ایک پاکستانی سیاستدان نے سعودی عرب سے برطانیہ ایک ارب ڈالر منتقل کیے، وزیر اعظم

اپ ڈیٹ 13 جنوری 2021

ای میل

انہوں نے کہا کہ جو لوگ پرانے نظام سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں وہ تبدیلی نہیں آنے دیتے—فوٹو: ڈان نیوز
انہوں نے کہا کہ جو لوگ پرانے نظام سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں وہ تبدیلی نہیں آنے دیتے—فوٹو: ڈان نیوز

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ برطانوی کمپنی کا عہدیدار اپنے انٹرویو میں واضح کردیا کہ کس طرح وزیراعظم اور دیگر وزرا پیسہ چوری کرکے برطانیہ منتقل کر رہے تھے جبکہ ایک پاکستانی سیاستدان نے سعودی عرب سے برطانیہ ایک ارب ڈالر منتقل کیے۔

اسلام آباد میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) میں ای بڈنگ، ای بلنگ اور جی آئی ایس میپنگ کے آغاز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ملک میں کرپشن اور رشوت کی جڑیں اس قدر مضبوط اور گہری ہوچکی ہیں کہ ملک کے نظام میں کرپشن کو تسلیم کرلیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: 'خدشہ ہے عمران خان 5 کے بجائے 10 سال مکمل کرلیں گے'

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں 20 سال سے پیپر لس نظام فعال ہے جس کی وجہ سے کرپشن اور بدعنوانی کا گراف غیر معمولی طور پر کم ہوگیا کیونکہ آٹومیشن طریقے سے شفافیت کا پہلوؤں نمایاں رہتا ہے۔

وزیر اعظم نے پاکستان میں تبدیلی سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تبدیلی نہ آنے کی بڑی وجہ 'اسٹیٹس کو' ہے، جسے آپ مافیا بھی کہہ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ پرانے نظام سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں وہ تبدیلی نہیں آنے دیتے۔

عمران خان نے شوکت خانم ہسپتال کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ 'ہم نے کرپشن اور سفارش کو ختم کرنے کے لیے پورے ہسپتال کے انتظامی امور کو پیپر لیس کردیا جس کے بعد اب ادھر کوئی کرپشن نہیں ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ ادویات کی خرید و فروخت سے لےکر تمام انتظامی امور ای بڈنگ اور ای بلنگ پر فعال ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی جانب سے پی ٹی آئی کے بیانیے کی براہ راست نگرانی کا انکشاف

انہوں نے سرکاری ادارے کا نام ظاہر کیے بغیر بتایا کہ شوکت خانم ہسپتال میں چند سرکاری لوگوں کا علاج ہوا اس مد میں ملنے والے چیک کو کلیئر کرانے کے لیے اس ادارے میں پیش کیا تو انہوں نے کمیشن بطور رشوت طلب کیا۔

عمران خان نے کہا کہ اس سرکاری ادارے نے فلاحی ادارے سے یہ کہہ کر رشوت طلب کی کہ یہاں ایسا ہی نظام ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملائیشیا اور انڈونیشا میں مسلمان فوج نہیں گئی تھی کہ وہ لوگ مسلمان ہوئے بلکہ باکردار اور بااخلاق مسلمانوں تاجروں کو دیکھ کر ادھر اسلام پھیلا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایسی مثالیں ملتی ہے کہ دنیا بھر میں پاکستانی شہریوں کی عزت تھی، پاکستانی صدر کے استقبال کے لیے امریکی صدر ایئرپورٹ پر موجود ہوتا تھا۔

عمران خان نے کہا کہ ہماری تنزلی وہاں سے شروع ہوئی جب سچائی سے دور ہوئے اور رشوت عام ہوئی اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے کرپشن کو سینے سے لگایا۔

مزید پڑھیں: وزیر اعظم عمران خان نے صنعتی شعبے کے لیے بڑا اعلان کردیا

انہوں نے براڈ شیٹ اسکینڈل کا حوالہ دے کر کہا کہ برطانوی کمپنی کا عہدیدار اپنے انٹرویو میں واضح کر رہا ہے کہ کس طرح وزیراعظم اور دیگر وزرا پیسہ چوری کرکے برطانیہ منتقل کر رہے تھے۔

عمران خان نے مزید کہا کہ 'ایک پاکستانی سیاستدان نے سعودی عرب سے برطانیہ ایک ارب ڈالر منتقل کیے'۔

انہوں نے کہا کہ جب ملک کا وزیر اعظم چوری کرے گا تو نچلی سطح تک چوری کا رجحان بڑھے گا اور کرپشن عام ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک کے وزیر اعظم اور صدور کے رہن سہن دیکھ لیں اور پاکستان جیسے مقروض ملک کے سابق حکمرانوں کا رہن سہن دیکھ لیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان سے جانے والے سابق صدر اور وزیر اعظم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے جاتے تھے تو انتہائی مہنگے ہوٹلز میں رہتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ کمیشن یا رشوت سڑکوں کی تعمیر پر ہوتا ہے اس لیے این ایچ اے ای نے اپنے انتظامی امور پر ڈیجیٹلائزیشن کرنے کا فیصلہ کیا جس کا مطلب ہے کہ چند لوگوں کے لی پیسہ بنانا مشکل ہوجائےگا۔

مزید پڑھیں: سابق حکمران فوج کو پنجاب پولیس بنانا چاہتے تھے، عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سب سے بڑی تبدیلی اس وقت آئے گی جب ایف بی آر مکمل طور پر ڈیجیٹلائز ہوجائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میں نے جولائی تک ٹیم کو ہدف دیا ہے کہ ایف بی آر کو مکمل ڈیجیٹلائز کردیا جائے'۔

عمران خان نے امید ظاہر کی کہ ایف بی آر مکمل ڈیجیٹلائز ہونے سے ٹیکس وصولی کا گراف بہتر ہوگا جس کے بعد شعبہ تعلیم سمیت مختلف شعبہ جات میں خرچ کیا جا سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے تمام وزارتوں کو 6 ماہ کا وقت دیا ہے اور امید ہے کہ وہ ای گورننس پر آجائیں گی۔