لاہور: باپ نے ذہنی اور جسمانی معذور بیٹیوں کو قتل کرکے خودکشی کرلی

اپ ڈیٹ 14 جنوری 2021

ای میل

70 سالہ ضیا بٹ نے مبینہ طور پر پہلے اپنی بیٹیوں کا گلا کاٹا اور پھر اسی ہتھیار سے اس اپنا بھی گلا کاٹ لیا، رپورٹ     - فائل فوٹو:رائٹرز
70 سالہ ضیا بٹ نے مبینہ طور پر پہلے اپنی بیٹیوں کا گلا کاٹا اور پھر اسی ہتھیار سے اس اپنا بھی گلا کاٹ لیا، رپورٹ - فائل فوٹو:رائٹرز

لاہور کے علاقے ساندہ میں ایک شخص نے مبینہ طور پر اپنی دو ذہنی اور جسمانی طور پر معذور بیٹیوں کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کرلی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق 70 سالہ ضیا بٹ نے مبینہ طور پر پہلے اپنی بیٹیوں 34 سالہ سعدیہ اور 31 سالہ اقصٰی کا گلا کاٹنے کے بعد اسی ہتھیار سے اس اپنا بھی گلا کاٹ لیا۔

پولیس تفتیش کاروں نے دعویٰ کیا کہ ضیا بٹ نے اپنی بیٹیوں کو ان کے مستقبل کی فکر میں قتل کیا کیونکہ وہ پیدائشی طور پر ذہنی اور جسمانی دونوں طرح سے معذور تھیں۔

مزید پڑھیں: زین آفندی قتل کیس: ڈکیتی اور قتل کی ایف آئی آر اہلیہ کی مدعیت میں درج

اقبال ٹاؤن ڈویژن کے ایس پی کیپٹن (ر) محمد اجمل نے ڈان کو بتایا کہ 'چار افراد راج گڑھ میں ایک چھوٹے سے مکان میں رہائش پذیر تھے'۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کو ایک پڑوسی نے واقعے کے بارے میں آگاہ کیا جس نے بدھ کی شام کے وقت 15 کو فون کیا تھا۔

پولیس کی ایک ٹیم ریسکیو 1122 کے عملے کے ہمراہ جائے وقوع پر پہنچی اور دونوں خواتین کی لاشیں برآمد کیں اور ان کے شدید زخمی باپ کو گھر کے ایک کمرے میں خون میں لت پت پایا۔

ایس پی نے بتایا کہ بچی کی والدہ نے واقعے کی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ضیا بٹ نے سعدیہ اور اقصیٰ کے کمرے کو اندر سے بند کر کے انہیں قتل کیا۔

اس نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنی بیٹیوں سے پیار کرتا تھا اور انہیں کھانا کھلانے سے لے کر کپڑے تبدیل کرنے تک سارا دن ان کی دیکھ بھال کرتا تھا۔

اس نے پولیس کو بتایا کہ صبح 5 بجے کے قریب جب اس کا شوہر بیٹیوں کے کمرے میں گیا اور اسے لاک کیا تو وہ سمجھیں کہ وہ معمول کے مطابق ان کی دیکھ بھال کررہا ہے۔

تھوڑی دیر بعد اس نے اپنے شوہر کی چیخیں سنیں اور دروازہ کھٹکھٹایا، جب اس نے اسے کھولا تو وہ خون میں لت پت تھا اور دونوں بیٹیاں ہلاک ہوچکی تھیں جس کے بعد اس نے فوری طور پر اپنے پڑوسیوں کو آگاہ کیا جنہوں نے پولیس کو فون کیا۔

ریسکیو 1122 نے ضیا بٹ کو فوری طور پر ہسپتال پہنچایا تاہم وہ راستے میں ہی دم توڑ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد: میجر لاریب قتل کیس میں ایک مجرم کو سزائے موت، دوسرے کو عمر قید

خاتون کے مطابق ضیا بٹ واقعی خصوصی ضروریات کی وجہ سے اپنی بیٹیوں کے مستقبل کے بارے میں فکر مند تھے۔

انہوں نے بتایا کہ منگل کی رات سونے سے قبل ان کے شوہر نے کہا تھا کہ 'میرے مرنے کے بعد میری مفلوج اور لاچار بیٹیوں کی دیکھ بھال کون کرے گا'۔

ایس پی نے خاتون کی عمر کی وجہ سے ہونے والے قتل میں ان کے ملوث ہونے کے امکان کو مسترد کردیا۔

انہوں نے کہا کہ 'ضیا بٹ 70 سال کے ہونے کے باوجود ایک صحت مند اور مضبوط شخص تھے'۔

انہوں نے مزید کہا کہ خاتون نے فوجداری مقدمہ درج کرنے سے انکار کرنے کے باوجود پولیس نے کرائم سین سے نمونے اکٹھے کیے اور انہیں فرانزک تجزیہ کے لیے لیبارٹری بھیج کر کیس کی تفتیش شروع کردی۔