خون کا گروپ ممکنہ طور پر کووڈ 19 کے اثرات کیلئے اہمیت رکھتا ہے، تحقیق

04 مارچ 2021
— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

گزشتہ چند ماہ کے دوران نئے کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 اور خون کے مخصوص گروپس کے درمیان تعلق کے حوالے سے کئی تحقیقی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔

اب ایک نئی تحقیق میں مزید شواہد پیش کیے گئے ہیں جن سے عندیہ ملتا ہے کہ مخصوص بلڈ گروپ کے حامل افراد میں کووڈ 19 میں مبتلا ہونے کا خطرہ زیادہ ہوسکتا ہے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ نیا کورونا وائرس بلڈ گروپ اے کی جانب زیادہ کشش محسوس کرتا ہے۔

طبی جریدے جرنل بلڈ ایڈوانسز میں شائع تحقیق میں کورونا وائرس کی سطح پر موجود ایک پروٹین پر توجہ مرکوز کی گئی جسے ریسیپٹر بائنڈنگ ڈومین (آر ڈی بی) کہا جاتا ہے اور یہ وائرس کو میزبان خلیات سے منسلک ہونے میں کردار ادا کرتا ہے۔

لیبارٹری میں ہونے والی تحقیق میں ماہرین نے تجزیہ کیا کہ کس طرح آر ڈی پی اے، بی اور او بلڈ گروپس میں نظام تنفس اور خون کے سرخ خلیات سے رابطہ قائم کرتا ہے۔

نتائج سے ثابت ہوا کہ یہ پروٹین بلڈ اے گروپ والے نظام تنفس کے خلیات کو جکڑنے کے زیادہ ترجیح دیتا ہے تاہم اے گروپ کے سرخ خلیات یا دیگر خون کے گروپس کے نظام تنفس یا سرخ خلیات کو کوئی ترجیح نہیں دیتا۔

تحقیق میں کہا گیا کہ اس پروٹین کی جانب سے اے بلڈ گروپ کے مالک افراد کے پھیپھڑوں میں ٹائپ اے اینٹی جن کو ترجیح اور جڑنے سے اے بلڈ گروپ اور کووڈ 19 کے درمیان تعلق پر ممکنہ روشنی ڈال سکتا ہے۔

تحقیق میں شامل برگھم اینڈ ویمن ہاسپٹل کے ڈاکٹرین سین اسٹوویل نے بتایا کہ یہ دلچسپ ہے کہ وائرل آر بی ڈی نظام تنفس کے خلیات میں صرف بلڈ گروپ اے اینٹی جن کو ترجیح دیتا ہے، جس سے پتا چلتا ہے کہ وائرس کس طرح بیشتر مریضوں کے اندر داخل ہوکر انہیں بیمار کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خون کا گروپ ایک چیلنج ہے کیونکہ یہ موروثی ہے اور اس کو ہم تبدیل نہیں کرسکتے، مگر وائرس کے خون کے گروپس سے تعلقق کو اچھی طرح سمجھ کر نئی ادویات یا روک تھام کے طریقوں کو دریافت کیا جاسکتا ہے۔

تاہم محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے مکمل وضاحت یا پیشگوئی نہیں ہوتی کہ کورونا وائرس کس طرح مختلف بلڈ گروپس کے حامل افراد پر اثرانداز ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے مشاہدے سے یہ وضاحت ہوتی ہے کہ کس طرح خون کا گروپ کسی حد تک کووڈ 19 پر اثرانداز ہوتا ہے۔

اس سے قبل گزشتہ سال ستمبر میں بائیو ٹیکنالوجی کمپنی 23 اینڈ می کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ بلڈ گروپ اے کے حامل افراد میں اس وائرس سے متاثر ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے جبکہ بلڈ او گروپ کے حامل افراد میں اس کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

اس کمپنی کی جانب سے اس حوالے سے کافی عرصے سے تحقیق کی جارہی ہے جس کے ابتدائی نتائج جون میں جاری کیے گئے تھے، جس میں کہا گیا تھا کہ او گروپ کے حامل افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص کا امکان دیگر کے مقابلے میں کم ہوتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران 10 لاکھ سے زائد افراد کے جینیاتی تجزیے کیے گئے جبکہ جون میں جو نتائج جاری کیے گئے تھے وہ ساڑھے 7 لاکھ افراد کے تجزیے پر مشتمل تھے۔

اس سے قبل جولائی 2020 میں بھی ایک تحقیق بھی بتایا گیا تھا کہ او بلڈ گروپ والے مریضوں میں کووڈ 19 کی تشخیص کا امکان اے، بی یا اے بی کے حامل افراد کے مقابلے میں کسی حد تک کم ہوتا ہے۔

اس تحقیق میں 13 سو کے قریب کورونا وائرس کے مریضوں کے خون کے گروپس کا جائزہ لیا گیا تھا جو میساچوسٹس کے 5 ہسپتالوں میں مارچ اور اپریل کے دوران داخل ہوئے تھے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ او بلڈ گروپ کورونا وائرس ٹیسٹ کے مثبت آنے کا امکان کم کرتا ہے جبکہ بی اور اے بی ٹائپ میں سب سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے، اس کے مقابلے میں اے بلڈ گروپ کا وائرس کی تشخیص کے حوالے سے کوئی لنک سامنے نہیں آسکا۔

مارچ میں چین میں ہونے والی ایک تحقیق میں بھی کہا گیا تھا کہ اے بلڈ گروپ والے افراد میں کووڈ 19 کا شکار ہونے کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے جبکہ او بلڈ گروپ کے مالک افراد میں یہ خطرہ نمایاں حد تک کم ہوتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ مختلف بلڈ گروپس اور کووڈ 19 کے خطرے میں فرق ممکنہ طور پر خون میں موجود مخصوص اینٹی باڈیز کا نتیجہ ہے، تاہم اس کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

جون میں جرمنی اور ناروے کے سائنسدائنوں کی ایک تحقیق میں بھی بتایا گیا تھا کہ خون کا ایک مخصوص گروپ بھی اس وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کی شدت میں نمایاں اضافے کا باعث بنتا ہے۔

تحقیق کے مطابق اے بلڈ گروپ والے افراد میں کورونا وائرس کی سنگین ترین قسم کا خطرہ دیگر کے مقابلے میں زیادہ ہوسکتا ہے۔

تحقیق میں انسانی جینوم میں ایسے 2 مقامات دریافت کیے گئے جو کووڈ 19 کے شکار افراد میں نظام تنفس ناکام کرنے کا خطرہ بڑھاتے ہیں، ان میں سے ایک مقام اس جین میں تھا جو خون کے گروپ کا تعین کرتا ہے۔

تحقیق کے مطابق اے بلڈ گروپ کے حامل افراد میں کووڈ 19 ہونے کی صورت میں آکسیجن یا وینٹی لیٹر کی ضرورت کا امکان زیادہ ہوسکتا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں