مودی سرکار اور ان کے منظور نظر میڈیا کا گٹھ جوڑ بےنقاب ہوچکا ہے، شاہ محمود قریشی

18 جنوری 2021
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے بیان میں بھارت پر تنقید کی—فائل فوٹو: اے پی
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے بیان میں بھارت پر تنقید کی—فائل فوٹو: اے پی

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت اور ان کے منظور نظر میڈیا کا گٹھ جوڑ کھل کر سب کے سامنے بے نقاب ہوچکا ہے۔

اپنے ایک بیان میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پلواما واقعہ کے حوالے سے میرے بیانات آن ریکارڈ ہیں، ہم نے واضح کیا تھا کہ پلواما، بھارت کی جانب سے ایک فالس فلیگ (جعلی) آپریشن ہے اور اس کی آڑ میں بھارت کوئی چال چل سکتا ہے، بالآخر بھارت کی وہ سازش ہے نقاب ہو گئی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’مودی سرکار نے انتخابات جیتنے کے لیے اپنے ہی 40 فوجیوں کی جان لی‘، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یہ ان فوجیوں کی ہلاکت پر غمزدہ نہیں ہوتے بلکہ ان کے منظور نظر اینکر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ مودی کی جیت کے لیے زبردست چال ثابت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ یہ اپنے سیاسی مقاصد اور اپنے داخلی معاملات سے توجہ ہٹانے کے لیے پورے خطے کے امن کو تہہ و بالا کرنے پر تلے ہوئے ہیں، تاہم ہم خطے میں امن و استحکام چاہتے ہیں جبکہ بھارت ہندوتوا سوچ کے تحت بدامنی چاہتا ہے۔

مزید پڑھیں: مودی حکومت، بھارتی میڈیا کا گٹھ جوڑ خطرناک فوجی مہم جوئی کا باعث بنا، عمران خان

ساتھ ہی وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارت افغانستان میں ایک اسپائلر کا کردار ادا کر رہا ہے۔

اپنے بیان میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ تاریخ شاہد ہے کہ 26 فروری کو جب انہوں نے پاکستان پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی تو ہم نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور جذبہ خیر سگالی کے تحت ان کا گرفتار پائلٹ واپس کردیا، اس کے علاوہ14 نومبر کو ہم نے بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور بھارت کی جانب سے دہشت گردوں کی پشت پناہی کے ناقابل تردید ثبوت دنیا کے سامنے رکھے، مزید یہ ای یو ڈس انفولیب کے چشم کشا انکشافات نے بھارت کے ناپاک عزائم کی قلعی کھول دی۔

وزیر خارجہ کے مطابق بھارت اب پوری طرح بے نقاب ہو چکا ہے، لہٰذا ہم چاہتے ہیں دنیا ہمارے ڈوزیئر کو سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے بھارت کے خلاف پیش کیے گئے ٹھوس شواہد کا جائزہ لے اور اسے ذمہ دار ٹھہرائے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا میں 20 جنوری کو نئی قیادت حکومت سنبھالنے جارہی ہے جو انسانی حقوق کی بات کرتی ہے اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل کی حامی ہے، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھی ہمیشہ مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل کی بات کی لیکن بھارت نے ہمیشہ ماحول کو خراب کیا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ5 اگست 2019 کے یکطرفہ اور غیر آئینی اقدامات اس کا واضح ثبوت ہیں، بھارت یکے بعد دیگرے اپنی غیر ذمہ دارانہ حرکتوں کی وجہ سے بے نقاب ہو رہا ہے، آج برطانوی پارلیمنٹ میں بھارت کے خلاف آوازیں آٹھ رہی ہیں اور متعدد برطانوی اراکین پارلیمنٹ کہہ رہے ہیں کہ بھارت جو کہہ رہا ہے وہ درست نہیں ہے، کشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازع ہے یہ بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے 5 اگست کے یکطرفہ اقدامات سے پہلے یکم اگست کو مزید 2 لاکھ فوج مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھجوائی اور بہانہ یہ بنایا کہ وہ یاتریوں کی حفاظت کے لیے بھجوا رہے ہیں، دراصل یہ تیاری اس منصوبہ بندی کا حصہ تھی جو انہوں نے 5 اگست 2019 کے اقدامات اور ان کے بعد سامنے آنے والے شدید ردعمل کو دبانے کے لیے کر رکھی تھی۔

وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ بھارت ہمارے میڈیا کی آزادی پر سوال اٹھاتا ہے مگر آج آر ایس ایس کے منشور پر گامزن، بی جے پی سرکار اور ان کے منظور نظر میڈیا کا گٹھ جوڑ کھل کر سب کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ کس طرح اہم خفیہ معلومات، قبل از وقت ایک اینکر کے پاس پہنچ سکتی ہیں؟ کیا یہ الیکشن ماحول کو سازگار بنانے کے لیے کوئی ’پلانڈ لیک‘ تھا؟، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہم ان سب نکات کو عالمی سطح پر بھرپور طریقے سے اٹھائیں گے۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں ممبئی پولیس نے اپنی تحقیقات میں انکشاف کیا تھا کہ بھارتی ٹیلی ویژن کے جارح مزاج نیوز اینکر اور ری پبلک ٹی وی کے ایڈیٹر ان چیف ارنب گوسوامی، مودی حکومت کی جانب سے پاکستان میں 26 فروری 2019 کو ہونے والے بالاکوٹ واقعے کے بارے میں پہلے ہی سے واقف تھے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: ارنب گوسوامی بالاکوٹ حملے کے بارے میں 3 روز پہلے ہی سے باخبر تھا، پولیس

بیشتر بھارتی میڈیا اداروں نے بتایا تھا کہ ٹیلی ویژن کی ریٹنگ میں ہیرا پھیری سے متعلق تحقیقات کے دوران ممبئی پولیس نے اپنی تحقیقات میں یہ انکشاف کیا تھا۔

پولیس نے ارنب گوسوامی اور ریٹنگ کمپنی براڈکاسٹ آڈوئین ریسرچ کونسل (بی اے آر سی) کے سربراہ داس گپتا کے مابین واٹس ایپ پر ہونے والی گفتگو کو بھی تحقیقات میں شامل کیا تھا۔

ارنب گوسوامی اور پرتھو داس گپتا کے مابین ہونے والی گفتگو کے اقتباسات کے مطابق ارنب گوسوامی نے 23 فروری 2019 کو داس گپتا کو متنبہ کیا تھا کہ 'ایک اور نوٹ پر کچھ اور بڑا ہوگا'۔

یاد رہے کہ 26 فروری 2019 کو بھارتی لڑاکا طیاروں نے بالاکوٹ میں فضائی حملہ کیا تھا اور اس حوالے سے نئی دہلی نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے جنگجوؤں کا کیمپ تباہ کردیا ہے، تاہم پاکستان نے ان دعوؤں کو مسترد کردیا تھا جب کہ بعد ازاں بھارتی وزیر دفاع نے بھی حملے سے متعلق نقصان کی تفصیلات بتانے سے معذرت کرلی تھی۔

تبصرے (0) بند ہیں