کیا کورونا ویکسین کے استعمال کے بعد بھی فیس ماسک پہننا ضروری ہوگا؟

08 فروری 2021

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

دنیا کے مختلف ممالک کی طرح اب پاکستان میں بھی نوول کورونا وائرس کی وبا کو روکنے کے لیے ویکسین مہم کا آغاز ہوچکا ہے۔

یہ دنیا کی پہلی وبا ہے جس کی روک تھام کے لیے تیز ترین بنیادوں پر ویکسین تیار ہوئی اور اب تک دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو ویکسین فراہم بھی کی جاچکی ہے۔

ویکسین سپلائی محدود ہونے کے نتیجے میں ہر ایک تک اس کی فراہمی میں کافی عرصہ لگ سکتا ہے اور اکثر ویکسین کو 2 خوراکوں میں لگایا جارہا ہے۔

مگر کیا ویکسین ملنے کے بعد کسی فرد کو فیس ماسک یا دیگر احتیاطی تدابیر کی ضرورت نہیں رہے گی؟

اس بارے میں امریکا کے نیشنل انسٹیٹوٹ آف الرجی اینڈ انفیکشیز ڈیزیز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے اپنی رائے ظاہر کی ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ویکسینیشن کے بعد بھی فیس ماسک کا استعمال ضروری کیوں ہوگا۔

وائٹ ہاؤس کورونا وائرس کووڈ 19 ریسپانس ٹیم کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اپنے پیغام میں ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے کہا کہ ابھی ایسا ڈیٹا ناکافی ہے جس سے ثابت ہو کہ ویکسین سے وائرس کا پھیلاؤ روکا جاسکتا ہے۔

انہوں نے لکھا 'اس وقت ہمارے پاس ڈیٹا ناکافی ہے جس کو دیکھ کر ہم اعتماد سے کہہ سکیں کہ ویکسین سے وائرس کا پھیلاؤ رک سکتا ہے، تو ویکسینیشن کے بعد بھی آپ وائرس کو لوگوں میں پھیلا سکتے ہیں، فیس ماسکس اس وقت تک بہت اہم ہیں جب تک ہم اس بارے میں زیادہ جان نہ لیں اور کیسز میں نمایاں کمی نہ آجائے'۔

انہوں نے کہا کہ جب اولین کووڈ 19 ویکسین تیسرے مرحلے کے ٹرائلز سے گزر رہی تھیں تو انہیں وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تیار نہیں کیا جارہا تھا بلکہ ان کا مقصد سنگین کیسز اور اموات کی روک تھام تھا، اس سے عندیہ ملتا ہے کہ ویکسین کے استعمال کے باوجود لوگ وائرس سے متاثر ہوسکتے ہیں اور بیماری کو آگے پھیلا سکتے ہیں، چاہے ان میں کووڈ 19 کی شدت میں سنگین اضافہ نہ بھی ہو۔

حال ہی میں ایک تجرباتی ویکسین کے ٹرائل کے دوران ابتدائی نتائج میں دریافت کیا گیا تھا کہ جنوبی افریقہ میں دریافت ہونے والی کورونا وائرس کی نئی قسم حالیہ مہینوں میں کووڈ 19 کے شکار ہونے والے افراد کو بھی دوبارہ بیمار کرسکتی ہے۔

یہ ابھی حتمی نتائج نہیں مگر اس سے عندیہ ملتا ہے کہ جو لوگ پہلے ہی کورونا وائرس کے شکار ہوچکے ہیں، ان کو اس نئی قسم کے خلاف زیادہ تحفظ حاصل نہیں۔

ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا 'ویکسین ٹرائل میں رضاکاروں کا فالو اپ ڈیٹا اب اکٹھا کیا جارہا ہے، اگر ان میں علامات والی بیماری اور وائرل لوڈ میں نمایاں کمی کو دریافت کیا، تو عندیہ مل سکے گا کہ ویکسینیشن کے بعد وائرس کی ایک سے دوسرے تک منتقلی کی صلاحیت نمایاں حد تک گھٹ گئی ہے'۔

فروری کے آغاز میں آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک ابتدائی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ اس کی تیار کردہ ویکسین کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں نمایاں کمی لاسکتی ہے۔

یہ پہلی بار تھا جب دریافت کیا گیا کہ ایک ویکسین وائرس کی ایک سے دوسرے تک منتقلی کی روک تھام کرسکتی ہے۔

اس تحقیق کے نتائج ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے اور اس میں بتایا گیا کہ ویکسین سے وائرس کی منتقلی کو نمایاں حد تک روکنے میں کامیابی ہوسکتی ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کی اس تحقیق میں بغیر علامات والے مریضوں سے وائرس کے آگے پھیلاؤ کے اثرات کی جانچ پڑتال کی گئی تھی۔

ویکسینیشن کے بعد فیس ماسک کے استعمال کے حوالے سے ایک اہم عنصر لوگوں میں مدافعت پیدا ہونے کی شرح مختلف ہونا بھی ہے۔

جسم میں وائرس ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز بننے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے اور ایسا ویکسین کی پہلی خوراک کے بعد فوری طور پر نہیں ہوتا۔

ویکسین کی ایک خوراک کے بعد 2 ہفتے میں اس فرد میں بیماری سے محفوظ رہنے کا عمل تشکیل پانا شروع ہوتا ہے اور اس دوران کووڈ 19 کا شکار ہونا ممکن ہے۔

مکمل تحفظ کا امکان دوسری خوراک کے استعمال کے ایک ہفتے بعد ہوتا ہے اور اس وقت تک لوگوں کو احتیاطی تدابیر کو اختیار کرنا چاہیے تاکہ بیماری سے بچ سکیں۔