بھارتی یوم جمہوریہ پر ہزاروں کسانوں کا نئی دہلی میں احتجاج، لال قلعے پر چڑھائی

اپ ڈیٹ 26 جنوری 2021
حکام نے فوجی پریڈ کے ختم ہونے کا انتظار کرنے پر کسانوں کو ٹریکٹر ریلی نکالنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا تھا، رپورٹ  - فائل فوٹو:اے ایف پی
حکام نے فوجی پریڈ کے ختم ہونے کا انتظار کرنے پر کسانوں کو ٹریکٹر ریلی نکالنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا تھا، رپورٹ - فائل فوٹو:اے ایف پی

بھارت میں یوم جمہوریہ کی فوجی پریڈ کے کے دوران ہزاروں بھارتی کسانوں نے نئی دہلی میں تمام رکاوٹیں توڑتے ہوئے شدید احتجاج کیا اور تاریخی لال قلعے پر چڑھائی کر دی جس کے بعد پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔

—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی

پولیس نے مظاہرین کو پریڈ کا جائزہ لینے کے لیے وہاں موجود وزیراعظم نریندر مودی سے دور رکھنے کے لیے برسوں بعد ایک بہت بڑی کارروائی کی۔

پولیس نے شہر کے وسط میں رکاوٹیں کھڑی کیں جبکہ فوجی مشین گن لیے میٹرو ٹرین کے اطراف میں موجود رہے۔

ہزاروں بھارتی کسانوں نے آنسو گیس اور پولیس کی رکاوٹوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے یوم جمہوریہ پر تاریخی لال قلعے پر چڑھائی کردی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے زرعی اصلاحات کی مخالفت کرنے والے مظاہرین کو روکنے کے لیے سب سے بڑا سیکیورٹی آپریشن کی تیاری کر رکھی ہے۔

کسانوں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس احتجاج میں 10ہزار سے زائد ٹریکٹر نے شرکت کی۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان اصلاحات سے ان کا معاش ختم ہوجائے گا۔

مزید پڑھیں: بھارت: یوم جمہوریہ کی تقریبات سے قبل کسانوں کی ٹریکٹروں پر دہلی کی طرف پیش قدمی

حکام نے فوجی پریڈ کے ختم ہونے کا انتظار کرنے پر کسانوں کو ٹریکٹر ریلی نکالنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا تھا۔

تاہم جھنڈے لہراتے کسانوں نے سیکیورٹی کو توڑتے ہوئے کم از کم تین اہم سڑکوں کو پار کرکے شہر کا رخ کیا۔

پولیس نے راستے میں کنٹینرز اور ٹرک کھڑے کرکے کسانوں کو روکنے کی کوشش کی تھی جبکہ کسانوں کے کم از کم دو گروہوں پر آنسو گیس کے شیل بھی فائر کیے تھے۔

احتجاج میں شامل نریش سنگھ نے دہلی کے کنارے سنگھو میں ٹریکٹر کو دہلی کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا کہ 'ہم حکومت کو یہ بتانے جارہے ہیں کہ یہ ہمارا کاروبار ہے'۔

شہر میں دوسری اہم سڑکوں پر کھڑے ٹریکٹرز کی لمبی قطاریں لگ گئیں جہاں کسانوں نے دو ماہ سے ایسے نئے قوانین کے خلاف ڈیرے لگا رکھے ہیں جن سے پیداواری مارکیٹیں ڈی ریگولیٹ ہوں گی۔

حکومت کا کہنا تھا کہ ان اصلاحات سے دیہی آمدنی میں اضافہ ہوگا جبکہ کسانوں کا کہنا تھا کہ اس سے بھارتی زراعت پر بڑی مچھلیوں کا قبضہ ہوجائے گا۔

انہوں نے حکومت سے قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تاہم بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست انتظامیہ نے صرف 18 ماہ کے لیے عمل درآمد مؤخر کرنے کی پیش کش کی۔

یوم جمہوریہ کی تقریبات سیکیورٹی خدشات کے باوجود جاری رہیں۔

پولیس نے شہر کے وسط میں چاروں طرف چوراہوں پر رکاوٹیں لگا رکھی تھیں جبکہ مشین گن کے ساتھ فوجی کئی میٹرو ٹرینوں پر سوار تھے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں نئے زرعی قوانین پر ڈیڈلاک برقرار، کسانوں کے احتجاج میں شدت

مظاہرے سے تقریبا 25 کلومیٹر دور اس پریڈ کو اس سال کورونا وائرس کی وجہ سے کم کردیا گیا تھا، راجپاتھ بولیورڈ سے مرکزی حکومتی کمپلیکس تک شائقین کی تعداد ایک لاکھ 25 ہزار سے کم کرکے 25 ہزار کردی گئی تھی۔

مودی نے کسانوں کا ذکر کیے بغیر قومی تعطیل پر ٹوئٹر مبارکباد بھیجی۔

اس کے علاوہ ممبئی اور بنگلور میں بھی کسانوں کے چھوٹے چھوٹے مظاہرے ہوئے۔

خیال رہے کہ بھارت میں زرعی اصلاحات کے قانون کو ستمبر میں منظوری دی گئی تھی اور اس وقت سے کسانوں کا احتجاج جاری ہے جس میں شدت اس وقت آئی تھی جب احتجاج کرنے والوں نے بھارتی دارالحکومت کی جانب پیش قدمی کی۔

مزید پڑھیں: بھارت: زرعی اصلاحات پر کسانوں اور پولیس کے درمیان تصادم

حالیہ برسوں میں خشک سالی اور قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کی وجہ سے ہزاروں کسان خودکشی کرچکے ہیں۔

رواں سال کے شروعات میں قانون سازی کی گئی تھی جس کے مطابق کسانوں کو اپنی فصل ریاست کے مقرر کردہ نرخوں پر مخصوص مارکیٹس میں فروخت کے بجائے اپنی مرضی سے کسی کو بھی کسی بھی قیمت پر فروخت کرنے کی آزادی ہوگی۔

وزیراعظم نریندر مودی نے اسے 'زراعت کے شعبے میں مکمل تبدیلی' قرار دیتے ہوئے سراہا جو 'لاکھوں کسانوں' کو بااختیار بنانے کے لیے ضروری سرمایہ کاری اور جدت پسندی کی حوصلہ افزائی کرے گا۔

تاہم پنجاب میں حکومت کرنے والی اور اپوزیشن کی اہم جماعت کانگریس نے اس احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے بحث کی کہ اس تبدیلی نے کسانوں کو بڑی کارپوریشن کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں