لاہور ہائیکورٹ: ڈی ایچ اے کا متروکہ زمین کا دعویٰ کرنے پر چیف جسٹس کا اظہار برہمی

اپ ڈیٹ 16 جنوری 2021

ای میل

اب میں سمجھ گیا ہوں کہ پولیس کا محکمہ زمین سے اپنا قبضہ خالی کرنے میں کیوں ہچکچا رہا ہے، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ - فوٹو:وکی میڈیا کامنز
اب میں سمجھ گیا ہوں کہ پولیس کا محکمہ زمین سے اپنا قبضہ خالی کرنے میں کیوں ہچکچا رہا ہے، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ - فوٹو:وکی میڈیا کامنز

لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس محمد قاسم خان نے پولیس کی جانب سے غیر قانونی طور پر قبضہ کی گئی متروکہ وقف املاک بورڈ (ای ٹی پی بی) کی زمین پر ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کا بھی اپنی ملکیت کا دعوی کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ 'اب میں سمجھ گیا ہوں کہ پولیس کا محکمہ زمین سے اپنا قبضہ خالی کرنے میں کیوں ہچکچا رہا ہے'۔

ایک صوبائی حکومت کی درخواست میں انکشاف ہوا ہے کہ ایلیٹ پولیس ٹریننگ اسکول (ای پی ٹی ایس) کے خلاف ڈی ایچ اے کے مقدمے میں سول عدالت کے سامنے قانونی چارہ جوئی زیر التوا ہے۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل آصف بھٹی نے عدالت کو بتایا کہ سول عدالت نے ڈی ایچ اے کے حق میں حکم امتناع جاری کیا۔

مزید پڑھیں: پولیس قبضہ گروپ بن جائے گی تو موٹروے جیسے واقعات ہوتے رہیں گے، لاہور ہائیکورٹ

انہوں نے کہا کہ حکم امتناع کی موجودگی میں زمین کا قبضہ ای ٹی پی بی کو نہیں دیا جاسکتا۔

چیف جسٹس نے معاملے میں ڈی ایچ اے کی شمولیت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہاؤسنگ اتھارٹی کو بھی شہدا کے اہل خانہ کے لیے مختص پلاٹوں کے اسکینڈل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایسا لگتا ہے کہ 'پولیس ڈی ایچ اے کے ساتھ مل کر زمین پر قبضہ کرنا چاہتی ہے، کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں'۔

چیف جسٹس نے انسپکٹر جنرل پولیس انعام غنی اور عدالت میں موجود دیگر سرکاری عہدیداروں کو کو یاد دلایا کہ 'آپ لوگ اقلیتوں کے لیے مختص اراضی پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں'۔

لا آفیسر نے بتایا کہ ڈی ایچ اے نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس نے یہ اراضی ای ٹی پی بی سے خریدی ہے تاہم پولیس ٹریننگ اسکول نے حفاظتی وجوہات کی بنا پر یہ قبضہ اپنے پاس رکھا ہے۔

انہوں نے ڈپٹی کمشنر کے دفتر کی جانب سے تیار کردہ زمین کا نقشہ بھی پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ ای ٹی پی بی اور ای پی ٹی ایس کے درمیان تبادلے کے معاہدہ کو ڈپٹی کمشنر نے منظور نہیں کیا تھا۔

چیف جسٹس نے نشاندہی کی کہ ای ٹی پی بی کی اراضی فروخت نہیں کی جاسکتی ہے اور نہ ہی خریدی جاسکتی ہے تاہم اس کو کمانے کے مقاصد سے کرائے پر دیا جاسکتا ہے۔

حکومت کی درخواست سے انکشاف ہوا ہے کہ زیر زمین اراضی کا تبادلہ 2003 میں میجر (ر) ثناء اللہ نے کیا تھا جو اس وقت انچارج ای پی ٹی ایس تھے اور اس پر ای ٹی پی بی نے بھی اتفاق کیا تھا۔

چیف جسٹس نے آئی جی پی انعام غنی کو ہدایت کی کہ وہ اسکول کے لیے زمین خریدنے کے بعد سے صوبائی پولیس چیف، سی سی پی او اور پولیس ٹریننگ اسکول کے کمانڈنٹ کے عہدوں پر فائز افراد کے نام پیش کریں۔

آئی جی پی کو ہدایت کی گئی کہ وہ سیکریٹری دفاع سے مدد لیں اور میجر (ر) ثناء اللہ کا سراغ لگائیں۔

چیف جسٹس نے آئندہ سماعت پر لا آفیسر کو عدالت کی مدد کرنے کی بھی ہدایت کی کہ اقلیتوں کی زمین پر قبضہ کرنے کے لیے پولیس کے محکمہ پر کس جرم میں فرد جرم عائد کیا جاسکتا ہے۔

اس سے قبل اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل گوہر نفیس نے عدالت کو بتایا تھا کہ ان کے ادارے کے پاس اس معاملے میں دائرہ اختیار کی کمی ہے کیونکہ ای ٹی پی بی ایک وفاقی ادارہ ہے۔

سماعت 21 جنوری تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: ’پولیس کو شرم آنی چاہیے،گالیاں بھی کھاتی ہے اور بدمعاشوں کی طرف داری بھی کرتی ہے‘

واضح رہے کہ محمد زکریا اور دیگر نے پولیس کو ای ٹی پی بی کی اراضی کو لیز پر الاٹ نہ کرنے پر پولیس کے خلاف ایڈووکیٹ آصف اعوان کے ذریعے توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی۔

2001 میں پولیس نے ای ٹی پی بی سے درخواست کی تھی کہ وہ 72 کنال اور سات مرلہ اراضی پر ایلیٹ پولیس ٹریننگ اسکول تعمیر کرنے دے۔

پولیس حکام نے ایک ہی سائز کی ای ٹی پی بی اراضی کی پیش کش کی تھی لیکن بکھرے ہوئے شکل میں تین مختلف مقامات پر۔

ٹرسٹ کے بورڈ نے اراضی کے سودے کو 2011 میں عمل میں لایا اور بعد میں درخواست گزاروں اور دیگر افراد کے بدلے اس کو ملنے والی اراضی کرائے پر دے دی تھی۔

تاہم پولیس نے ایک بار پھر 2020 میں یہ اراضی اپنے قبضہ میں کرلی اور درخواست گزاروں کو ای ٹی پی بی کے ذریعے دیئے گئے ان کے جائز قبضے سے محروم کردیا تھا۔