عالمی تحفظات دور کرنے کیلئے پائلٹ لائسنس امتحانات آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 28 جنوری 2021

ای میل

سول ایوی ایشن کے سربراہ نے کہا کہ تمام تحریری امتحانات برطانیہ کی سول ایوی ایشن کے ذریعے ہی لیے جائیں گے — تصور بشکریہ سول ایوی ایشن ویب سائٹ
سول ایوی ایشن کے سربراہ نے کہا کہ تمام تحریری امتحانات برطانیہ کی سول ایوی ایشن کے ذریعے ہی لیے جائیں گے — تصور بشکریہ سول ایوی ایشن ویب سائٹ

کراچی: پاکستانی پائلٹس کے مبینہ جعلی لائسنسوں کے معاملے پر ہوا بازی کی عالمی صنعت کے خدشات دور کرنے کے لیے سول ایوی ایشن اتھارٹی نے برطانیہ کے سول ایوی ایشن میں لائسنسنگ امتحانات کے انعقاد کے عمل کو آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق فی الحال سول ایوی ایشن کے کمرشل/ایئر لائن ٹرانسپورٹ پائلٹ لائسنس سمیت تمام لائسنسنگ امتحانات اس وقت معطل کردیے گئے تھے جب وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے غیر ذمہ دارانہ بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ 262 پاکستانی پائلٹس کے لائسنس جعلی تھے۔

مزید پڑھیں: پائلٹس کو جاری کردہ تمام لائسنس درست ہیں، سی اے اے

ان کے بیان کے بعد یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے پاکستان کی تیسرے ملک کے لیے آپریشن کی اجازت معطل کردی تھی اور حال ہی میں اس معطلی میں مزید تین ماہ کی توسیع کرتے ہوئے کہا کہ یورپی کمیشن اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (آئی سی اے او) کی طرف سے تحقیقات کی تصدیق کی گئی ہے اور پاکستان سول ایوی ایشن کے ذریعے کی جانے والی نگرانی کی سرگرمیاں اب بھی جاری ہیں۔

منگل کو اپنے فیس بک پیج پر براہ راست نشر کیے گئے ایک آن لائن اجلاس میں متعدد متعلقہ افراد نے سول ایوی ایشن کے ڈائریکٹر جنرل خاقان مرتضیٰ سے ایئرلائن ٹرانسپورٹ پائلٹ لائسنس اور دیگر لائسنس کے امتحانات دوبارہ شروع کرنے، پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی براہ راست پروازوں کی بحالی، 22 مئی 2020 کو گر کر تباہ ہونے والے طیارے پی کے-8303 اور جعلی لائسنس کے معاملے کے بارے میں پوچھا۔

لائسنسنگ امتحانات کے بارے میں سول ایوی ایشن کے سربراہ نے کہا کہ یہ مارچ کے آخر یا اپریل کے آخر میں شروع ہو گا، ہم ان امتحانات کو آؤٹ سورس کرنے جا رہے ہیں اور تمام تحریری امتحانات برطانیہ کی سول ایوی ایشن کے ذریعے ہی لیے جائیں گے۔

'سول ایوی ایشن کے تمام لائسنس حقیقی ہیں'

جب ایک فیس بک صارف نے یہ پوچھا کہ سول ایوی ایشن نے جعلی لائسنس رکھنے والے پائلٹس کو طیارے اڑانے کی اجازت کیسے دی تو خاقان مرتضیٰ نے کہا کہ میں ایک بات واضح کردوں کہ مذکورہ لائسنس میں سے کوئی بھی جعلی نہیں تھا ... مختلف مواقع پر لائسنس کو اپ گریڈ کیا گیا تھا اور انہیں دوبارہ ٹیسٹ اور امتحانات دینے پڑے، سول ایوی ایشن کے عہدیداروں کے ساتھ ملی بھگت کرنے والے چند کچھ پائلٹس نے کچھ کاغذات میں ہیر پھیر کی لیکن ہم نے انکوائری کے بعد ایسے تمام معاملات پکڑے ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے تفتیش کے بعد 50 کے قریب لائسنس منسوخ کردیے ہیں اور مختلف اوقات میں لیے گئے تقریباً 32 لائسنس معمولی مسائل کی وجہ سے معطل کردیے گئے تھے، ان لائسنسوں کے علاوہ دیگر تمام لائسنس ٹھیک اور باقاعدہ ہیں اور ان میں سے کوئی بھی جعلی نہیں ہے، ایک جعلی لائسنس وہ ہوتا ہے جس کی کوئی اساس نہیں ہوتی ہے یا کسی انسٹی ٹیوٹ کے ذریعے جاری ہوتا ہے اور ایسا کوئی نہیں ہے، ایک انسٹی ٹیوٹ کی حیثیت سے سول ایوی ایشن لائسنس جاری کرتا ہے اور تمام لائسنس حقیقی اور جعلی نہیں ... کچھ غلطیاں بعد میں [مختلف] کاغذات میں کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’پائلٹس کے مشتبہ لائسنس کا معاملہ صرف پی آئی اے سے منسلک نہیں‘

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ گزشتہ سال پی آئی اے کا جو طیارہ تباہ ہوا اور جس میں 97 مسافر اور عملے کے افراد ہلاک ہوئے، ان میں سے کسی بھی پائلٹ کا جعلی لائسنس نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں شامل تمام افراد کو فی الحال احتساب کا سامنا ہے، ہمارے عملے کے تمام افراد کو اس میں ملوث پائے گئے انہیں نوکری سے برخاست کردیا گیا ہے اور ایک یا دو دن میں ایف آئی اے فوجداری مقدمات درج کرے گی، ایک دو دن میں سب کچھ سامنے آجائے گا۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ ائیر کموڈور عثمان غنی کے استعفیٰ دینے کے بعد اب تک کسی کو طیارہ حادثہ انویسٹی گیشن بورڈ کے سربراہ کے طور پر نامزد کیوں نہیں کیا گیا، تو اس پر ڈی جی مرتضیٰ نے جواب دیا کہ ایئر سی ڈی آر عثمان غنی نے استعفیٰ نہیں دیا، وہ چھ ماہ قبل ایئر فورس سے ریٹائر ہوئے تھے لیکن انہیں 6 ماہ کی توسیع دی گئی تھی کیونکہ وہ اس طیارہ حادثے کی تحقیقات کر رہے تھے، اب ان کا متبادل ایئر فورس سے نامزد کیا گیا ہے اور وہ ایک دو دن میں نوکری پر آجائیں گے۔

جب ان سے پوچھیا گیا کہ پی آئی اے کی برمنگھم سے براہ راست اسلام آباد جانے والی پرواز کو کیوں روکا گیا، تو سول ایوی ایشن کے ایئر ٹرانسپورٹ کے ڈائریکٹر ایئر سی ایم ڈی آر عرفان صابر نے جواب دیا کہ اس وقت صرف پاکستانی پی آئی اے ہی نہیں بلکہ پاکستانی آپریٹرز پر بھی پابندیاں عائد ہیں ... کچھ آڈٹ اعتراضات ہیں جس کو ہم دیکھ رہے ہیں، جیسے ہی یہ پابندی ہٹا دی جائے گی اور ہمارے آڈٹ کی منظوری مل جائے گی، برطانیہ اور پاکستان کے مابین پی آئی اے کا آپریشن شروع ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کا طیارہ پائلٹ کی غلطی کی وجہ سے گر کر تباہ ہوا ہے کیوں کہ وہاں حفاظت یا نظام کی خرابی کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔