موبائل کمپنیوں کو وزیرستان میں تھری، فورجی سروسز فوری شروع کرنے کی ہدایت

اپ ڈیٹ 20 جنوری 2021

ای میل

وزیراعظم عمران خان  کے اعلان کے پیش نظر علاقے میں یہ خدمات آج رات سے فعال کردی جائیں گی، پی ٹی اے— فائل فوٹو: پی ٹی اے
وزیراعظم عمران خان کے اعلان کے پیش نظر علاقے میں یہ خدمات آج رات سے فعال کردی جائیں گی، پی ٹی اے— فائل فوٹو: پی ٹی اے

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے سیلولر موبائل آپریٹرز (سی ایم اوز ) کو جنوبی وزیرستان میں تھری جی اور فور جی موبائل برانڈ بینڈ سروسز کے آغاز کی ہدایات جاری کردیں۔

اس حوالے سے سے پی ٹی اے سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ وزیراعظم عمران خان کے اعلان کے پیش نظر جنوبی وزیرستان میں موبائل براڈ بینڈ کے آغاز کے لیے ہدایات جاری کردی گئیں۔

پریس ریلیز میں کہا گیا کہ یہ خدمات آج رات سے فعال کردی جائیں گی جس سے ان علاقوں کے رہائشی افراد تعلیم، صحت، کاروبار اور دیگر مقاصد کے لیےتھری اور فور جی سروسز سے استفادہ حاصل کرسکیں گے۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم کا وزیرستان میں تھری اور فور جی سروسز شروع کرنے کا اعلان

پی ٹی اے کے مطابق تھری اور فور جی کی فراہمی سے کورونا وائرس کی صورتحال کے دوران طلبہ کو آن لائن کلاسز سے مستفید ہونے میں مدد ملے گی۔

اتھارٹی کے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اس اقدام سے جنوبی وزیرستان کے علاقے کو تکنیکی ترقی کے معاملے میں ملک کے دیگر علاقوں کے مساوی بنانے میں مدد ملے گی۔

قبل ازیں وانا کے دورے کے دوران وزیراعظم عمران خان نے خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا کے دورے کے دوران علاقے میں آج سے ہی تھری اور فور جی سروسز شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت نے قبائلی اضلاع میں انٹرنیٹ کی بحالی کیلئے وقت مانگ لیا

انہوں نے کہا تھا کہ مجھے معلوم ہے کہ یہ نوجوانوں کا مطالبہ تھا جو جائز تھا کیونکہ موبائل فون، انٹریٹ اور 3 اور 4 جی کی سہولت سے تعلیم و ترقی کے لیے ضروری ہے۔

تھری اور فور جی میں تاخیر سے متعلق انہوں نے کہا تھا کہ سیکیورٹی کے مسائل تھے کیونکہ ہمارے دشمن بھارت میں ایک ایسی انتہا پسند حکومت ہے جو مسلمان اور پاکستانیوں کی دشمن ہے اور 73 سالہ تاریخ میں ایسا بھارتی وزیراعظم اور حکومت نہیں آئی۔

انہوں نے کہا تھا کہ یہ ہمارے نوجوانوں کی ضرورت ہے اور ہم آج سے تھری اور فور جی بحال کردیں گے۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس اسلام آباد کے تعلیمی ادارے میں زیر تعلیم قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک طالبعلم کی جانب سے اسی سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے درخواست بھی دائر کی گئی تھی۔

دائر پٹیشن کی سماعت میں وزارت داخلہ کے سیکشن افسر ایم ریاض وفاق کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئے۔

پٹیشنر نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ حکام کو قبائلی اضلاع میں انٹرنیٹ سروسز بحال کرنے کا حکم دیا جائے تا کہ وہ ملک میں نافذ لاک ڈاؤن کے دوران آن لائن کلاسز لے سکیں۔