کووڈ ویکسینیشن کی سہولت کیلئے اقوام متحدہ کی اردو مہم کا آغاز

13 مارچ 2021
اقوام متحدہ کی جانب سے اس اقدام کا آغاز کیا گیا—فائل فوٹو:
اقوام متحدہ کی جانب سے اس اقدام کا آغاز کیا گیا—فائل فوٹو:

اقوام متحدہ نے کووڈ 19 ویکسین کی منصفانہ اور مساوی تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے پہلی مرتبہ اردو (اور دیگر 9 زبانوں میں) اپنی مہم کا آغاز کردیا۔

مزید یہ کہ پاکستان بھی وبا کو شکست دینے میں عالمی تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اس کوشش میں شامل ہوگیا ہے۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ نے کووڈ 19 ویکسین تک عالمی رسائی یا کوویکس کہلائی جانے والی مہم کے تحت ضرورت مندوں کو ویکسین کی فراہمی کے لیے عالمی اقدام کا آغاز کردیا۔

اس حوالے سے پاکستان کے اقوام متحدہ میں سفیر منیر اکرم کا کہنا تھا کہ ’ہمیں ویکسین کی فراہمی کے لیے کوویکس کی سہولت کی مکمل حمایت کرنی چاہیے‘۔

مزید پڑھیں: پاکستان کو کوویکس سے مارچ تک ایسٹرازینیکا کی 60 لاکھ خوراک مل جائیں گی، اسد عمر

انہوں نے دنیا پر زور دیا کہ وہ اس شارٹ فال کو دور کرنے کے لیے ’جلد از جلد‘ فنڈ کریں جو مہم کو اپنے مقصد تک پہنچنے سے روک رہا ہے۔

پاکستانی سفیر جو اقوام متحدہ کی اقتصادی اور سماجی کونسل (ایکوایس او سی) کے صدر بھی ہیں نے کہا کہ ’وائرس سے متاثرہ دنیا کی معیشت کی تیزی سے بحالی کے لیے وبا کو کنٹرول کرنا ضروری ہے‘۔

ادھر کوویکس کے ایک شراکت دار گاوی نے پاکستان کے لیے آسکفورڈ-ایسٹرا زینیکا کی کورونا ویکسین کی ساڑھے 4 کروڑ خوراکوں کی وصولی کا انتظام کیا ہے، جس کا ٹیکہ ساڑھے 4 کروڑ لوگوں کو لگایا جائے گا، یہ ویکسین بھارت میں تیار کی جارہی ہے۔

کوویکس عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)، گلوبل الائنس برائے ویکسینز اینڈ امیونائزیشن (گاوی)، کولیشن فار ایپیڈیمک پریپرڈنیس انوویشنز (سی ای پی آئی) اور یونیسیف کا ایک مشترکہ اتحاد ہے۔

اگرچہ اسے 190 حصہ لینے والے ممالک کی حمایت حاصل ہے تاہم رواں سال کے آخر تک سب سے زیادہ ضرورت مندوں کو ویکسین کی فراہمی کے اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لیے کوویکس کو اب بھی 2 ارب ڈالر سے زیادہ کی ضرورت ہے۔

امریکا کی جانب سے 4 ارب ڈالر کا وعدہ کیا گیا ہے اور وہ سب سے بڑا حکومتی ڈونر ہے، اس کے علاوہ نجی عطیات دہندگان میں شامل بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے 15 کروڑ ڈالر سے زیادہ کا وعدہ کیا ہے۔

علاوہ ازیں جمعرات کی شام کو نیویارک میں مختلف زبانوں کی مہم شروع کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے کہا کہ وائرس نے 25 لاکھ سے زیادہ افراد کو ہلاک کردیا جبکہ کروڑوں کو کمزوری کے ساتھ ساتھ طویل مدتی صحت کے اثرات کے ساتھ چھوڑ دیا۔

انہوں نے کہا کہ ’صرف ایک ساتھ مل کر ہی ہم اس وبا کا خاتمہ کرسکتے ہیں اور ان چیزوں پر واپس جاسکتے ہیں جس سے ہم پیار کرتے تھے‘۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں کورونا وائرس ویکسین لگانے کیلئے جامع پلان مرتب

مزید برآں اقوام متحدہ کی ڈپٹی سیکریٹری جنرل آمنہ جے محمد کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال میں ہم نے کھانا کھانے، گلے ملنے اور اسکول اور کام پر جانے سمیت ان چیزوں کو یاد کیا جو ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ پسند تھیں۔

انہوں نے دنیا پر زور دیا کہ تمام لوگوں کے لیے ویکسین کی دستیابی کے لیے مل کر کام کرے۔

واضح رہے کہ مختلف زبانوں میں شروع کی گئی مہم کا عنوان ’صرف ایک ساتھ‘ ہے، جسے اردو کے ہیش ٹیگ ’سب ایک ساتھ‘ کت ساتھ جاری کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک ساتھ ہم زندگی مزے دوبارہ لے سکیں گے، ہمیں یہ یقینی بنانا ہے کہ ہر ایک کو ویکسین ملے تاکہ ہم دوبارہ ویسے رہ سکیں جیسے ہم چاہتے ہیں۔


یہ خبر 13 مارچ 2021 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی

تبصرے (0) بند ہیں