ڈینیئل پرل کیس: سپریم کورٹ کا مرکزی ملزم عمر شیخ کی رہائی کا حکم

اپ ڈیٹ 29 جنوری 2021

ای میل

احمد عمر شیخ—فائل فوٹو: اے پی
احمد عمر شیخ—فائل فوٹو: اے پی

سپریم کورٹ نے ڈینیئل پرل قتل کیس میں سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے 3 ملزمان کی بریت اور مرکزی ملزم احمد عمر شیخ کی سزا موت کو قید کی سزا میں تبدیل کرنے کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے حکومت سندھ کی دائر درخواست مسترد کردی۔

جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے 3 رکنی بینچ نے یہ فیصلہ پراسیکیوٹر جنرل ڈاکٹر فیاض شاہ کے توسط سے حکومت سندھ، وکیل فیصل صدیقی کےتوسط سے ڈینیئل پرل کے والدین اور مرکزی ملزم کی ایڈووکیٹ محمد اے شیخ کے توسط سے دائر کردہ درخواستوں پر ایک کے مقابلے 2 کی اکثریت سے مختصر فیصلہ سنایا۔

تاہم جسٹس یحیٰ آفریدی نے مرکزی ملزم کی درخواست مسترد کردی اور ملزم ثاقب اور عادل کے لیے ہائ کورٹ سے بریت کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے کسی اور کیس میں مطلوب نہ ہونے پر فوری رہا کرنے کا حکم دیا۔

یہ بھی پڑھیں: جیل سے عمر شیخ کے دہشتگردوں سے رابطے ہونا سندھ حکومت کی ناکامی ہے، ایڈووکیٹ جنرل

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ملزم کی پیروی کرنے والے وکیل محمود شیخ نے کہا کہ 'عدالت نے کہا کہ ایسا کوئی جرم نہیں جو اس نے اس کیس میں کیا ہو'۔

مذکورہ فیصلے پر ردِ عمل دیتے ہوئے ڈینیئل پرل کے اہلِ خانہ نے وکیل کے توسط سے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ 'آج کا فیصلہ انصاف کے ساتھ مذاق ہے اور ان قاتلوں کی رہائی نے پاکستانی عوام اور صحافیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے'۔

دوسری جانب جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے ایک اور بینچ نے حکومت سندھ کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ کے 24 دسمبر کو ملزمان کی نظر بندی کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل پر سماعت کی۔

سماعت میں ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ احمد عمر شیخ کے کالعدم تنظیموں سے روابط ہیں، سندھ حکومت نے حساس معلومات سربمہر لفافے میں عدالت کو دیدیں، ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ شواہد موجود ہیں لیکن ایسے نہیں کہ عدالت میں ثابت کر سکیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ جو مواد سپریم کورٹ کو دیا وہ پہلے کسی فورم پر پیش نہیں ہوا، جو معلومات کبھی ریکارڈ پر نہیں آئیں ان کا جائزہ کیسے لیں؟

انہوں نے استفسار کیا کہ ریاست کے پاس معلومات تھیں تو احمد عمر شیخ کے خلاف ملک دشمنی کا کیس کیوں نہیں چلایا؟

دوران سماعت جسٹس منیب اختر نے کہا کہ حکومت نے احمد عمر شیخ کو کبھی دشمن ایجنٹ قرار ہی نہیں دیا، دہشتگردی کے خلاف جنگ سے کوئی انکار نہیں کر سکتا اور یہ جنگ کب ختم ہوگی کوئی نہیں جانتا۔

مزید پڑھیں: ڈینیئل پرل کیس: ملزم عمر شیخ پر دہشتگردی کے الزامات کا جواب طلب

جسٹس منیب اختر کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ شاید آئندہ نسلوں تک چلے، ریاست کا اپنے شہریوں کو ملک دشمن قرار دینا بھی خطرناک ہے۔

جس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ ریاست کے خلاف جنگ کرنے والا ملک دشمن ہوتا ہے۔

اس سے قبل بدھ کے روز ہونے والی سماعت میں ملزم عمر شیخ نے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا تھا کہ اس نے امریکی صحافی کے قتل میں 'معمولی سا کردار' ادا کیا تھا۔

عمر شیخ کا 2019 میں تحریر کردہ ایک خط کہ جس میں اس نے امریکی اخبار وال اسٹریٹ کے رپورٹر کے قتل میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا وہ سپریم کورٹ میں 2 ہفتے قبل جمع کروایا گیا تھا تاہم ان کے وکیل نے بدھ کے روز اس بات کی تصدیق کی تھی کہ وہ خط ان کے مؤکل نے ہی لکھا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: 'ڈینیئل پرل قتل کیس میں کہانیاں گھڑی گئی ہیں'

تاہم سندھ ہائی کورٹ کے نام تحریر کردہ اس 3 صفحات پر مشتمل خط میں برطانیہ میں پیدا ہونے والے ملزم نے کہیں بھی یہ وضاحت نہیں کی تھی کہ ڈینیئل پرل قتل کیس میں اس کا مبینہ طور پر معمولی کردار کیا تھا۔

ڈینیئل پرل قتل کیس

یاد رہے کہ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل کے جنوبی ایشیا کے بیورو چیف 38 سالہ ڈینیئل پرل کراچی میں مذہبی انتہا پسندی پر تحقیق کررہے تھے جب انہیں جنوری 2002 میں اغوا کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔

سال 2002 میں امریکی قونصل خانے کو بھجوائی گئی ڈینیئل پرل کو ذبح کرنے کی گرافک ویڈیو کے بعد عمر شیخ اور دیگر ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم احمد عمر سعید شیخ المعروف شیخ عمر کو سزائے موت جبکہ شریک ملزمان فہد نسیم، سلمان ثاقب اور شیخ عادل کو مقتول صحافی کے اغوا کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

مزید پڑھیں: ڈینیئل پرل کیس: ملزمان کی رہائی کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا مسترد

بعد ازاں حیدر آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے شیخ عمر اور دیگر ملزمان کو اغوا اور قتل کا مرتکب ہونے پر سزا ملنے کے بعد ملزمان نے 2002 میں سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے ریکارڈ کا جائزہ لینے، دلائل سننے کے بعد ملزمان کی 18 سال سے زیر التوا اور حکومت کی جانب سے سزا میں اضافے کی اپیلوں پر سماعت کی تھی اور مارچ میں فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے 2 اپریل کو سنایا گیا۔

سندھ ہائی کورٹ نے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے اغوا کے بعد قتل کے مقدمے میں 4 ملزمان کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے سزا کے خلاف دائر اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے 3 کی اپیلیں منظور کرلی تھیں جبکہ عمر شیخ کی سزائے موت کو 7 سال قید میں تبدیل کردیا تھا جو کہ وہ پہلے ہی پوری کرچکے تھے۔

تاہم رہائی کے احکامات کے فوری بعد ہی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) نے سندھ حکومت کو خط لکھا تھا جس میں ملزمان کی رہائی سے نقصِ امن کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ڈینیئل پرل کیس: حکومت سندھ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر

چنانچہ مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) آرڈیننس کے تحت صوبائی حکام نے انہیں 90 دن کے لیے حراست میں رکھا تھا، یکم جولائی کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت ایک نیا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا جس کے تحت مزید تین ماہ کے لیے انہیں حراست میں رکھا گیا اور بعد ازاں ان کی قید میں مزید توسیع ہوتی رہی۔

تاہم 25 دسمبر کو سندھ ہائی کورٹ نے ڈینیئل پرل قتل کیس میں رہا ہونے والے چاروں ملزمان کو زیر حراست رکھنے کے لیے صوبائی حکام کے جاری کردہ 'پریوینشن ڈیٹینشن آرڈرز' کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

یہاں یہ بات مدِ نظر رہے کہ سندھ ہائی کورٹ کے ملزمان کی رہائی کے حکم کے خلاف حکومت سندھ اور صحافی کے اہلِ خانہ کی جانب سے سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔