فوج مخالف مظاہروں میں متحرک میانمار کے اداکار گرفتار

اپ ڈیٹ 08 اپريل 2021

ای میل

ینگ تاخون مظاہروں میں شریک ہوتے رہے ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی/ فیس بک
ینگ تاخون مظاہروں میں شریک ہوتے رہے ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی/ فیس بک

میانمار میں سیکیورٹی فورسز نے فوجی حکومت کے خلاف مظاہروں میں متحرک شوبز و معروف سیاسی و سماجی شخصیات کو گرفتار کرنے کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے مقبول اداکار و گلوکار کو بھی گرفتار کرلیا۔

میانمار میں رواں برس فروری میں فوج نے عوامی حکومت کا تختہ الٹتے ہوئے آنگ سانگ سوچی سمیت اہم حکومتی عہدیداروں کو بھی گرفتار کرلیا تھا۔

گزشتہ دو ماہ کے دوران فوجی حکومت نے تین ہزار کے قریب سیاسی، سماجی، شوبز و معروف شخصیات سمیت عام افراد کو گرفتار کیا ہے جب کہ فوجی قبضے کے خلاف جاری مظاہروں میں 600 کے قریب افراد ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔

8 اپریل کو بھی میانمار کے مختلف شہروں میں فوجی حکومت کے خلاف سخت مظاہرے کیے گئے، جنہیں روکنے کے لیے سیکیورٹی فورسز نے طاقت کا استعمال بھی کیا۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق 8 اپریل کو میانمار کی فوج نے میانمار اور تھائی لینڈ سمیت خطے کے دیگر ممالک میں شہرت رکھنے والے 24 سالہ اداکار، گلوکار و سوشل میڈیا اسٹار پینگ تاخون کو بھی گرفتار کرلیا۔

ینگ تاخون کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی بند کردیے گئے—فائل فوٹو: اے ایف پی
ینگ تاخون کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی بند کردیے گئے—فائل فوٹو: اے ایف پی

پینگ تاخون کی بہن نے تصدیق کی کہ ان کے بھائی کو فوجی قبضے کے خلاف جاری مظاہروں کی تحریک میں حصہ لینے کی وجہ سے 8 اپریل کو گرفتار کیا گیا۔

پینگ تاخون کے سوشل میڈیا پر 10 لاکھ سے زائد فالوورز ہیں اور وہ میانمار میں فوجی قبضے کے خلاف سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ متحرک تھے۔

پینگ تاخون نہ صرف آن لائن فوجی مخالف مظاہروں میں متحرک تھے بلکہ وہ گزشتہ دو ماہ کے دوران متعدد مظاہروں میں شریک بھی ہوئے اور انہوں نے کم از کم 100 شوبز شخصیات کو فوج مخالف تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے پر بھی تیار کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف تحریک کی فنڈنگ کیلئے آن لائن مہم شروع

میانمار میں جہاں عام افراد اور سیاسی کارکنان فوجی حکومت کے خلاف مظاہروں میں متحرک ہیں، وہیں شوبز شخصیات بھی جمہوریت کی بحالی کے لیے آواز اٹھاتی دکھائی دیتی ہیں۔

حال ہی میں تھائی لینڈ میں ہونے والے ’مس گرینڈ انٹرنیشنل 2020‘ کے مقابلوں کے دوران مس گرینڈ میانمار ہان لے نے بھی فوجی قبضے پر بات کرکے دنیا کی توجہ اپنے ملک کی جانب مبذول کروائی تھی۔

ہان لے نے اگرچہ مقابلہ حسن نہیں جیتا مگر پلیٹ فارم پر اپنے ملک اور وہاں پر عوامی حکومت کے تختے الٹنے کی بات کرنے کی وجہ سے انہیں کافی شہرت ملی۔

میانمار میں فروری سے لے کر شدید مظاہرے جاری ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی
میانمار میں فروری سے لے کر شدید مظاہرے جاری ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی

اے بی سی نیٹ کے مطابق ہان لے نے اپنے خطاب میں دنیا سے میانمار کی مدد کرنے کی اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ آج ان کے ملک میں انسانیت کا خون ہو رہا ہے اور دنیا کو برمی عوام کی مدد کرنی چاہیے۔

ہان لے بھی فوج مخالف ہونے والے مظاہروں میں شریک ہوتی رہی ہیں اور وہ آن لائن بھی عوامی حکومت کی بحالی کے لیے کردار ادا کرتی رہتی ہیں۔

اداکار و ماڈل ینگ تاخون کی گرفتاری کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ حکومت مزید متحرک شوبز شخصیات کو بھی گرفتار کرے گی۔

حال ہی میں تھائی لینڈ میں ہونے والے مقابلہ حسن میں میانمار کی حسینہ نے بھی فوج مخالف بیان دیا تھا—فوٹو: ہان لے ٹوئٹر
حال ہی میں تھائی لینڈ میں ہونے والے مقابلہ حسن میں میانمار کی حسینہ نے بھی فوج مخالف بیان دیا تھا—فوٹو: ہان لے ٹوئٹر