فارن فنڈنگ کیس سے خوف ہوتا تو اوپن سماعت کا نہیں کہتا، وزیر اعظم

اپ ڈیٹ 23 جنوری 2021

ای میل

وزیر اعظم نے کہا کہ براڈشیٹ کے معاملے میں ہمارا کوئی لینا دینا نہیں — فائل فوٹو / ڈان نیوز
وزیر اعظم نے کہا کہ براڈشیٹ کے معاملے میں ہمارا کوئی لینا دینا نہیں — فائل فوٹو / ڈان نیوز

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی تمام فنڈنگ قانونی ہے اور ریکارڈ پر ہے جبکہ مجھے اگر فارن فنڈنگ کیس سے خوف ہوتا تو اوپن سماعت کا نہیں کہتا۔

نجی چینل 'اے آر وائی نیوز' کے پروگرام 'اعتراض ہے' کے میزبان عادل عباسی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ 'اپوزیشن فارن فنڈنگ کیس سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن سمیت کہیں بھی لے کر جائے اس کی اوپن سماعت ہونی چاہیے، پی ٹی آئی کی تمام فنڈنگ قانونی ہے اور ریکارڈ پر ہے لیکن ان کے پاس فنڈنگ کے ریکارڈز نہیں ہیں، جبکہ مجھے اگر فارن فنڈنگ کیس سے خوف ہوتا تو اوپن سماعت کا نہیں کہتا'۔

فارن فنڈنگ کیس میں تاخیری حربے استعمال کرنے کے الزام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 'پچھلے الیکشن کمشنر اپوزیشن کے لگائے ہوئے تھے اور وہ پی ٹی آئی کے سب سے بڑے دشمن تھے اور وہ ہمارے خلاف گیم کھیل رہے تھے، اس وجہ سے فارن فنڈنگ کیس میں تاخیر ہوئی'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ایک آدمی جو پی ٹی آئی کا دشمن تھا وہ ہمارے اکاؤنٹس کی تحقیقات کرے ایسا نہیں ہوسکتا، آج الیکشن کمشنر پر ہمیں اعتماد ہے اور فارن فنڈنگ کیس میں یہ آج آجائیں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا'۔

یہ بھی پڑھیں: فارن فنڈنگ کیس کی سماعت ٹی وی پر براہ راست دکھائی جائے، وزیراعظم

'براڈشیٹ کا فیصلہ انکوائری کمیٹی کرے گی'

وزیراعظم نے براڈشیٹ معاملے کے حوالے سے کہا کہ 'اس معاملے میں ہمارا کوئی لینا دینا نہیں، جنرل مشرف نے اس سے معاہدہ کیا تھا اور بعد ازاں نواز شریف کو این آر او دے دیا جس کے بعد پاکستانی حکومت پیچھے ہٹ گئی'۔

انہوں نے کہا کہ 'اب انکوائری کمیٹی فیصلہ کرے گی کہ براڈشیٹ کا معاملہ کیسے حل کیا جائے، پاکستانیوں کے چوری کے اربوں ڈالر باہر پڑے ہوئے ہیں، پاکستان سے ہر سال تقریباً 10 ارب ڈالر منی لانڈرنگ کے ذریعے باہر جاتے ہیں، جبکہ براڈشیٹ کو اگر ادائیگی نہیں کرتے تو یومیہ 5 ہزار پاؤنڈ سود دینا پڑتا'۔

'پاکستان پر سارا بوجھ گزشتہ حکومتوں کا چڑھایا ہوا ہے'

قرضوں اور مہنگائی سے متعلق عمران خان نے کہا کہ 'جب روپیہ گرا تھا تو مہنگائی تو ہونی تھی، عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اوپر جاتی ہیں تو یہاں بھی قیمتیں بڑھانی پڑتی ہیں، پیٹرول کی قیمتیں نہیں بڑھائیں گے تو خزانے پر بوجھ پڑے گا'۔

مزید پڑھیں: جسٹس ریٹائرڈ شیخ عظمت سعید براڈشیٹ انکوائری کمیٹی کے سربراہ مقرر

انہوں نے کہا کہ روپے کی قدر میں کمی نے پیٹرولیم مصنوعات، دالیں، گھی اور دیگر درآمدای اشیا کی قیمتوں پر اثر ڈالا جس سے مہنگائی بڑھی۔

انہوں نے کہا کہ ’موجودہ حکومت کے دوران میں ڈالر کی قیمت 107 سے 160 روپے تک پہنچ گئی جس نے قیمتوں کو بڑھا دیا‘۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سابقہ حکومتوں نے بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں سے ایسے معاہدے کیے اس سے جو بجلی بنتی ہے اور ہم فروخت کرتے ہیں اس میں 3 روپے کا فرق ہے اور اگر ہم بجلی اس قیمت پر بیچتے ہیں تو قرضے بڑھ جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان پر سارا بوجھ گزشتہ حکومتوں کا چڑھایا ہوا ہے، ہم ملک پر مزید قرضوں کا بوجھ نہیں ڈال سکتے اس لیے بدقسمتی سے ہمیں بجلی کی قیمت بڑھانی پڑی'۔

انہوں نے کہا کہ 'وزیرستان پہلے قبائلی علاقہ تھا اب خیبر پختونخوا کا حصہ بن گیا ہے، وزیرستان بہت پیچھے رہ گیا تھا اب یہاں ترقی ہوگی، وزیرستان کے لیے خصوصی اسپیشل پیکج دے رہے ہیں اور 2 سے 3 سالوں میں یہاں کے لوگوں کو تبدیلی نظر آئے گی'۔