لاہور: صارفین سے ’دھوکا دہی‘ پر لگژری کار برانڈ کے ڈیلر کے خلاف مقدمات درج

اپ ڈیٹ 11 فروری 2021
کار ڈیلر کے خلاف مقدمات درج کیے گئے — فائل فوٹو: رائٹرز
کار ڈیلر کے خلاف مقدمات درج کیے گئے — فائل فوٹو: رائٹرز

لاہور: پولیس نے صارفین کے ساتھ مالیاتی دھوکا دہی کے مختلف واقعات پر معروف بین الاقوامی کار برانڈ کے مقامی ڈیلر کے خلاف مقدمات درج کرلیے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق شہر کے مختلف تھانوں میں تقریباً 15 لوگوں نے پورشے سینٹر لاہور پرفارمنس آٹو موٹو پرائیویٹ لمیٹڈ کے مالک سید ابوذر بخاری کی شکایات درج کروائی تھیں اور دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے نئی پورشے ٹائیکین 4 ایس کاریں خریدنے کے لیے ایڈوانس رقم دی تھی لیکن انہیں کوئی گاڑی نہیں ملی۔

اس حوالے سے ڈان کے پاس دستیاب ایف آئی آر میں کہا گیا کہ سید ابوذر بخاری نے ان افراد سے 5 کروڑ روپے ایڈوانس میں وصول کیے اور انہیں کاروں کی ڈلیوری کے لیے ایک مخصوص وقت دیا۔

تاہم انہوں نے الزام لگایا کہ جب وہ گاڑیوں کے حصول کے لیے ابو ذر بخاری کے پاس گئے تو اس نے انہیں کہا کہ وہ کاریں ڈلیور نہیں کرسکتا اور وہ اپنی رقم واپس لے سکتے ہیں۔

شکایت کنندگان کا کہنا تھا کہ بعد ازاں ڈیلر نے انہیں ان کی جمع کرائی گئی رقم کے لیے لاکھوں مالیت کے چیکس دے دیے، تاہم جب انہیں بینکوں میں جمع کروایا گیا تو وہ باؤنس ہوگئے۔

مزید پڑھیں: اپنی پہلی گاڑی خریدنے والوں کے لیے ایک مکمل گائیڈ

انہوں نے درخواست کی کہ رقم لے کر گاڑیاں دینے کے وعدے میں ناکامی پر سید ابوذر بخاری کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔

یہ شکایتیں غالب مارکیٹ، گلبرگ، سرور روڈ اور نصیرآباد سمیت مختلف تھانوں میں جمع کروائی گئی ہیں اور ابوذر بخاری کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

اس معاملے پر ایک سینئر پولیس افسر نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈان کو بتایا کہ ملزم کے خلاف مقدمات درج کرلیے گئے ہیں اور دھوکے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ ملزم ملک چھوڑ گیا ہو تاہم پولیس اس کی گرفتاری کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سے مدد مانگی ہے۔

شکایت گزاروں میں سے ایک میاں محمد علی معین، جنہوں نے مکمل الیکٹرک پورشے ٹائکن کے لیے 50 لاکھ روپے ایڈوانس میں دیے تھے، انہوں نے ڈان کو بتایا کہ انہوں نے جنوری 2020 میں ابوذر بخاری کو اس وقت رقم ادا کی تھی جب گاڑی ڈیلر شپ پر موجود تھی۔

انہوں نے کہا کہ ’مجھے کار کی ڈلیوری کے لیے ڈیڑھ ماہ انتظار کرنے کا کہا گیا تھا اور میں راضی ہوگیا تھا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ جب وہ وعدہ کی گئی تاریخ پر کار لینے گئے تو ڈیلر نے انہیں کہا کہ کورونا وائرس کے لاک ڈاؤن کی وجہ سے وہ گاڑی ڈلیور نہیں کرسکتا۔

شکایت کنندہ کا کہنا تھا کہ ’مجھے (ڈیلر کی جانب سے) کہا گیا کہ نئی درآمدی کار کے لیے انتظار کریں جو تقریباً 25 لاکھ روپے سستی پڑے گی کیونکہ اس وقت تک نئے ٹیکسز آجائیں گے‘۔

علی معین کا کہنا تھا کہ وہ ایک مرتبہ پھر ڈیلر سے راضی ہوگئے لیکن کار انہیں پھر بھی ڈلیور نہیں کی گئی۔

اپنی روداد بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’کار حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد میں جون 2020 میں ابوذر بخاری کے پاس گیا، جس نے مجھے پیسے واپسی کی پیش کش کرتے ہوئے کہا کہ کار نہیں آرہی‘۔

انہوں نے کہا کہ بعد ازاں انہیں سید ابوذر بخاری کی جانب سے یہ بتایا گیا کہ چونکہ دبئی میں مرکزی ڈیلرشپ دیوالیہ ہوگئی تھی لہٰذا وہ انہیں رقم واپس نہیں کرسکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے وکیل کے ذریعے ابوذر بخاری کے خلاف مقدمہ دائر کردیا تھا اور پورشے اے جی سے شکایت بھی کی تھی، جنہیں بعد ازاں ڈیلر کا کمپنی ڈسٹری بیوشن لائسنس معطل کرنے کی متعدد اسی نوعیت کی دیگر شکایات موصول ہوئیں۔

علی معین کا کہنا تھا کہ انہوں نے رقم کی واپسی کے لیے قومی احتساب بیورو (نیب) میں بھی شکایت درج کردی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: دو بہنوں سمیت ایف آئی اے کے 7 اہلکار گرفتار

علاوہ ازیں پورشے پاکستان نے ایک وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان کے سی ای او کی طرف سے کار بکنگ کی رقم سے متعلق رپورٹس جھوٹی ہیں اور رجسٹریشن کی تمام رقم پورشے اے جی کے مقررہ نمائندے کے حیثیت سے پرفارمنس آٹوموٹو پرائیوٹ لمیٹڈ (پورشے پاکستان) کے اکاؤنٹ میں وصول ہوئی تھی۔

وضاحت میں یہ بھی کہا گیا کہ پورشے اے جی دو برسوں سے پاکستانی صارفین کے لیے گاڑیوں کی فراہمی سے انکاری تھی۔

اس میں مزید کہا گیا کہ پورشے پاکستان پورشے اس ’غیرقانونی‘ انکار پر تمام قانونی فورمز پر پورشے اے جی کے ساتھ قانونی جنگ لڑرہی تھی۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ پورشے مشرق وسطیٰ اور افریقہ ایف زیڈ ای کے ایک حریف’بااثر اور متنازع بزنس گروپ‘ کے ساتھ مبینہ سمجھوتے کے باعث تاخیر ہوئی کیونکہ وہ پاکستان کے لیے ڈسٹریبیوشن رائٹس لینا چاہتے ہیں۔

اپنے بیان کے آخر میں انہوں نے کہا کہ ’پورشے پاکستان اور اس کی قانونی ٹیم متعلقہ فریقوں یا تحقیاتی حکام کی جانب سے کسی بھی ضروری معلومات یا وضاحت کے لیے مکمل دستیاب ہے‘۔


یہ خبر 11 فروری 2021 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔

تبصرے (0) بند ہیں