یاسر حسین کا انگریزی زبان کی تعریف کرنے والی ’پروین باجی‘ کو جواب

اپ ڈیٹ 26 جنوری 2021

ای میل

یاسر حسین نے خاتون کو سوشل میڈیا پوسٹ پر جواب دیا—فائل فوٹو: فیس بک
یاسر حسین نے خاتون کو سوشل میڈیا پوسٹ پر جواب دیا—فائل فوٹو: فیس بک

اداکار یاسر حسین نے انگریزی زبان کی تعریف کرنے اور اسے سیکھنے کی ہدایت کرنے والی ایک خاتون کو کرارا جواب دیتے ہوئے انہیں ہدایت کی کہ وہ اپنی زبان پر فخر کریں۔

سوشل میڈیا پوسٹ میں پروین نامی ایک خاتون نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ انگریزی زبان دنیا کی دیگر خطوں اور افراد سے بات چیت کرنے کے لیے سیکھی جائے اور انگریزی سیکھنا کوئی راکٹ سائنس نہیں۔

پروین نامی خاتون کا کہنا تھا کہ انگریزی زبان ہماری تعلیم کا حصہ بھی ہے اور ہمیں اسے نظر انداز کرنے کے بجائے اسے سیکھنا ہوگا، کیوں کہ اگر ہمیں پاکستان اور بھارت کے علاوہ خطے کے دوسرے افراد سے بات چیت کرنی ہوگی تو ہمیں انگریزی زبان کی ضرورت پڑے گی۔

خاتون نے کہا تھا کہ اردو ہماری اپنی زبان ہے تاہم انگریزی سیکھنے میں کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے اور اسے سیکھنا کوئی راکٹ سائنس بھی نہیں ہے۔

تاہم مذکورہ خاتون کی تجویز اداکار یاسر حسین کو پسند نہ آئی اور انہوں نے خاتون کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ’پروین باجی، اپنی زبان سے محبت کرنا سیکھیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: ریسٹورنٹ منیجر کی 'انگریزی' کا مذاق بنانے پر کیفے مالکان کو تنقید کا سامنا

اگرچہ خاتون نے اپنی زبان سے محبت کرنے یا نہ کرنے سے متعلق کوئی بات نہیں کی تھی تاہم یاسر حسین نے خاتون کو دلیل دی کہ کیا وہ چین، روس، اسپین اور دیگر یورپی ممالک سے متعلق کچھ جانتی ہیں؟

اداکار نے خاتون کو اپنی محبت کی اہمیت بتائی—اسکرین شاٹ
اداکار نے خاتون کو اپنی محبت کی اہمیت بتائی—اسکرین شاٹ

ساتھ ہی اداکار نے لکھا کہ وہاں کے لوگ انگریزی زبان نہیں بولتے۔

یاسر حسین نے خاتون کو مخاطب ہوتے ہوئے لکھا کہ ’پروین باجی، اپنی زبان سے محبت کریں‘۔

ساتھ ہی اداکار نے پوسٹ میں لکھا کہ زیادہ دور نہ جائیں بلکہ ہمیں پٹھان بھائی ہی سکھا دیں گے، اپنی زبان کو کیسے اپناتے ہیں اور اس کی کیا اہمیت ہے؟

خیال رہے کہ مذکورہ خاتون کی جانب سے قبل گزشتہ ہفتے دارالحکومت اسلام آباد کے ریسٹورنٹ 'کینولی بائے کیفے سول' کی خواتین مالکان کی جانب سے ریسٹورنٹ کے منیجر کو انگریزی زبان نہ بول پانے پر تضحیک کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس پر مذکورہ خواتین کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم بھی شروع ہوئی تھی۔

انگریزی نہ بول پانے پر مرد منیجر کی تضحیک کرنے پر خواتین مالکان اور ان کے ریسٹورنٹ کے خلاف مہم بھی شروع ہوگئی تھی، جس کے بعد گزشتہ روز مذکورہ ریسٹورنٹ نے نہ صرف اپنا لوگو اردو زبان میں کیا بلکہ خواتین مالکان کے رویے پر معافی بھی مانگی تھی۔