اندرونی حملے کا خدشہ، امریکی نیشنل گارڈ کے 12 اہلکار ڈیوٹی سے ہٹا دیے گئے

اپ ڈیٹ 20 جنوری 2021

ای میل

اہلکاروں کو ایف بی آئی کی جانچ پڑتال کے بعد سیکیورٹی آپریشن سے ہٹایا گیا — تصویر: اے پی
اہلکاروں کو ایف بی آئی کی جانچ پڑتال کے بعد سیکیورٹی آپریشن سے ہٹایا گیا — تصویر: اے پی

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں نو منتخب صدر جو بائیڈن کی تقریب حلف برداری سے قبل نیشنل گارڈ کے ایک درجن اراکین کو ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا ہے۔

امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق ان اہلکاروں کو فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کی جانچ پڑتال کے بعد سیکیورٹی آپریشن سے ہٹایا گیا جن میں سے 2 نے پوسٹس یا تحریر میں شدت پسند بیانات دیے تھے تاہم پینٹاگون حکام نے ان بیانات کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

خیال رہے کہ جو بائیڈن آج امریکا کے 46 ویں صدر کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے اور اس موقع پر دارالحکومت واشنگٹن میں کشیدگی کے خطرات کے پیش نظر سیکیورٹی انتہائی سخت کردی گئی ہے اور ہر ممکنہ خطرے پر نظر رکھی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر کی تقریب حلف برداری، واشنگٹن فوجی چھاؤنی کا منظر پیش کرنے لگا

2 امریکی عہدیداروں نے اے پی کو بتایا کہ 12 اہلکاروں کے دائیں بازو کے انتہا پسند ملیشیا گروپس سے تعلقات سامنے آئے تھے یا انہوں نے آن لائن انتہا پسند نظریات تحریر کیے تھے۔

اس معاملے کی تفصیلات بتانے والے ایک سینیئر انٹیلی جنس افسر، جو ایک فوجی افسر ہیں، انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ نیشنل گارڈ اراکین کس گروہ سے تعلق رکھتے تھے یا وہ کس یونٹ سے منسلک تھے۔

حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر اے پی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ تمام اہلکاروں کو 'سیکیورٹی ذمہ داریوں' کے باعث ہٹایا گیا۔

نیشنل گارڈ بیورو کے سربراہ جنرل ڈینیئل ہوکنسن نے تصدیق کی کہ گارڈ اراکین کو ہٹا کر گھر بھیج دیا ہے لیکن یہ بتایا کہ افتتاحی تقریب سے متعلق نامناسب تبصرے یا تحریر سے متعلق صرف 2 ہی کیسز ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ دیگر 10 کیسز ماضی میں اہلکار مجرمانہ رویوں یا سرگرمیوں میں ملوث رہنے کی وجہ سے پیش آنے والے ممکنہ مسائل سے متعلق ہیں اور ان کا افتتاحی تقریب سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔

مزید پڑھیں: ’ٹرمپ ہار تو گئے، لیکن بائیڈن کے لیے مشکلات کے پہاڑ کھڑے کر گئے‘

امریکی دفاعی عہدیداروں کو 6 جنوری کو ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے کیپٹل پر دھاوا بولنے کے بعد سے ممکنہ اندرونی حملے یا اہلکاروں کی جانب سے خطرے سے متعلق تشویش ہے۔

چنانچہ اس تشویش کے پیش نظر ان اہلکاروں کو دارالحکومت میں سیکیورٹی کی بھاری موجودگی سے ہٹایا گیا جبکہ ایف بی آئی واشنگٹن کے اس علاقے میں موجود تمام 25 ہزار نیشنل گارڈ اہلکاروں کی جانچ کا کام کررہی ہے۔

اگرچہ حکام کہہ چکے ہیں کہ پینٹاگون کو ایسی کوئی خفیہ اطلاع نہیں ملی جس میں اندرونی خطرے کا اشارہ ہو تاہم قانون نافذ کرنے والے حکام نہ صرف بیرونی خطرات سے مقابلہ کررہے ہیں بلکہ نومنتخب صدر کی سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں کی جانب سے اندرونی خطرات کے بارے میں بھی چوکنا ہیں۔

تاہم قانون نافذ کرنے والے حکام انتہا پسند دائیں بازو کے گروپس کے اراکین پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کے حامیوں نے کیپیٹل ہل پر دھاوا بول دیا، 4 افراد ہلاک

ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ حکام اس امکان کے حوالے سے خاصے فکرمند ہیں کہ اس قسم کے گروپس واشنگٹن میں داخل ہوکر پر تشدد تصادم کو جنم دے سکتے ہیں۔

عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ حتیٰ کہ تقریب سے چند گھنٹوں قبل بھی وفاقی محکموں کے ایجنٹس 'آن لائن تشویشناک بات چیت' پر نظر رکھے ہوئے ہیں جس میں منتخب عہدیداروں کے خلاف دھمکیوں کا ایک سلسلہ افتتاحی تقریب میں دراندازی کے طریقوں کے بارے میں تبادلہ خیال بھی شامل ہے۔

اس معاملے سے باخبر دو عہدیداروں کا کہنا تھا کہ ایف بی آئی نے قانون نافذ کرنے والے حکام کو دائین بازو کے انتہا پسندوں کے نیشنل گارڈ کا روپ دھارنے کے حوالے سے بھی خبردار کیا ہے۔