اٹارنی جنرل آن لائن مواد کے جائزے کیلئے کونسل کے قیام پر رضامند

20 فروری 2021

ای میل

نئے سوشل میڈیا قواعد کو چیلنج کیا گیا تھا—فائل فوٹو: اے ایف پی
نئے سوشل میڈیا قواعد کو چیلنج کیا گیا تھا—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل برائے پاکستان ’ناپسندیدہ‘ سوشل میڈیا مواد کے جائزے کے لیے کونسل کے قیام کی تجویز سے راضی ہوگئے ہیں کیونکہ اس وقت سوشل میڈیا مواد کی نگرانی کے لیے کوئی مناسب فورم نہیں ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے اسٹیک ہولڈرز اور سوشل میڈیا قواعد کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے والے درخواست گزاروں کے ساتھ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے رضامندی ظاہر کی اور انہیں یقین دہانی کروائی کہ وہ وزیراعظم عمران خان سے بات کریں گے، ساتھ ہی انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ان کی تجاویز کی روشنی میں قواعد میں ترمیم کی جاسکتی ہے۔

دیگر تجاویز میں اسٹیک ہولڈرز اور درخواست گزاروں نے پریس کونسل آف پاکستان اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی شکایتی کونسل کی طرز پر سوشل میڈیا سے متعلق شکایات کو حل کرنے کے لیے صحافیوں، سول سوسائٹی اور ڈیجٹیل رائٹس ایکٹیوسٹس کے نمائندوں پر مشتمل ایک کونسل کے قیام کی تجویز دی تھی۔

مزید پڑھیں: حکومت سوشل میڈیا قواعد پر نظرثانی کیلئے تیار

یہاں یہ واضح رہے کہ پرنٹ میڈیا کے مواد کے خلاف شکایات کو پریس کونسل آف پاکستان اور الیکٹرانک میڈیا مواد کے خلاف شکایات کو پیمرا کا شکایتی کونسل دیکھتا ہے۔

واضح رہے کہ اٹارنی جرنل نے حال ہی میں 'ریموول اینڈ بلاکنگ اَن لا فل آن لائن کانٹینٹ (پروسیجر، اوور سائٹ اینڈ سیف گارڈز) رولز 2020 ' کے خلاف درخواست کی سماعت میں یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ سوشل میڈیا قواعد پر جائزے لے لیے اسٹیک ہولڈرز اور درخواست گزاروں سے ملاقات کریں گے۔

درخواست گزاروں کے مطابق سوشل میڈیا مواد کی اپلوڈنگ کے خلاف کارروائی کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو لامحدود اختیارات دے دیے گئے تھے۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ ’نامناسب‘ سوشل میڈیا مواد کے خلاف برقی جرائم کی روک تھام کے قانون (پیکا) پر عملدرآمد کے لیے قواعد کو بنایا گیا۔

درخواست گزاروں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے سیکریٹری جنرل ناصر زیدی، عوامی ورکرز پارٹی، ایمپلائز یونین ڈان، صحافی اور اینکر پرسن امبر رحیم شمسی اور ایک شہری محمد اشفاق جٹ نے اعتراض کیا تھا کہ یہ قواعد آئین میں دیے گئے آزادی اظہار کے برعکس تھے۔

ان کا مؤقف تھا کہ یہ قواعد معاش کے حقوق اور تجارت اور پیشہ کی آزادی کی خلاف ورزی کا باعث بنیں گی جو آئین کے آرٹیکل 9 اور 18 کے تحت دیے گئے ہیں۔

صحافیوں کی تنظیموں کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ آن لائن مواد سے متعلق شکایات کا جائزہ لینے کے لیے پی سی پی یا پیمرا کی کونسل جیسا کوئی مناسب فورم نہیں اس کے بجائے ریگولیٹر نے خفیہ ایجنسیوں اور سرکاری حکام کو ’ناپسندیدہ‘ مواد کو دیکھنے کا اختیار دیا تھا۔

ایڈووکیٹ کاشف علی ملک نے اس فیصلے کو آسان بنانے اور اسے مناسب فورم پر چیلنج کرنے کے طریقہ کار کی تجویز پیش کی۔

یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا قواعد نافذ، اسٹیک ہولڈرز کی شدید مخالفت

اسی طرح ایڈووکیٹ سکندر نعیم قاضی اور حدیر امتیاز نے سوشل میڈیا قواعد کو سیکشن کی سطح پر دیکھا اور تجویز دی کہ اسلام کی عظمت اور قومی سلامتی سے متعلق تشریح پر غور کرنا چاہیے۔

امبر رحیم شمسی نے نکتہ اٹھایا کہ قواعد کے تحت ریگولیٹر کو شکایت کنندہ کو خفیہ رکھنے کی اجازت ہے جبکہ یہ ہر فرد کا بنیادی حق ہونا چاہیے کہ اسے الزام لگانے والے کا نام معلوم ہو۔

علاوہ ازیں اٹارنی جنرل نے شرکا کو یقین دہانی کروائی کہ وہ وزیراعظم سے بات کریں گے، ساتھ ہی امید ظاہر کی کہ درخواست گزاروں سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز سے آنے والے جواب کو مدنظر رکھتے ہوئے قوائد میں ترمیم کی جائے گی۔ .