عدلیہ مخالف پروگرام نشر کرنے پر بول نیوز کا لائسنس 30 روز کیلئے معطل، 10 لاکھ روپے جرمانہ

اپ ڈیٹ 22 جنوری 2021

ای میل

پیمرا کے مطابق مذکورہ فیصلے کا اطلاق فوری طور پر ہوگا—فائل فوٹو: فیس بک
پیمرا کے مطابق مذکورہ فیصلے کا اطلاق فوری طور پر ہوگا—فائل فوٹو: فیس بک

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے عدلیہ مخالف پروگرام نشر کرنے پر نجی چینل 'بول نیوز' کا لائسنس 30 روز کے لیے معطل کردیا اور 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کردیا۔

اس حوالے سے جاری اعلامیے کے مطابق 12 جنوری 2021 کو بول نیوز کے پروگرام 'تجزیہ' جس کے میزبان سمیع ابراہیم ہیں، میں عدلیہ مخالف مواد نشر کیا گیا۔

پیمرا کے مطابق پروگرام میں سمیع ابراہیم اور سینئر رپورٹر میاں داؤد نے ہائی کورٹ میں جج صاحبان کے تقرر اور اس کے طریقہ کار بحث کے دوران چیف جسٹس اور دیگر فاضل ججز کے خلاف ہرزہ سرائی کی اور نہایت غیر مناسب اور عامیانہ تبصرہ کیا۔

مزید پڑھیں: سندھ ہائیکورٹ نے بول نیوز کا لائسنس بحال کردیا

پریس ریلیز کے مطابق میزبان اور رپورٹر دونوں نے آئینِ پاکستان کی شق 19، 68 اور پیمرا قوانین سمیت ضابطہ اخلاق 2016 کی متعدد شقوں کی خلاف ورزی کی اور عدالت و فاضل ججز کے کنڈکٹ پر غیر ضروری پر بحث کی۔

پیمرا کے مطابق نجی چینل کو 12 جنوری 2021 کو جاری کیے گئے اظہارِ وجوہ کے نوٹس کے ذریعے اس معاملے پر 7 دن میں جواب طلب کیا گیا تھا۔

تاہم پیمرا کو جو جواب موصول ہوا تھا اس میں چینل کی جانب سے نہ اپنی کوتاہی تسلیم کی گئی اور نہ ہی عدلیہ مخالف مواد نشر کرنے پر معافی کی درخواست کی گئی۔

پیمرا مطابق نجی چینل نے مؤقف اختیار کیا کہ پروگرام میں نشر کیا گیا مواد پیمرا قوانین اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کی روشنی میں نشر کیا گیا لہذا انہیں جاری کردہ نوٹس واپس لیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: بول نیوز اور بول انٹرٹینمنٹ کے لائسنس منسوخ

پریس ریلیز کے مطابق پیمرا کی جانب سے بارہا نجی چینل کو یہ باور کروانے کی کوشش کی گئی کہ عدلیہ مخالف چلانے سے گریز کریں اور آئیں کی شق 19 کا احترام کرتے ہوئے اس پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔

پیمرا کے مطابق اتھارٹی نے 12 جنوری 2021 کو جاری کردہ اظہارِ وجوہ کے نوٹس پر کارروائی مکمل کرتے ہوئے 22 جنوری 2021 کو 'بول نیوز' کو جاری کیا گیا لائسنس معطل کردیا۔

اس کے ساتھ ہی پیمرا کی جانب سے بول نیوز پر 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کا 'بول نیوز' کی انتظامیہ کو نوٹس

پیمرا کے مطابق مذکورہ فیصلے کا اطلاق فوری طور پر ہوگا، اس ضمن میں تمام کیبل آپریٹرز کو فوری طور پر بول نیوز کی نشریات فوری بند کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ سال 2017 میں بھی پیمرا کی جانب سے بول نیوز اور بول انٹرٹینمنٹ کے لائسنس منسوخ کیے ہیں۔

مئی 2017 میں پیمرا نے وزارت داخلہ کی طرف سے ڈائریکٹرز کی سیکیورٹی کلیئرنس مسترد کیے جانے کے بعد بول نیوز اور بول انٹرٹینمنٹ (پاک نیوز) کے سیٹلائٹ ٹی وی لائسنسز فوری طور پر منسوخ کیے تھے۔