو: اے پی
امریکا کی ایک وفاقی عدالت نے موٹنمگری کی ذہنی حالت درست قرار نہیں دی تھی —فوٹو: اے پی

امریکا میں تقریباً 7 دہائیوں بعد ایک خاتون کو حاملہ خاتون کو ان کا بچہ چھیننے کی غرض سے قتل کرنے کے کیس میں زہریلے انجکشن کے ذریعے سزائے موت پر عمل درآمد کر دی گئی۔

غیرملکی خبرایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق امریکی جسٹس ڈپارٹمنٹ کا کہنا تھا کہ 52 سالہ لیزا مونٹمگری کو ریاست انڈیانا کے ٹیرے ہاؤٹ میں ایسٹرن ٹائم کے مطابق صبح ایک بج کر 31 منٹ پر مردہ قرار دیا گیا۔

مزید پڑھیں: امریکا میں 16 سال بعد سزائے موت بحال

بیان میں کہا گیا کہ پھانسی 'وفاقی عدلیہ کی متفقہ تجویز کردہ اور میسوری کے مغربی ضلع کی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت کو مدنظر رکھ کر دی گئی ہے'۔

امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کی جانب سے سزائے موت دینے کی درخواست کے بعد ملزم کی ذہنی حالت پر شکوک کے باوجود چند گھنٹے قبل ہی لیزا مونٹمگری کو سزائے موت دینے کے طریقے کی اجازت دی تھی۔

رپورٹ کے مطابق 52 سالہ خاتون کو سزائے موت دینے سے قبل وفاقی عدالتوں میں کئی رکاوٹیں سامنے آئیں جہاں ابتدائی طور پر انتہائی سخت زیریلے انجکشن کے ذریعے انڈیانا کی جیل میں دو روز قبل سزا پر عمل درآمد شیڈول تھی۔

وکیل صفائی نے بھی ان کے جرم کی سنگینی سے انکار نہیں کیا تھا۔

ملزمہ کی وکیل کیلی ہنری نے اپنے بیان میں فیصلے کو ظالمانہ، غیر قانونی اور آمرانہ طاقت کا غیر ضروری استعمال قرار دیا۔

کیلی ہنری نے کہا کہ 'مونٹمگری کے ساتھ طویل عرصے جاری ذہنی مسائل سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کیونکہ سب سے پہلے جیل کے اپنے ڈاکٹروں نے تشخیص اور علاج کیا تھا'۔

لیزا مونٹمگری 1953 کے بعد پہلی سزائے موت پانے والی امریکی خاتون قیدی بن گئیں۔

خیال رہے کہ لیزا مونٹمگری نے 2004 میں 23 سالہ حاملہ خاتون کو ان کا بچہ چرانے کے لیے قتل کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا: 17 سال بعد پہلی سزائے موت پر عملدرآمد آخری لمحات میں مؤخر

میسوری میں امریکی عدالت 2007 میں لیزا مونٹمگری کو بوبی جو اسٹنیٹ کو اغوا اور گلہ کاٹنے کے جرم میں سزا سنائی تھی، جو اس وقت 8 ماہ کی حاملہ تھیں۔

ملزمہ نے مقتولہ کی بچہ دانی کاٹ دی تھی تاہم بچہ زندہ تھا۔

امریکا کے جسٹس ڈپارٹمنٹ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مقتولہ بوبی جو اسٹنیٹ کے متعدد رشتہ دار بھی لیز مونٹمگری کی سزائے موت پر عمل درآمد کے موقع پر موجود تھے۔

مونٹمگری کی وکیل کا ماننا ہے کہ وہ گزشتہ 7 ماہ سے شدید ذہبی عارضے میں مبتلا تھیں جس کی وجہ ان کے ساتھ بچپن میں پیش آنے والے واقعات تھے۔

رواں ہفتے کے آغاز میں وفاقی عدالت کے ایک جج نے وکیل صفائی کو ایک مختصر موقع ضرور فراہم کیا تھا اور ملزمہ کی سزائے موت پر عمل درآمد روک کر ان کی ذہنی حالت کا جائزہ لینے کی ہدایت کی تھی۔

عدالت کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ 'عدالت میں پیش کیے گئے ریکارڈ کے مطابق لیزا مونٹمگری کی موجودہ ذہنی حالت حقیقت سے کوسوں دور ہے اور وہ حکومت کی جانب سے انہیں دی جانے والی سخت سزائے موت کی وجوہات عقلی طور پر سمجھ نہیں سکتی ہیں'۔

دوسری جانب اپیل کورٹ نے گزشتہ روز اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا اور فیصلہ امریکی سپریم کورٹ پر چھوڑ دیا جہاں سزائے موت پر عمل درآمد کی اجازت دی گئی۔

رحم کی اپیل مسترد

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی پارٹی کے کئی اراکین سزائے موت کے حق میں ہیں اور انہوں نے مونٹمگری کے حامیوں کی جانب سے کی گئی رحم کی اپیل کو نظر انداز کیا۔

مزید پڑھیں: امریکا: 17 برس بعد مجرموں کی سزائے موت پر عملدرآمد کا شیڈول جاری

امریکا سمیت دنیا کے اکثر ممالک میں سزائے موت کے خاتمے کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ برس جولائی میں 17 برس بعد اسے بحال کردیا تھا اور اس وقت غیر معمولی شرح سامنے آئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ٹیرے ہاؤٹ میں زیریلے انجکشن کے ذریعے 10 امریکیوں کو سزائے موت دی جاچکی ہے اور مونٹمگری کے ساتھ مزید 2 مرد بھی رواں ہفتے تختہ دار پر چڑھ جائیں گے، جن کی سزائے موت پر عمل درآمد کووڈ-19 کے باعث ملتوی کی گئی تھی۔

ڈیموکریٹ سینیٹر ڈک ڈربن نے رواں ہفتے کے شروع میں سزائے موت کے خاتمے کے لیے قانون سازی متعارف کروانے کا اعلان کیا تھا اور یہ قانون جوبائیڈن کے منصب سنبھالنے کے بعد ممکن ہوسکتا ہے جو اگلے ہفتے حلف اٹھائیں اور سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی اکثریت ہوجائے گی۔

ٹیکساس سمیت امریکی ریاستوں میں وبا کے باعث سزائے موت پر عمل درآمد بند ہے لیکن مرکزی حکومت نے ٹرمپ کے صدارت چھوڑنے سے قبل ہی کئی سزاؤں پر عمل درآمد کے لیے زور دیا۔