احتیاط کیجیے، کورونا کی تیسری لہر پہلے سے زیادہ شدید ہے، وزیراعظم

28 مارچ 2021
وزیراعظم نے کورونا وائرس کے حوالے سے خصوصی پیغام دیا—فائل/فوٹو: عرفان احسن
وزیراعظم نے کورونا وائرس کے حوالے سے خصوصی پیغام دیا—فائل/فوٹو: عرفان احسن

وزیر اعظم عمران خان نے عوام سے کورونا وائرس کے حوالے سے ایس او پیز پر عمل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وائرس کی تیسری لہر پہلے دو کے مقابلے میں زیادہ شدت والی ہے اس لیے احتیاط کیجیے جبکہ دنیا میں ویکسین کی قلت ہوگئی ہے۔

قوم کے نام اپنے پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں نے کورونا کے خلاف ایک سال تک پوری احتیاط کی، کسی ریستوران میں کھانا نہیں کھایا، کسی شادی پر نہیں گیا، سماجی فاصلہ بھی رکھا اورماسک بھی پہنا ہوا تھا اور میں بچا رہا۔

مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا کے 11 اضلاع میں مکمل لاک ڈاؤن پر غور

انہوں نے کہا کہ کووڈ کی پہلی دو لہروں میں ان پاکستانیوں میں شامل تھا جو اس بیماری سے بچا ہوا تھا لیکن سینیٹ الیکشن میں مجھ سے وہ احتیاط نہیں ہوئی جو مجھے کرنی چاہیے اور مجھے بھی یہ وائرس ہوگیا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں آپ لوگوں کو جتنی تاکید کروں وہ کم ہے، موجودہ لہر پہلی دو سے زیادہ شدت والی ہے، اس لیے سب سے تاکید کرتا ہوں کہ احتیاط کی جائے اور ماسک پہنیں، یہ اس لیے ضروری ہے کہ اس سے بیماری کے کم خطرات ہوتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم اپنا ملک بند نہیں کر سکتے،لاک ڈائون نہیں کر سکتے، ہمارے پاس وہ وسائل نہیں ہیں کہ سب بند کر کے لوگوں کو کھانابھی دیں اور ان کا دھیان رکھیں بلکہ ہم سے امیرترین ممالک کے پاس بھی وسائل نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ملک کو بند تو نہیں کرسکتے ہیں لیکن لیے کم ازکم ایس او پیز پر پوری طرح عمل کریں اوردوسروں کو بھی کہیں کیونکہ کورونا کی تیسری لہر زیادہ شدت والی ہے اور کوئی پتہ نہیں ہے کدھر جاتی ہے اور ہمارے ہسپتال بھرے ہوئے ہیں اور یہ انگلینڈ سے آئی ہے، انگلینڈ سے لوگ لاہور، اسلام آباد اورپشاور میں آئے ہیں یہاں کیسز تیزی سے بڑھ ہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہاں لوگ وینٹی لیٹرز یا آکسیجن پر ہیں، پہلی لہر کے دوران نظم وضبط کی وجہ سے ہماری قوم دنیا میں مثالی تھی، خدا نخواستہ اسی شرح پر پھیل گیا تو ہمارے ہسپتال بھر جائیں گے۔

مزید پڑھیں: نیا ہاؤسنگ منصوبہ ملک کے مستقبل کے لیے اہم ہے، وزیراعظم

وزیراعظم نے کہا کہ دنیا میں کورونا ویکسین کی قلت ہوگئی ہے، کورونا ویکسین سے متعلق جو ہمیں دنیا نے کہا تھا وہ بھی ہمیں نہیں مل رہی،جو ملک کورونا ویکسین بناتے ہیں وہاں بھی ویکسین کی کمی ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہتر ہے ہم کورونا ایس او پیز پر عمل کریں، ریستوران اور شادیوں پر نہ جائیں، ہر چیز جہاں سے ہم دور رہ سکتے ہیں وہ کریں، ہم اپنا کاروبار اورفیکٹریاں بند نہیں کرسکتے لیکن ہم یہ ضرور کر سکتے ہیں کہ بند جگہوں پر جانے سے گریز کریں۔

وزیراعظم نے کہا کہ اللہ مجھ پر اور میری اہلیہ بڑا کرم کیا ہے لیکن میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ اگر یہ بیماری سینے پر چلی گئی تو بڑی خطرناک بیماری ہے، اس لیے آپ سے کہہ رہا ہوں کہ اس پر پوری احتیاط کریں۔

تبصرے (0) بند ہیں