سوئٹزرلینڈ کی حکومت کا نقاب پر پابندی کے خلاف ووٹ دینے پر زور

اپ ڈیٹ 20 جنوری 2021

ای میل

سوئس حکومت نے اس اقدام کو سیاحت کے لیے نقصان دہ قرار دیا — فوٹو: رائٹرز
سوئس حکومت نے اس اقدام کو سیاحت کے لیے نقصان دہ قرار دیا — فوٹو: رائٹرز

سوئٹزرلینڈ کی حکومت نے ووٹرز پر زور دیا ہے کہ 7 مارچ کو چہرے کا مکمل نقاب اور برقعے پر پابندی کے حوالے سے ہونے والے ریفرنڈم کو مسترد کرنے کے لیے ووٹ دیں۔

خبر ایجنسی 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق سوئس حکومت نے ووٹرز کو تجویز دی ہے کہ 7 مارچ کے ریفرنڈم کو مسترد کردیں کیونکہ اس طرح کی پابندی سے سیاحت متاثر ہوگی۔

مزید پڑھیں: نیدرلینڈز میں نقاب سمیت کسی بھی چیز سے چہرہ ڈھانپنے پر پابندی

واضح رہے کہ سوئٹزرلینڈ میں براہ راست جمہوریت کے نظام کے تحت آئین میں کسی قسم کی تبدیلی کی تجویز مقبول ووٹ کے ذریعے ممکن ہوتی ہے اور اگر ایک لاکھ سے زائد ووٹرز حق میں دستخط کرتے ہیں تو کامیابی تصور کی جاتی ہے۔

قبل ازیں 2009 میں سوئس ووٹرز نے میناروں کی تعمیر پر پابندی کی تجویز کی حمایت کی تھی۔

سوئٹزرلینڈ کے سینٹ گالین اور ٹیسینو میں پہلے ہی علاقائی ووٹ کے ذریعے چہرے کے نقاب پر پابندی عائد کی جاچکی ہے لیکن سوئٹزرلینڈ کی حکومت نے کہا کہ ملک بھر میں اس طرح کی پابندی کو آئین کا حصہ بنانا برا منصوبہ ہوگا۔

حکومت نے اپنے بیان میں کہا کہ 'سوئٹزرلینڈ میں بہت کم لوگ پورے چہرے کا نقاب کرتے ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ 'ملک بھر میں پابندی سے علاقائی خود مختاری نظر انداز ہوگی، سیاحت کو نقصان اور مخصوص خواتین کے گروہ کے لیے عدم تعاون کا باعث ہوگا'۔

حکومت نے کہا کہ چہرے کا نقاب کرنے والی اکثر خواتین سیاح ہوتی ہیں اور ملک میں بہت کم وقت گزارتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ڈنمارک میں نقاب پر پابندی کا اطلاق ہونے پر احتجاج

سوئٹزرلینڈ کے علاقوں مونٹریوکس اور جنیوا جیل کے اطراف سمیت وسطی سوئٹزرلینڈ میں انٹرلیکن سمیت دیگر مقامات میں مسلمان سیاحوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اور ان میں خاص کر عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے سیاح ہوتے ہیں۔

اس سے قبل فرانس اور ڈنمارک نے ملک کی سیکیولر روایات کو برقرار رکھنے اور خواتین کے خلاف امتیازی سلوک ختم کرنے کے لیے نقاب پر پابندی عائد کردی تھی۔

سوئٹزرلینڈ میں بھی صنفی امتیاز کی بنیاد پر کسی کو چہرے کا نقاب پہننے پر جبر کرنے سے روکنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں برقعے پر پابندی کے لیے کام کرنے والی تنظیم ایگرکنگر کومیٹی کے ساتھ دائیں بازو کی سوئس پیپلزپارٹی (ایس وی پی) بھی شامل ہے، جو 2009 میں میناروں کی تعمیر پر پابندیوں کے بھی پیچھے تھے اور اس کے حق میں 60 فیصد ووٹ پڑے تھے۔

ووٹرز نے 2009 میں میناروں کو سوئٹزرلینڈ کی روایات اور اقدار سے اجنبی قرار دیا تھا کہ ایک ایسے وقت میں جب یورپ اور مشرق وسطیٰ میں داعش کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا تھا۔

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق سوئٹزرلینڈ کی 86 لاکھ کی آباد کا تقریباً 5 فیصد مسلمان ہیں۔

مزید پڑھیں: مصر: عوامی مقامات پر برقع اور نقاب پر پابندی کا بل پیش

سوئس حکومت کی جانب سے بھی برقعے پر پابندی کی تجویز کے خلاف اپنا لائحہ عمل ترتیب دے چکی ہے اور اگر 7 مارچ کو ووٹرز نے اس پابندی کو مسترد کردیا تو نافذ کردیا جائے گا۔

اس لائحہ عمل کے تحت برقعے پہننے والی خواتین کو انتظامی دفاتر یا عوامی ٹرانسپورٹ کی جگہ پر شناخت ظاہر کرنے کے لیے ضرورت پڑنے پر چہرہ دکھانا ہوگا۔