اسٹیٹ بینک کا شرح سود 7 فیصد برقرار رکھنے کا اعلان

اپ ڈیٹ 22 جنوری 2021

ای میل

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کی سفارشات پر شرح سود برقرار رکھی گئی—فوٹو: ڈان نیوز
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کی سفارشات پر شرح سود برقرار رکھی گئی—فوٹو: ڈان نیوز

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک میں ہونے والی حالیہ مہنگائی کو عارضی قرار دیتے ہوئے شرح سود 7 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان کردیا۔

کراچی میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے کہا کہ مہنگائی کو زیادہ بڑھنے سے روکنا اسٹیٹ بینک کی بنیادی ذمہ داری ہے اس لحاظ سے مانیٹری پالیسی کمیٹی نے دیکھا کہ سال کی مہنگائی کی شرح 7 سے 9 فیصد ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس مہنگائی میں بجلی یا بین الاقوامی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو تو یہ عارضی ہے اور غذائی اشیا کی مہنگائی بھی عارضی تھا اس لیے کمیٹی کا خیال تھا کہ ان کی وجہ سے شرح سود میں تبدیلی کی ضرورت نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: اسٹیٹ بینک کا آئندہ دو ماہ کیلئے شرح سود 7 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان

انہوں نے کہا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کا خیال تھا کہ طلب میں دباؤ نہیں ہے کیونکہ ہماری صلاحیت مکمل طور پر زیر استعمال نہیں اور مہنگائی کی پیش گوئی میں توازن ہے۔

رضا باقر نے کہا کہ ان ساری وجوہات کی وجہ سے مانیٹری پالیسی کمیٹی کو معاشی حالت پر نظر رکھنا چاہیے، اس پر نکتہ نظر تھا کہ پہلے کے مقابلے میں حالات بہتر ہو رہے ہیں، کووڈ 19 میں پاکستان کی معیشت کے حالات بہت مشکل تھے اس کے مقابلے میں آہستہ آہستہ بہتری آئی ہے لیکن اب بھی وہ بہتری نہیں آئی جو ہم اپنی قوم کے لیے دیکھنا چاہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بڑا اہم ہے کہ مانیٹری پالیسی توازن کا پیغام دے کیونکہ طلب کا دباؤ نہیں ہے تو ریکوری کے لیے کمیٹی تعاون کرے، شرح سود کو برقرار رکھنے کی یہی دو وجوہات تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک نے پہلی دفعہ ایک نئی چیز کی ہے، وہ بھی فاروڈ گائیڈنس ہے، اس میں نہ صرف مانیٹری پالیسی کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ اس اجلاس میں شرح سود پر کیا فیصلہ ہوا ہے بلکہ مستقبل میں شرح سود میں مانیٹری پالیسی کیا دیکھ رہی ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ وہ اشارہ یہ ہے کہ مستقبل میں یہ شرح سود اسی حد میں برقرار رہے گی اور آگے جا کر جیسے ہماری معاشی حالت بہتر ہوتی ہے اور معاشی ریکوری مضبوط ہوتی ہے تو اس وقت شرح سود میں تبدیلی کی ضرورت آئی تو وہ یک دم نہیں ہوگی بلکہ تبدیلی آئی تو بتدریج آئے گی۔

یہ بھی پڑھیں: شرح سود میں ایک فیصد کمی، پالیسی ریٹ 7 فیصد کردیا گیا

ان کا کہنا تھا کہ مانٹیری پالیسی کمیٹی نے یہ اشارہ اس لیے دیا کہ مارکیٹ میں ہمارے کاروباری اور صنعت کاروں کو تشویش تھی کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) دوبارہ جانے والے ہیں تو کیا ایسے تو نہیں ہوگا کہ پہلے کی طرح یک دم تبدیلی آئے گی یا کوئی اور حالات ہیں جو سرمایہ کاروں کو سامنا ہو اور اس حوالے سے ان میں غیر یقینی تھی۔

رضا باقر نے کہا کہ آج ہماری معاشی حالت وہ نہیں ہے جب آئی ایم ایف کا پروگرام جون 2019 میں شروع کیا گیا تھا، آج ہماری معاشی حالت اس سے بہت بہتر ہے، اس وقت کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر ہمیں کچھ ایسے فیصلے کرنے پڑے تھے، اس لیے ہمیں آج اعتماد ہے کہ ہم فارورڈ گائیڈنس دیں جس طرح دیگر سینٹرل بینک دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے اشارہ دیا ہے کہ مستقبل قریب میں وہ شرح سود کو اسی سطح پر دیکھ رہے ہیں جو آج ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس اعتماد کی وجہ یہ تھی کیونکہ ایک وقت ایسا تھا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی وجہ سے ایکسچینج ریٹ گر رہا تھا اور خزانے میں بھی کمی آرہی تھی اور ایک وقت میں سالانہ 19 ارب کا خسارہ تھا لیکن رواں سال اب تک سرپلس ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ معیشت کی بہتری کے اعتماد کی دوسری وجہ یہ ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ کو بہتر کرنے کے لیے اداراہ جاتی تبدیلی کی گئی اور ایکسچینج ریٹ کے نظام کو مارکیٹ کی بنیاد پر کیا گیا، اس کا مطلب ہے کہ طلب اور رسد کو دیکھا جائے گا۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کو بالکل کھلا چھوڑ دے بلکہ اسٹیٹ بینک یہ اختیار رکھتا ہے کہ مارکیٹ کے حالات عدم توازن کا شکار ہوں تو واپس توازن میں لائے، یہ تبدیلی ہم نے مئی، جون 2019 میں کی تھی۔

یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک کی زری پالیسی کمیٹی نے 25 جون 2020 کو ہونے والے اپنے اجلاس میں پالیسی ریٹ 100 بیس پوائنٹ کم کر کے 7 فیصد کردیا تھا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کورونا وائرس کے ملکی معیشت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کے باعث مارچ سے اپریل 2020 تک ایک ماہ کے عرصے میں 3 مرتبہ شرح سود میں کمی کا اعلان کیا گیا تھا۔

17 مارچ 2020 کو 75 بیسز پوائنٹس کم کرتے ہوئے شرح سود 12.5 کردی گئی تھی جس کے ایک ہی ہفتے بعد پالیسی ریٹ میں مزید ڈیڑھ فیصد کمی کا اعلان کیا گیا تھا۔

اس کے بعد 16 اپریل 2020 کو اسٹیٹ بینک نے کورونا وائرس کے ملکی معیشت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کے باعث شرح سود میں 2 فیصد کمی کا اعلان کردیا تھا جس کے ساتھ ہی شرح سود 9 فیصد ہو گئی تھی جبکہ ایک ماہ بعد 15مئی کو شرح سود مزید کم کر کے 8 فیصد تک کردی گئی تھی۔

اسٹیٹ بینک نے بعد ازاں 25 جون 2020 کو کورونا وائرس کے باعث دباؤ کا شکار معیشت کو سہارا دینے کے لیے شرح سود میں مزید ایک فیصد کمی کرتے ہوئے پالیسی ریٹ 7 فیصد کردیا تھا۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ فیصلہ ملک میں معاشی سست رفتاری اور شرح نمو میں کمی کے خطرے اور شرح نمو کو بہتر بنانے اور روزگار کو تقویت دینے کے لیے کیا گیا ہے۔