اگر کوئی فرد کورونا کی 2 اقسام سے بیک وقت متاثر ہو تو پھر؟

05 مارچ 2021
— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

دنیا کے مختلف حصوں میں کورونا وائرس کی نئی اقسام حالیہ مہینوں میں سامنے آئی ہیں۔

مگر اب تک کوئی ایسا کیس سامنے نہیں آیا تھا جس میں کوئی فرد کورونا وائرس کی 2 مختلف اقسام سے بیک وقت متاثر ہوجائے۔

مگر اب برازیل کے سائنسدانوں نے ایسے 2 کیس رپورٹ کیے ہیں جو بیک وقت کورونا وائرس کی 2 مختلف اقسام سے بیمار ہوئے۔

اس تحقیق کے نتائج ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے بلکہ آن لائن جاری کیے گئے۔

محققین نے رپورٹ کیا کہ بظاہر 2 اقسام سے بیک وقت بیمار ہونے سے بیماری کی شدت پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہوئے اور دونوں مریض ہسپتال میں جائے بغیر صحتیاب ہوگئے۔

ویسے تو یہ صرف 2 کیسز ہیں مگر یہ پہلی بار ہے کہ جب کورونا کی 2 اقسام سے بیک وقت متاثر ہونے کو رپورٹ کیا گیا ہے۔

اس سے قبل سائنسدانوں نے نظام تنفس کے دیگر امراض جیسے انفلوائنزا کی مختلف اقسام سے بیک وقت متاثر ہونے کو ضرور ریکارڈ کیا ہے۔

دونوں مریضوں میں کورونا وائرس کی 2 مختلف اقسام کو دریافت کیا گیا تھا جو برازیل میں کافی عرصے سے گردش کررہی تھیں اور ان کا جینیاتی مواد ایک دوسرے سے مختلف تھا۔

اس دریافت سے یہ خدشہ پیدا ہوا کہ کورونا وائرس بہت تیزی سے نئی میوٹیشنز کو اپنالیتا ہے، کیونکہ کورونا وائرسز اپنے جینیاتی سیکونس میں بڑی تبدیلیوں سے گزرتے ہیں۔

جب اس کی 2 اقسام ایک خلیے کو بیک وقت متاثر کرتی ہیں تو وہ ایک دوسرے سے اپنے جینوم کے بڑے حصوں کا تبادلہ کرسکتی ہیں اور ایک مکمل نیا سیکونس تیار کرسکتی ہیں۔

ایسا آر این اے وائرسز میں دیکھا گیا ہے اور انفلوائنزا کی نئی اقسام ایک ملتے جلتے میکنزم ری ایسورٹمنٹ سے بنتی ہیں۔

اس میں جب 2 وائرسز کسی ایک خلیے کو متاچر کرتے ہیں تو ان کے حصے ایک دوسرے میں مل جاتے ہیں اور جینز کے نئے امتزاج پر مبنی وائرسز تیار ہوتے ہیں۔

کورونا وائرس میں صرف ایک آر این اے کی لڑی ہر وائرل ذرے میں ہوتی ہے اور آر این اے لڑیاں ہی اس طرح کے مکسچر سے بنتی ہیں۔

آسان الفاظ میں 2 اقسام کا ایک دوسرے سے ملنا ہی اس وائرس کی نئی اقسام کے بننے کا باعث بنتا ہے۔

مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ وائرس کی 2 اقسام ایک خلیے کو بیک وقت متاثر کریں، ورنہ ایک فرد متعدد اقسام سے متاثر ہو مگر ان کا آپس میں رابطہ نہ ہو تو نئی قسم بننے کا امکان نہیں ہوگا۔

اب تک جو شواہد سامنے آئے ہیں ان سے عندیہ ملتا ہے کہ ایک سے زیادہ اقسام سے بیمار ہونے سے بیماری کی شدت میں اضافہ نہیں ہوتا۔

تبصرے (0) بند ہیں